ادبیات

’ہر بار ہی انعام مخالف کو ملا ہے، تقدیر نے تدبیر کو توڑا ہے مسلسل‘، بٹلہ ہاؤس دہلی میں مشاعرہ کا انعقاد

اوکھلا کے بٹلا ہاؤس علاقہ میں مشہور شاعر ثمریاب ثمرؔ کے اعزاز میں ایک آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد ہوا جس کی صدارت بزرگ و استاد شاعر جناب ساز دہلوی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض سراج طالب نے انجام دئے۔

تصویر: پریس ریلیز

پریس ریلیز

نئی دہلی(پریس ریلیز): گزشتہ رات (10 جنوری) اوکھلا اسمبلی حلقہ کے بٹلا ہاؤس میں مشہور شاعر ثمریاب ثمرؔ کے اعزاز میں ایک آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت بزرگ و استاد شاعر جناب ساز دہلوی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض سراج طالب نے انجام دئے۔

اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور عام آدمی پارٹی لیڈر عارض خان نمبردار موجود رہے۔محفل مشاعرہ کا انعقاد نوجوان شاعر بلال بدری کی کاوشوں سے ہوا جو شام 5 بجے سے رات 10بجے تک چلا اس موقع پر شمع افروزی مشہور شاعر خمار دہلوی اور مجیب قاسمی کے ہاتھوں عمل میں آئی۔

مشاعرہ کا آغاز یوسف میرٹھی کی نعت پاک سے ہوا۔ اس موقع پر نمبردار عارض خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جہاں ان کا پُرزور استقبال کنوینر مشاعرہ بلال بدری نے کیا۔ عارض خان نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کے ادبی پروگراموں سے معاشرہ میں اچھا پیغام جاتا ہے اور شاعروں اور ادبا نے ہمیشہ سے معاشرہ کی اصلاح و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ انہیں اس پروگرام میں شرکت کرکے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔ دیگر شرکا میں اختر اعظمی، سلمان رہبر لدھیانوی، حسان احسن بہار، شیرو حسین آبادی اور اکرم راہی شامل رہے۔

مشاعرہ کے منتخب اشعار درج ذیل ہیں:

  • وہ پرندے ہیں برے وقت میں اڑ جاتے ہیں، ہم شجر اپنی زمینیں نہیں چھوڑا کرتے.. ثمریاب ثمر
  • ہر بار ہی انعام مخالف کو ملا ہے، تقدیر نے تدبیر کو توڑا ہے مسلسل.. بلال بدری
  • رہتا ہے ساتھ شور بھی کچھ ٹوٹ پھوٹ کا، چلت نہیں ہے آندھی کبھی خامشی کے ساتھ.. نوید انجم مظفر نگری
  • اپنے ہاتھوں ہی لٹا بیٹھے تمدن کی اساس، قدر ہم کر نہ سکے دولت آبائی کی.. ساز دہلوی
  • عشق مذہب ہے مرا عشق عبادت میری، مجھ سے ملنا ہے جسے عشق نگر میں آئے.. خمار دہلوی
  • سراج آزادیوں نے مجھکو آوارہ بنا ڈالا، چلو اپنے لئے ہاتھوں سے اک پنجرہ بناتے ہیں.. سراج طالب سراج

ان کے علاوہ ساجد حیدر ،شعیب طالب،حسان احسن کشن گنجوی وغیرہ نے بھی اپنا کلام سنایا۔ مشاعرے کے اختتام پر صدر مشاعرہ جناب سازدہلوی نے اپنے صدارتی خطبے میں اردو ادب کو درپیش مسائل اور مشکلات پر گفتگو کی اور ان ادب کو درپیش مسائل کے حل کی تدابیر اور طریقئہ کار بیان کیا۔ مشاعرہ کے اختتام پر کنوینر مشاعرہ جناب بلال بدری نے شعرائ و سامعین کا شکریہ ادا کیا اور ان کی جانب سے پرزور عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔