امرتا پریتم کے اعزاز میں گوگل نے بنایا ڈوڈل

امرتا پریتم کی تحریر کا جادو آج بھی لوگوں کے سر چڑھ کر بولتا ہے اور ان کا نام آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے۔ اپنی بہترین تحریروں کی وجہ سے وہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: گوگل نے اپنی تحریروں سے لوگوں کے دل و دماغ پر نقش چھوڑنے والی مشہور پنجابی مصنفہ امرتا پریتم کی 100 ویں جینتی پر ان کے اعزاز میں اپنے ہوم پیج پر ان کا خوبصورت ڈوڈل بنایا ہے۔

امرتا پریتم کی پیدائش غیر منقسم ہندوستان کے پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ (اب پاکستان میں) میں 31 اگست 1919 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے لاہور میں اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور ان کی زندگی کا بیشتر وقت وہیں گزرا تھا۔ انہیں نوجوانی ہی میں شاعری، کہانی، ناول اور مضامین لکھنے کا بہت شوق تھا۔ جب وہ 16 سال کی تھیں تب ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ شائع ہوا تھا۔

ہندوستان-پاکستان تقسیم پر لکھی گئی ان کی شاعری ’اج آنكھن وارث شاہ نو‘ بہت مشہور ہے۔ اس نظم میں ملک کی تقسیم کے وقت پنجاب میں ہوئے خوفناک واقعات کا درد بیان کیا گیا ہے۔ سرخیوں میں چھائے ناول ’پنجر‘ ہندوستان-پاکستان کی تقسیم کے پس منظر پر مبنی ہے جس پر 2002 میں بالی ووڈ میں اسی نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔

گوگل نے اپنے ہوم پیج پر امرتا پریتم کے اعزاز میں ڈوڈل بنانے کے لئے ان کی مشہور خود نوشت ’کالا گلاب‘ کا حوالہ لیا ہے۔ ڈوڈل میں امرتا پریتم کو ایک گھر کے صحن میں بیٹھ کر لکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اور ان کے سامنے گلاب کے کچھ پھول پڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مصنفہ نے’کالا گلاب‘ میں اپنی زندگی سے جڑے کئی تجربے کھل کر اشتراک کیے ہیں۔

امرتا پریتم نے اپنی زندگی میں 100 سے زائد کتابیں لکھی تھیں اور انہیں پنجابی زبان کی پہلی شاعرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں اتنی مشہور ہیں کہ ان کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ امرتا پریتم کو ملک کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ’ پدم وبھوشن‘ بھی ملا تھا اور انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ 1986 میں انہیں راجیہ سبھا کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ ان کا 21 اکتوبر 2005 کو انتقال ہو گیا تھا۔

امرتا پریتم کی تحریر کا جادو آج بھی لوگوں کے سر چڑھ کر بولتا ہے اور ان کا نام آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے۔ اپنی بہترین تحریروں کی وجہ سے وہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

Published: 31 Aug 2019, 4:10 PM