پروفیسر شمیم حنفی: ایک نابغہ فن نہ رہا...

ترقی پسند تحریک، جدیدیت، فکر اقبال اور معاصر ادبی رویے پر کھل کر بات کرنے میں شمیم حنفی نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آفتاب احمد منیری

اس دور پر آشوب میں جب ایک ایک کر کے دنیائے علم و ادب علمی شخصیات سے خالی ہوتی جا رہی ہے، پروفیسر شمیم حنفی کا رخصت ہو جانا محفل ادب کو ویران کر گیا ہے۔ جدید ادبی تنقید کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے شمیم حنفی نے اردو ڈرامہ اور شاعری کی دنیا میں بھی اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مٹی کا بلاوا، بازار میں نیند اور مجھے گھر یاد آتا ہے جیسے یادگار ڈرامہ اور آخری پہر کی دستک جیسا نایاب شعری مجموعہ ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

ترقی پسند تحریک، جدیدیت، فکر اقبال اور معاصر ادبی رویے پر کھل کر بات کرنے میں شمیم حنفی نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اردو تدریس سے وابستہ رہ کر موصوف نے ہزاروں تشنگان ادب کو مئے نوش کے آداب سکھائے۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی آپ کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پروفیسر ایمریٹس کی حیثیت سے شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے منسلک رہتے ہوئے شمیم حنفی نے دہلی اور بیرون دہلی سینکڑوں ادبی اجتماعات میں کلیدی خطبات پیش کیے۔


بحیثیت طالب علم مجھے بھی ان کے پرمغز علمی خطبات سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔ ہم نے اردو کے بہت سے ادیبوں کو برسر اسٹیج بولتے سنا لیکن چند ناموں کو چھوڑ کر کسی کو بہتریب خطیب نہیں پایا۔ لیکن پروفیسر شمیم حنفی کی بات ہی کچھ اور تھی۔ ادب کے اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود ان کی گفتگو کا انداز نہایت سادہ اور دلچسپ ہوتا۔

عام طور پر کسی ادبی نظریہ سے منسلک افراد اپنے مخصوص نظریات کے حوالے سے حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں اور افکار و نظریات کی حمایت میں بات کرتے ہوئے لوگوں کی کردارکشی بھی کر جاتے ہیں۔ لیکن شمیم حنفی اس معاملے میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ میں نے کبھی ان کی زبان سے دوران گفتگو کوئی ناشائستہ لفظ نہیں سنا۔


مشہور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض ان کے پسندیدہ شاعر تھے۔ اکثر فیض شناسی کے جلسوں میں آپ اپنی فکر انگیز گفتگو سے سامعین کو مسحور کر دیتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ’غالب انسٹی ٹیوٹ‘ کے ایک پروگرام میں موصوف فیض کی انقلابی شاعری پر اظہار خیال فرما رہے تھے۔ اس درمیان علامہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا ذکر نکل آیا۔ آپ نے برجستہ طور پر فرمایا ’’فیض احمد فیض اپنی تمام تر شاعرانہ عظمتوں کے باوجود علامہ اقبال کی شاعرانہ رفعتوں کے آس پاس بھی نہیں پہنچتے۔‘‘

اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شمیم حنفی مشرقی شعری روایات اور اردو کے عظیم شاعروں کا کس قدر احترام کرتے تھے۔ آپ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بحیثیت استاذ ایک طویل عرصہ گزارا۔ اس اعتبار سے انھیں استاذالاساتذہ بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ شعبہ اردو کے بیشتر اساتذہ نے ان سے شرف تلمذ حاصل کیا ہے۔ جامعہ کی تاریخ اور اس کے ارتقاء سے متعلق ایک اہم ترین پروجیکٹ پروفیسر مشیرالحسن کے دور میں منظور ہوا۔ اس اہم ترین پروجیکٹ کو ترتیب دینے کی ذمہ داری بھی شمیم حنفی صاحب کو تفویض کی گئی۔ آپ نے اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ تحریک، تاریخ، روایت کے عنوان سے چار جلدوں میں ایک تاریخی دستاویز کی تکمیل کر کے ایک عظیم ادارہ کی تاریخ سے نسل نو کو متعارف کرانے جیسا مہتم بالشان کارنامہ انجام دیا۔


پروفیسر شمیم حنفی کا شمار اردو کے ممتاز ترین نقادوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے ادبی تنقید کے موضوع پر متعدد مقالات علمی تصنیف کیے۔ ان کتابوں میں جدیدیت کی فلسفیانہ اساس، نئی شعری روایت، تاریخ تہذیب اور تخلیقی تجزیہ، اردو ثقافت اور تقسیم کی روایت، خیال کی مسافت اور قاری سے مکالمہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔

بحیثیت ادبی ناقد مشرقی شعریات پر ان کی نگاہ بہت گہری تھی۔ خصوصیت کے ساتھ شاعر مشرق اقبالؔ کے فکری مباحث کا مطالعہ انھوں نے بہت باریک بینی کے ساتھ کیا تھا۔ وہ نہایت اعتماد کے ساتھ اقبال کی شاعرانہ عظمت کے معترف تھے۔ اس ضمن میں ان کی کتاب ’اقبال اور عصر حاضر کا خزانہ‘ سے یہ اقتباس نشان راہ کی حیثیت رکھتا ہے:

’’اقبال ہماری فکری روایت کے سب سے بڑے مفسر تھے۔ اپنی آگہی اور وسعت فکر کے لحاظ سے اقبال کا کوئی پیش رو اور کوئی ہم عصر ان کے رتبے کو نہیں پہنچتا۔ اردو کی فلسفیانہ روایت اور اجتماعی فکر کا نقطہ عروج ہمیں اقبال کی شاعری اور نثر میں نظر آتا ہے۔‘‘


اردو تنقید کے ساتھ ساتھ شمیم حنفی شاعری اور فنون لطیفہ سے بھی غیر معمولی وابستگی رکھتے تھے۔ دنیا کی بے ثباتی کلاسیکی شاعری کا اہم ترین موضوع رہا ہے۔ اس حوالے سے بھی شمیم حنفی بہت سنجیدگی کے ساتھ پرورش لوح و قلم کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے مرحوم والدین کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے نظم بعنوان ’مرحوم والدین کے نام‘ لکھی تھی۔ نظم کے اشعار یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ان کا مطالعہ کائنات کتنا وسیع تھا۔ نظم کے ان اشعار کے ساتھ میں شمیم حنفی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں:

ایک دن مسمار ہو جائیں گی آوازیں تمام

ایک دن ہر بات احساس زیاں تک جائے گی

میں بھی کھو جاؤں گا آخر آنسوؤں کے سیل میں

یہ اندھیری شام جب کوہ گراں تک جائے گی

اے خدا! اس مشعل گم گشتہ کو محفوظ رکھ

روشنی اس کی مرے نام و نشاں تک جائے گی

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔