افتخار امام صدیقی کی رحلت، ادبی صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ: پروفیسر شہپر رسول

شعبہ اردو کے استاد پروفیسر ندیم احمد نے افتخار امام صدیقی کے شہرہ آفاق رسالہ ’شاعر‘ کی جدت و انفرادیت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی رحلت کو موجودہ ادبی صحافت کا ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔

تصویر بشکریہ ہارمونی انڈیا ڈاٹ اوآرجی
تصویر بشکریہ ہارمونی انڈیا ڈاٹ اوآرجی
user

یو این آئی

نئی دہلی: ماہنامہ ’شاعر‘ ممبئی کے مدیر اعلی اور ممتاز شاعر افتخار امام صدیقی کی رحلت کو ادبی صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے سابق صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ و سابق وائس چیئرمین دہلی اردو اکادمی اور عہد حاضر کے ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ افتخار امام صدیقی عہد حاضر کے ادبی صحافت کے افتخار، جدید ادبی لہروں کی اشاعت کے امام اور اردو شعر و ادب کے عاشق صادق تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں افتخار امام صدیقی کے سانحہ ارتحال پر منعقدہ تعزیتی نشست میں کیا۔

قائم مقام صدر شعبہ، معروف شاعر پروفیسر احمد محفوظ نے گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افتخار امام صدیقی کے مشہور زمانہ رسالہ ’شاعر‘ کا نام عہد ساز رسالہ ’شب خون‘ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اس قدر پابندی، مستعدی، نئی آوازوں اور نئے چہروں کو ادبی دنیا سے روشناس کرانے کا جذبہ، خصوصی گوشوں اور خصوصی شماروں کے علاوہ اپنے وسیع تر سرکولیشن کے حوالے سے شاید ہی اردو کا کوئی اور ماہنامہ ’شاعر‘ کا ہمسر ہو۔

صدر شعبہ اردو اور معروف محقق و نقاد پروفیسر شہزاد انجم نے اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ افتخار امام صدیقی کا شمار ادبی دنیا کے ان مشفق بزرگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے شان دار ادبی صحافت کی ایک انوکھی نظیر قائم کی۔ ان کا امتیاز یہ بھی تھا کہ وہ نئے لکھنے والوں کی حد درجہ خلوص کے ساتھ قدر افزائی کرتے تھے۔

اردو تنقید میں اپنا ایک مختلف اور منفرد زاویہ نظر رکھنے والے ناقد، شاعر اور فکشن نگار پروفیسر کوثر مظہری نے افتخار امام صدیقی کو ایک عہد ساز شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ایک اچھے شاعر تھے اور ان کی ادب نوازی کی مثال اب اس دور میں ناپید ہے۔ بحیثیت مدیر شاید ہی کوئی دوسرا شخص اپنے لکھنے والوں اور قارئین سے اس قدر مستحکم رابطہ رکھتا ہو۔

ممتاز فکشن نگار پروفیسر خالد جاوید نے شدید اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر محبت کرنے والے مخلص اور نئے لکھنے والوں کو حوصلہ بخشنے والے بزرگ اب رخصت ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ شعبہ اردو کے استاد اور ادیب و نقاد پروفیسر ندیم احمد نے افتخار امام صدیقی کے شہرہ آفاق رسالہ ’شاعر‘ کی جدت و انفرادیت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی رحلت کو موجودہ ادبی صحافت کا ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔

نئی نسل کے نمائندہ محقق اور نقاد ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے افتخار امام صدیقی کی سنجیدہ ادبی وابستگیوں اور غیرمعمولی مدیرانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شعر و ادب اور ادبی صحافت انھیں ورثے میں ملی تھی اور انھوں نے اس شان دار وراثت کو بخوبی فروغ دیا۔ آن لائن تعزیتی نشست میں پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ثاقب عمران اور ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی نے بھی افتخار امام صدیقی کی وفات پر شدید غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔