شمس الرحمن فاروقی کا سانحہ ارتحال: ’زبان و ادب کے روشن افق پر اچانک ایک آفتاب غروب ہو گیا‘

’’جو آیا ہے تو اسے جانا ہی ہے لیکن شمس الرحمن فاروقی کا سانحہ ارتحال بالکل ایسا ہے جیسے زبان و ادب کے روشن افق پر اچانک ایک آفتاب غروب ہو گیا ہو‘‘

شمس الرحمن فاروقی / تصویر یو این آئی
شمس الرحمن فاروقی / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

پروفیسر شمس الرحمن فاروقی اردو ادب میں ”جدیدیت“ کا سب سے نمایاں نام تھے۔ پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ انہوں نے اپنی تنقیدی نگارشات کے ذریعہ اردو ادب میں ایک نئے تنقیدی رویے کی داغ بیل ڈالی۔ اپنے ادبی رسالے ”شب خون“ کے ذریعے انہوں نے ہماری ادبی صحافت کو ایک نئی سمت اور رفتار ہی عطا نہیں کی بلکہ اپنی سرپرستی میں اردو زبان و ادب کو نئے تخلیق کاروں کی ایک مؤقر اور معتبر تعداد فراہم کی۔ انہوں نے اردو فکشن میں اپنی تخلیقات سے گہرے نقوش اور اثرات مرتب کیے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ وہ ایک ایسے نابغہ عصر تھے جن کی نظر مغرب اور مشرق کے کلاسیکی اور جدید ادبی سرمایے اور رجحانات پر غیرمعمولی تھی۔

پروفیسر واسع نے کہا کہ جو آیا ہے تو اسے جانا ہی ہے لیکن شمس الرحمن فاروقی کا سانحہ ارتحال بالکل ایسا ہے جیسے زبان و ادب کے روشن افق پر اچانک ایک آفتاب غروب ہو گیا ہو۔ ہم ان کے پسماندگان اور تمام اردو والوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں اور خدائے بزرگ و برتر سے ملتمس ہیں کہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے شعبہ اردومیں پروفیسر معین الدین جینابڑے نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تعقل، تدبر، تحمل اور بردباری فاروقی صاحب کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ میرے نزدیک ان کا شمار ان ذی علم دانشوروں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں بلامبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے علمی، ادبی اور تخلیقی سرمایے میں اضافہ کیا ہے۔ فاروقی صاحب کی رحلت صرف اردو معاشرے کا نقصان نہیں،بلکہ عالمی سطح پر دنیائے علم وادب نے ایک نابغۂ روزگار کھویا ہے۔

کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں سینئراسسٹنٹ پرفیسر پرویزاحمداعظمی نے شمس الرحمن کے انتقال پر اظہارتعزیت کرتے ہوئے کہاکہ فاروقی صاحب کی رحلت سے اردو ادب کے ایک عہد خاتمہ ہو گیا۔ ایک ایسا ادیب جس نے اپنے رسالے شب خون سے اردو ادب میں جدیدیت کی راہیں ہموار کیں۔ نہ جانے کتنے نئے قلم کاروں کی ذہن سازی کی۔ ایسا مطالعہ کہ مجھ جیسے عش عش کرتے رہیں۔ الٰہ آباد میں ان کی رہائش پر حاضری دینے پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ رہائش ہے یا کتب خانہ!یہ صرف ایک ادیب کی وفات نہیں بلکہ ایک عہد زریں کا خاتمہ ہے۔ اردو ادب کا ایسا رمز شناس کہ دنیا نے ان کی علمیت کا لوہا تسلیم کیا۔ انھوں نے ہمارے ذہنوں کو جھنجھوڑا، منور کیا اور ہمیں مطالعے کا سبق سکھایا۔

شب خون کے مشمولات، تنقید اور تحقیق کے حوالے سے ان کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ اردو کی ادبی دنیا کے لیے ایسا خسارہ ہے کہ اس کی بھرپائی نا ممکن ہے۔مغربی بنگال ریاستی یونیورسٹی میں اردوکے اسسٹنٹ پروفیسر رضی شہاب نے بھی شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ فاروقی صاحب سے ملاقات، سوالات اور ان کے مشورے یاد آ رہے ہیں۔ اب روز مرہ، لفظ اور ان کی سند کے لیے کس سے رجوع کریں گے۔ ایسے ناتلافی نقصان پر اپنے ذاتی رنج و غم کا اظہار کرتا ہوں اور اپنی نم آنکھوں سے انھیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

سینئرصحافی معصوم مرادآبادی نے انکے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عہدساز ناول نگار اور نقاد شمس الرحمن فاروقی کے انتقال سے اردو ادب کے ایک توانا عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ شمس الرحمن فاروقی کا طویل علالت کے بعد جمعہ کی صبح 85 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next