تبصرہ: بنگال سے پنجاب اور دہلی سے میسور تک ’غداروں کی کارستانیاں‘

انگریزوں کی تان پر رقص کرنے والوں میں ایک قوم، ایک مذہب یا ایک خطے کے ساکنان نہیں تھے بلکہ وطن عزیز کے ہرگوشے میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے کے لیے تمام حدیں پار کردیں تھیں

کتاب ’غداروں کی کارستانیاں‘ کا سرورق
کتاب ’غداروں کی کارستانیاں‘ کا سرورق
user

قومی آوازبیورو

ڈاکٹر محمد نعیم امروہوی

ڈاکٹر محمد شاہد صدیقی (علیگ ) بحیثیت مؤرخ جانے جاتے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے بھی ان کی کئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی تاریخی کاوش ’جنگ آزادی کے سرخیل‘ جس میں انہوں نے ہندوستان کے گمنام مجاہدین آزادی کو مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی حال ہی میں ایک کتاب ’غداروں کی کارستانیاں‘ 1757ء تا 1857ء کے تناظر میں ‘منظر عام پر آئی ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب تاریخی دستاویز کے اعتبار سے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ مصنف نے مواد کی فراہمی میں جس طرح تلاش وجستجو اور احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے اس سے کتاب کے مستند ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔

یہ کتاب 1757ء تا 1857 ء یعنی ایک صدی پر محیط ہے۔ جس دور میں غداران وطن کی کالی کرتوتوں سے ارض ہند جلیل قدر مغلیہ سلطنت سے نکل کر ایک تجارتی فرم ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ مصنف نے معروضات کی ابتدا جس شعر سے کی ہے اس نے ہی پوری کتاب کا احوال پیش کر دیا ہے کیونکہ جب ہم تاریخ پڑھتے ہیں تو ہم صرف اپنے ماضی کا ہی نہیں بلکہ اپنے مستقبل کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است برجریدہ عالم دوام ما

موصوف نے اس کتاب میں صوبہ بنگال، جنگ بکسر، ریاست خداد داد (میسور)، تحریک سید احمد شہید، سقوط دلّی، جھانسی، غدار فرمانروا والیانِ ریاست، ( پنجاب، راجپوتانہ، وسطی ہند)، اور دیگر ریاستوں میں رونما ہونے والے واقعات پر گہری نظر ڈالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ گوئی میں نہ تو مبالغے سے کام لیا جا سکتا ہے اور نہ ذاتی تجربات اور اختراع کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی روش پر مصنف گامزن نظر آتے ہیں ان کی تخلیق میں جتنے بھی غداران وطن کا تذکرہ ہوا ہے وہ کسی کہانی یا افسانے کے کردار نہیں بلکہ یہ وہ ضمیر فروش لوگ تھے جنہوں نے مادہ پرستی میں اندھے ہوکر انگریزوں کے ساتھ مل کر مکرو فریب کے تانے بانے بنے یعنی کھیت ہی باڑھ کو کھا گئی۔

انگریزوں کی تان پر رقص کرنے والوں میں ایک قوم یا ایک مذہب یا ایک خطے کے ساکنان نہیں تھے بلکہ وطن عزیز کے ہر گوشے میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے کے لیے تمام حدیں پار کر دیں اور رشتوں ناطوں، تعلقات، اخوت اور لحاظ و مروت سب کو بالائے طاق رکھ دیا، جس کے نتیجے میں ہندوستانی عوام کو برادران وطن کی لاشوں پر سے گزرنا پڑا۔

مصنف نے تصنیف میں غداروں کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اسے پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ عارضی دنیا کی چاہت میں انسان کس حد تک گر سکتا ہے۔ پیسے کی کھنک، سونے کی چمک اور منصب کی طلب میں بھائی بھائی کو تختہ دار تک پہنچا دیتا ہے اور ماتھے پہ شکن تک نہیں آتی۔

کتاب کا اجمالی تجزیہ انتہائی اہم ہے جس میں متعدد پوشیدہ پہلوؤں کو سامنے لانے کی جسارت کی گئی ہے کہ کس طرح ہندوستانی ضمیر فروشوں، ایمان فروشوں اور درباری راگ گانے والوں نے ہندوستان کو طشتری میں سجاکر تاجران فرنگ کو سونپ دیا۔ اس کتاب کا پیش لفظ ایمریٹس پروفیسر محمد عرفان حبیب اور پشت پر پروفیسر بی۔ شیخ علی نے اپنے خیالات کا اظہار جن جملوں میں کیا ہے ان سے کتاب کی اہمیت اور افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

مصنف نے اپنے خیالات و اظہار کا بیان نہایت بیباکی کے ساتھ کیا ہے ان کی یہ کتاب کسی بھی مذہب یا قبیلے کو مورد الزام نہیں ٹھہراتی بلکہ وہ غدارکوئی بھی ہو، کسی بھی خطے کا ہو، اس کو بے خوف ہوکر قلم زد کیا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر قلم اٹھانے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔ میں مصنف ڈاکٹر شاہد صدیقی (علیگ) کے عزم و استقلال کا قائل ہوں کہ انہوں نے اس پر آشوب ماحول میں کتاب کا ایسا عنوان رکھا کہ جس کی وجہ سے ان کو پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، سونے پہ سہاگہ یہ کہ انہوں نے غداران وطن کو بے خوف وخطر معہ حوالاجات کے ساتھ منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب کسی معجزہ سے کم نہیں ہے۔

موصوف نے کتاب کو سادہ اور سلیس انداز میں تحریر کیا ہے جس میں محاورات اور ضرب المثل کا بھی بر محل استعمال کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے کتاب میں دلچسپی کے عنصر پیدا ہوگئے ہیں۔ حادثات اور واردات کی ایسی منظر کشی کی گئی ہے کہ گویا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرے ہوں۔ حالات و واقعات کو اس طرح لڑی میں پرویا گیا ہے کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نگارش جداگانہ ہے جس میں مصنف نے بہت ہی محتاط ا ور عادلانہ انداز اختیا رکیا ہے۔ بحیثیت مورخ ایک تاریخ داں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عادلانہ، منصفانہ، واقعات و حادثات کو جیوں کا تیوں بیان کرے، تاکہ ماضی سے حال اور مستقبل میں سبق حاصل کیا جاسکے اور انسانی زندگی کو زیادہ باشعور بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کتاب میں ان سب باتوں کا بخوبی خیال رکھا ہے۔ انہوں نے ببانگ دہل سوت کو سوت اور ریشم کو ریشم لکھا ہے۔ میں ان کی اس ہمت اورعزم کو سلام کرتا ہوں۔

کتاب کا سرورق نہایت دیدہ زیب تصویر سے مزین، عمدہ کاغذ اور بہت مناسب قیمت پر دستیاب ہے۔ امید ہی نہیں مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب تاریخی، علمی وادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کرے گی۔ میں ڈاکٹر محمد شاہد صدیقی (علیگ) کو ان کی اس قابل رشک کوشش اور تاریخی دستاویز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جو زندگی کے دوسرے امور سے سنجیدہ سروکار رکھتے ہوئے بھی اپنی علمی اور تاریخی ذوق وشوق سے کبھی دور نہیں ہوتے۔ ساتھ ہی امید کرتا ہوں کہ انشااللہ مستقبل میں بھی مصنف اس طرح کی کتابیں تحریر کرکے قارئین کے علم میں اضافہ کرتے رہیں گے۔

پسندیدہ ترین
next