کرشن چندر کے افسانہ سے گھبرائی حکومت! ’جامن کا پیڑ‘ اسکولی نصاب سے باہر

کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو جامن کے پیڑ کے نیچے دب جاتا ہے اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے بچانے کے لیے پورا محکمہ سرگرم نظر آتا ہے لیکن سبھی ذمہ داری ایک دوسرے پر ٹالتے رہتے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

آئی سی ایس ای ہندی کے نصاب سے مشہور و معروف افسانہ نگار کرشن چندر کا افسانہ ’جامن کا پیڑ‘ ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ ایک طنزیہ افسانہ ہے جس میں سرکاری نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کس طرح افسران ذمہ داریوں کو ایک دوسرے پر ڈالتے رہتے ہیں۔ انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ نے کسی خاص ذرائع سے یہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک ’خاص ریاست‘ کے افسران نے ’جامن کے پیڑ‘ افسانہ پر اعتراض ظاہر کیا جس کے بعد اس طرح کا قدم اٹھایا گیا ہے۔

دراصل یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو جامن کے پیڑ کے نیچے دب جاتا ہے اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے بچانے کے لیے پورا محکمہ سرگرم نظر آتا ہے لیکن سبھی یہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ٹالتے رہتے ہیں اور فائل ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں گھومتی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ وزیر اعظم دفتر تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ افسانہ میں افسران، وزارتوں اور پھر وزیر اعظم دفتر کا جس طرح تذکرہ کیا گیا ہے، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ موجودہ دور کی عکاسی کر رہا ہے۔ کرشن چندر کے اس افسانہ سے غالباً سرکاری عملہ اتنا خوفزدہ ہو گیا کہ آئی سی ایس ای کے نصاب سے اس کو نکلوانے کے لیے پورا زور لگا دیا۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ کہانی 2015 سے ہندی نصاب کا حصہ تھا۔ کرشن چندر نے یہ کہانی حالانکہ 60 کی دہائی میں لکھی تھی لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ افسران اسے موجودہ حکومت کی تنقید کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ آئی سی ایس ای کونسل کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق 2020 اور 2021 کے بورڈ امتحانات میں اس کہانی سے جڑے سوال نہیں پوچھے جائیں گے۔ کونسل کے سکریٹری گیری اراتھون نے اس فیصلے کے بارے میں ’دی ٹیلی گراف‘ کو بتایا کہ کہانی کو نصاب سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ یہ دسویں کے بچوں کے لیے مناسب نہیں تھی۔ حالانکہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کیوں ہے یا کہانی کو لے کر کس بات پر اعتراض ہے۔

افسانہ ’جامن کا پیڑ‘ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کہانی ایک شاعر کی ہے۔ شاعر اس جامن کے درخت کے نیچے دب جاتا ہے جو کہ سکریٹریٹ کے لان میں لگا ہوا ہے اور آندھی طوفان کی وجہ سے گر جاتا ہے۔ لان کا مالی دبے ہوئے شخص کو بچانے کی پیش قدمی کرتا ہے۔ وہ اس بارے میں چپراسی کو جانکاری دیتا ہے۔ چپراسی ہی معاملہ کلرک پر چھوڑ دیتا ہے۔ معاملہ بلڈنگ سپرنٹنڈنٹ تک پہنچتا ہے اور ایسے ہی بڑھتے ہوئے اعلیٰ افسروں تک پہنچ جاتا ہے۔ درخت کے نیچے دبا شخص خود کو بچانے کی اپیل کرتا رہتا ہے اور معاملہ چار دن بعد چیف سکریٹری تک پہنچتا ہے۔ اس کے بعد دوبارہ سے ایک دوسرے پر ذمہ داریاں تھوپنے کا دور چلتا ہے۔ معاملہ محکمہ زراعت، جنگلات سے لے کر محکمہ ادب و ثقافت تک پہنچتا ہے۔ محکمہ ادب و ثقافت کے پاس اس لیے معاملہ پہنچتا ہے کیونکہ دبا ہوا شخص شاعر ہے۔

کہانی میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ محکمہ ادب و ثقافت کا افسر موقع پر پہنچتا ہے اور اس کتاب کی تعریف کرتا ہے جس کی وجہ سے شاعر کو ایوارڈ مل چکا ہے۔ حالانکہ وہ شاعر سے یہ بھی کہتا ہے کہ اسے بچانا اس کا کام نہیں ہے۔ اس کے بعد فائل ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے پاس پہنچتی ہے جو اسے وزارت خارجہ کے پاس بھیج دیتا ہے۔ وزارت خارجہ درخت کاٹنے سے انکار کر دیتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اس سے پڑوسی ملک سے رشتوں پر اثر پڑے گا۔ پھر یہ معاملہ وزیر اعظم دفتر تک پہنچتا ہے۔ افسران سے رائے مشورہ کرنے کے بعد پی ایم شخص کی جان بچانے کے لیے درخت کو کاٹنے پر متفق ہوتے ہیں، بھلے ہی اس سے سفارتی رشتوں پر اثر پڑے۔ حالانکہ جب تک بلڈنگ سپرنٹنڈنٹ یہ حکم پاتا ہے، اس وقت تک دبے شخص کی موت ہو جاتی ہے۔

Published: 5 Nov 2019, 5:58 PM