رام جنم بھومی-بابری مسجد کا سچ: تہ در تہ رازوں سے پردہ ہٹاتی کِتاب

’’صحافی شیتلا سنگھ مندر-مسجد تنازع کے شروع سے آخر تک مراحل کے شاہد رہے، مصالحت کی بہت سی کوششوں میں آگے آگے رہے لیکن ہندو تنظیموں نے تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: رام جنم بھومی – بابری مسجد تنازعے کے بارے میں فیض آباد کے ہندی روزنامہ "جن مورچہ" کے ایڈیٹر شیتلا سنگھ کی ہندی کتاب "اجودھیا : رام جنم بھومی – بابری مسجد کا سچ" پہلی بار اس مسئلے کے تہ در تہ رازوں سے پردہ ہٹاتی ہے۔ اب یہ غیر معمولی کتاب اردو میں ’’رام جنم بھومی-بابری مسجد کا سچ‘‘ کے عنوان سےدستیاب ہے۔

ممتاز صحافی شیتلا سنگھ مندر-مسجد تنازع کے شروع سے آخر تک مراحل کے شاہد رہے، مصالحت کی بہت سی کوششوں میں آگے آگے رہے لیکن وی ایچ پی ، آر ایس ایس اور ان سے ملحق تنظیموں نے ان تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا کیونکہ وہ اس مسئلے کو سیاسی طور پر استعمال کرنا چاہتی تھیں۔ اس سب واقعات کو مصنف نے اس کتاب میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

مصنف نے اپنی کتاب میں 22-23 دسمبر 1949 کی رات شری رام کی مورتی کے بابری مسجد میں "پرکٹ" ہونے سے لے کر 12 دسمبر 1992 تک مسجد کے انہدام تک کے واقعات کا تفصیل سے بلکہ بہت سے واقعات کے عین شاہد کے طور سے بیان کیا ہے۔

مصنف کے مشاہدات کا خلاصہ ہے کہ مسجد-مندر تنازعہ درحقیقت آزادی کے فوراً بعد اترپردیش کی کانگریس پارٹی کی اندرونی سیاست اور اقتدار کی لڑائی کا نتیجہ ہے۔ مرکز یعنی جواہرلال نہرو ممتاز سوشلسٹ لیڈر اچاریہ نریندر دیو کو اتر پردیش کا وزیراعظم (بعد میں وزیر اعلیٰ) بنانا چاہتے تھے جب کہ گوبند بلبھ پنت اس کے دعویدار تھے۔ پنت نے مصنوعی طور سےیہ مسئلہ پیدا کرکے اچاریہ نریندر دیو اور ان کے طاقتور گروپ کو حاشیے پر لگا دیا۔ بہت سے کانگریسی، جیسے سوامی اکشے برہمچاری،اس سیاست کے خلاف تھے لیکن پنت اور ان کے حامیوں کے سامنے ان کی نہیں چلی۔

یوں یہ مسئلہ ایک گمبھیر تنازعے میں تبدیل ہوا اور بالآخر کانگریس پارٹی ہی کو کھا گیا۔ بعد کے تمام مراحل جیسے شیلا نیاس ، مسجد کا تالا توڑنے اور بالآخراس کے انہدام میں کانگریس نے سیاسی فائدے کے لیے فرقہ پرستوں کا ساتھ دیا۔ 273 صفحات پر مشتمل یہ کتاب بہت تفصیل سے ان سارے واقعات کا بے لاگ طریقے سے احاطہ کرتی ہے۔ مصنف کےبہت سے واقعات کے عینی شاہد ہونے کی وجہ سے کتاب کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

مسجد-مندر تنازع کے دوران مختلف فرقاء کے مواقف اور پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی کتاب ابتک نہیں آئی ہے۔کتاب معروف ناشر فاروس میڈیا نے شائع کی ہے جس نے معیاری اور صاف ستھری اردو، انگریزی اور ہندی کتابوں کے شائع کرنے میں ایک نام کمالیا ہے۔

فاروس میڈیا جلد ہی انگریزی کی معروف صحافیہ نیلوفر سہروردی کی ایک کتاب شائع کرنے والا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہندوتوادی طاقتوں نے ذرائع ابلاغ کا بے دریغ استعمال کرکے رام مندرکا مسئلہ کھڑا کیا اور اسے سیاسی طور پر استعمال کیا۔

Published: 29 Oct 2019, 10:10 PM