طارق شبنم، افسانہ نگاری اور مضمون نگاری میں خاص شناخت کا حامل کشمیری قلمکار...جمال عباس فہمی

طارق شبنم کی خاصیت ہے کہ وہ کشمیر کے قدرتی حسن کو بیان کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیتے اور کشمیر کے آشوب زدہ حالات پر لکھنے سے بھی دامن نہیں بچاتے

طارق شبنم، کشمیری قلمکار / تصویر جمال عباس فہمی
طارق شبنم، کشمیری قلمکار / تصویر جمال عباس فہمی
user

جمال عباس فہمی

کشمیر میں اردو ادب کی قلمی خدمت کرنے والوں کا ایک بڑا کارواں ہے۔ اردو ادیبوں کا یہ کارواں جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہے۔۔اس کارواں میں شامل اہل قلم مختلف اصناف میں قلمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اردو ادب کی کوئی ایسی صنف نہیں ہے جس میں کشمیر کے اردو قلمکار ادبی سرمایہ میں اضافہ نا کر رہے ہوں۔ طارق شبنم بھی ایک ایسے ہی قلم کار ہیں جو افسانہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے اپنی ایک خاص شناخت رکھتے ہیں اور اپنی جنبش قلم کے ذریعے افسانوی ادب کے سرمایہ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

طارق شبنم کی دو تصانیف اب تک منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ایک انکے طبع زاد افسانوں کا مجموعہ ہے اور دوسری تصنیف دیگر افسانہ نگاروں کی منتخب تخلیقات کا مجموعہ ہے۔ ان کی دونوں کتابوں کو کشمیر اور کشمیر سے باہر شرف پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔

طارق شبنم کا اصل نام طارق احمد شیخ ہے اور ان کا تعلق کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے ’اجس‘ کے ایک زمیندار اور تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ والد شیخ محمد یاسین تجارت کرتے ہیں اور علاقے کی سربرآوردہ شخصیت ہیں۔ 8 نومبر 1970 کو پیدا ہونے والے طارق شبنم کی بنیادی تعلیم گاؤں کے سرکاری اسکول میں ہوئی۔ انہوں نے گھر سے 16 کلو میٹر دور واقع ہائیر سیکنڈری اسکول بانڈی پورہ میں مزید تعلیم حاصل کی۔ زرعی یونیورسٹی کشمیر سے ہارٹیکلچرمیں ڈپلومہ حاصل کیا اور وہ ریاست کے محکمہ ہارٹی کلچر میں ملازم ہیں۔

ادبی ذوق نے طارق کے اندر اسکول کے دنوں سے ہی جڑیں جما لی تھیں، ابتدا اخبارات میں کالم نگاری سے ہوئی اور رفتہ رفتہ طبیعت افسانہ نگاری کی جانب مائل ہوئی۔ افسانہ نگاری کا آغاز 2010 میں ہوا۔ ان کا پہلا افسانہ ’مجبوری‘ ’ہند سماچار‘ میں شائع ہوا اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ افسانے لکھتے رہے اور کشمیر، شمالی ہند، پاکستان اور جرمنی تک کے معیاری رسائل ان کے افسانے شائع کرتے رہے۔ 2020 میں انہوں نے اپنے 27 افسانوں کو یکجا کر کے ’’گم شدہ دولت‘ کے عنوان سے مجموعہ، افسانوں کے باذوق پڑھنے والوں کے سامنے پیش کر دیا، جو کافی مقبول ہوا۔

کشمیر اپنے قدرتی حسن اور دلفریب و جاذب نظر مناظر کے لئے شہرت رکھتا ہے لیکن اس کا ایک اور روپ بھی ہے جو دیکھنے اور سننے میں بڑا دردناک، المناک اور دہشت ناک ہے۔ طارق شبنم کی خاصیت ہے کہ وہ کشمیر کے قدرتی حسن کو بیان کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیتے اور کشمیر کے آشوب زدہ حالات پر لکھنے سے بھی دامن نہیں بچاتے۔ طارق شبنم جب کسی پلاٹ پر افسانے کی عمارت تعمیر کرتے ہیں تو زبان و بیان کی سادگی اور سلاست کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جب وہ وادی کے برف پوش پہاڑوں، سبزہ زاروں، میدانوں، ندیوں اور آبشاروں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا قلم کچھ اس طرح حسن بکھیرتا ہے:


افسانہ द्वاندھیرے اجالے‘ کا یہ اقتباس دیکھئے:

" ارے واہ ۔۔کتنا حسین دل موہ لینے والا سماں ہے۔ یہ باغ یہ گلستان کتنا خوبصورت ہے۔ یہ رنگ برنگے پھول، یہ سر سبز پتوں والے درخت، یہ ننھی منی کونپلیں، سبز مخملی چادر جیسا بچھونا، یہ نیلے پانی کا جھرنا، یہ فلک بوس دلکش پہاڑیاں، واقعی یہ کوئی جنت کا ٹکڑا ہے۔‘‘

اور جب وہ وادی کے لوگوں کی عدم سلامتی، عدم تحفظ اور دہشت ناکی کو دیکھتے ہیں تو ان کا قلم بے ساختہ حالات کو بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ افسانہ ’دہشت کے سائے‘ میں انہوں نے خوف و دہشت کے ماحول کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا ہے۔ منظر کشی تو ایسے کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کی آنکھوں کے سامنے پورا منظر آجاتا ہے۔

''بونہ گام کے لوگ روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ بزرگ دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھ کر گپ شپ کر رہے تھے اور حقے سے بھی لطف اندوز ہو رہے تھے۔ عورتیں پانی بھر رہی تھیں۔ بازار میں گہما گہمی تھی۔ فوج کی ٹکڑی بازار سے گزری تو گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ رات کی تاریکی چھائی تو خوف اور ڈر نے گاؤں کے گرد ہالہ بنا لیا۔ عادل مرزا کو باہر سے آوازیں آ رہی تھیں۔ کتے بھونک رہے تھے۔ مرغیوں کی تیز آواز گونج رہی تھی۔ گاؤ خانے میں بندھے جانور بھی شور مچا رہے تھے۔ عادل مرزا باہر نکل کر دیکھنا چاہتا تھا لیکن بیوی نے منع کیا اور یاد دہانی کرائی کہ رجب چچا حاجت بشری کے لیے باہر نکلا تھا آج تک اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اذان ہوئی تو عادل مرزا باہر نکلا اور دیکھ کر حیران ہوا کہ جنگلی درندوں نے درجنوں مویشیوں کی چیر پھاڑ کرنے کے علاوہ سینکڑوں مرغے مرغیوں کو غائب کر لیا۔ ایک بزرگ سے پتا چلتا ہے کہ کل شام صاحب لوگ لائسنس یافتہ بندوق لے کر شکار کھیلنے نکلے تھے۔‘‘


طارق شبنم ختم ہوتی انسانی اقدار اور مذہبی اقدار سے انسان کی دوری سے بھی مضطرب ہیں۔ اقدار کے انحطاط کو وہ انسان کی گونا گوں مشکلات کا سبب گردانتے ہیں۔ افسانہ 'گم شدہ دولت' کا یہ اقتباس طارق شبنم کی حساس طبیعت اور گہرے مشاہدے کی عکاسی کرتا ہے۔

’’دھرتی پر آباد تمام فرقوں سے وابستہ انسان قدرتی آفاقی اصولوں سے روگردانی کر کے اپنے ہی وضع کردہ خود غرضانہ اور فرسودہ اصولوں کے تابع زندگی گزارنے کی احمقانہ غلطی کے بسبب ذہنی و دلی سکون کی انمول نعمت کو کھو بیٹھے ہیں، جسے واپس حاصل کرنے کے لیے اگرچہ یہ سخت جتن کر رہے ہیں لیکن اپنی روش بدلنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔‘‘

طارق شبنم نے ایک ادبی کارنامہ یہ انجام دیا ہے کہ دیگر قلمکاروں کے منتخب افسانوں کو یکجا کر کے بازوق افراد کی ادبی تشنگی دور کرنے کے لئے پیش کر دیا ہے۔ ’منتخب افسانے‘ کے عنوان سے طارق شبنم نے ’افسانہ ایونٹ 2020‘ میں شامل افسانوں کو کتابی شکل میں مرتب کیا ہے۔ اس ایونٹ کا اہتمام ’وُلر اردو ادبی فورم کشمیر‘ نے کیا تھا۔ جس میں اسلم جمشید پوری، دیپک کنول اور تنویر احمد تماپوری جیسے غیر کشمیری فکشن نگاروں نے بھی اپنے افسانے پیش کئے تھے لیکن بیشتر افسانہ نگار کشمیری تھے۔ اس افسانوی مجموعے میں 41 قلمکاروں کے 45 افسانے شامل ہیں۔ منتخب افسانوں کے اس کلیکشن کو بہت پزیرائی حاصل ہوئی اور اہل ذوق نے اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

طارق شبنم سماجی اور ادبی طور پر بہت فعال ہیں۔ وہ ریاست اور عالمی سطح کی مختلف ادبی اور ثقافتی تنظیموں اور اداروں سے منسلک ہیں، جن میں ولر اردو ادبی فورم بانڈی پورہ کشمیر، اردو اکادمی جموں کشمیر اور عالمی افسانہ فورم خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ طارق شبنم کے تحریر کردہ افسانوں کا ایک اور مجموعہ ’بے سمت قافلے‘ کے عنوان سے زیر ترتیب ہے۔ اہل ذوق کو اس مجموعے کا بے صبری سے انتظار ہے۔


Published: 06 Aug 2022, 11:11 AM