کشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور کہنہ مشق شاعر حامدی کشمیری کا انتقال

کشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور کہنہ مشق شاعر و ادیب حامدی کشمیری نے 86 بہاریں دیکھ کر بدھ کی رات کے آخری پہر کو سرینگر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر داعی اجل کو لبیک کہا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سرینگر: کشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور کہنہ مشق شاعر و ادیب حامدی کشمیری انتقال کرگئے ہیں۔ مرحوم نے زندگی کی 86 بہاریں دیکھ کر بدھ کی رات کے آخری پہر کوسرینگر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر داعی اجل کو لبیک کہا۔

حامدی کشمیری اردو اور کشمیری زبان کے نابغہ روزگار شاعر و ادیب تھے۔ آپ نے دونوں زبانوں کی خدمت اور ترویج کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں ہیں۔

مرحوم حامدی کشمیری نے کم و بیش 50 کتابیں تصنیف وتالیف کی ہیں جن میں معاصر تنقید، ریاست جموں وکشمیر میں اردو ادب، جدید کاشر شاعری، شیخ العالم اور شاعری خاص طور پر قابل ذ کر ہیں۔

حامدی کشمیری کو اردو اور کشمیری زبان و ادب کی خدمات کے تئیں غالب ایوارڑ اور سال 2005 میں ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ سےنوازا گیا۔ علاوہ ازیں حکومت ہند نے مرحوم کو سال 2010 میں ملک کے تیسرے بڑے سیول ایوارڈ پدم شری سے بھی سرفراز کیا۔

قابل ذکر ہے کہ حامدی کشمیری کی رحلت سے وادی کے علمی وادبی حلقوں میں مایوسی اور ماتم کی فضا سایہ فگن ہوئی ہے۔ ادباء و شعرا کا ماننا ہے کہ حامدی کشمیری کی رحلت سے وادی کے علمی و ادبی دبستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جس کا پُر ہونا گرچہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کشمیری کی رحلت سے پیدا ہوئی خلا کو پورا کرنے میں سالہا سال لگ سکتے ہیں۔