آسمان ادب کے آفتاب عالم تاب تھے شمس الرحمٰن فاروقی

وہ نابغہ روزگار دانشور تھے جن کی دانشوری کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ وہ اردو زبان و ادب کا رشتہ ہندوستان کی ڈھائی ہزار سالہ قدیم لسانی اور ادبی تاریخ سے جوڑتے تھے

شمس الرحمن فاروقی / تصویر یو این آئی
شمس الرحمن فاروقی / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

حیدرآباد: شمس الرحمن فاروقی اردوکے آسمانِ ادب کے آفتابِ عالم تاب تھے۔ وہ ہمارے عہد کے سب سے بڑے نقاد، ادیب اور دانشور تھے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، کارگزار شیخ الجامعہ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے جناب شمس الرحمن فاروقی کی رحلت پر اپنے تعزیتی پیغام میں کیا۔

یونیورسٹی کے تشکیلی دور سے ہی ان کی رہنمائی حاصل رہی اور مختلف مواقع پر انہوں نے اپنے پر مغز خطبات سے بھی مستفید کیا۔ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی پیش کی گئی تھی۔ ان کی وفات سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ ہم یونیورسٹی کی جانب سے ا ن کے اعزہ ولواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار انچارج پروفیسر صدیقی محمد محمود نے اس سانحے پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اردو زبان اپنے ایک مایہ ناز سپوت سے محروم ہو گئی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب کی موت کے ساتھ ہی اردو شعر و ادب اور تنقید و تحقیق کے ایک سنہرے باب کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کی ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اردو میں جدیدیت کے رجحان کے بانی تھے۔

انھوں نے ”شب خون“ جیسا رجحان ساز پرچہ مسلسل چالیس برس تک نکالا جو اپنے عہد کے سب سے زیادہ معیاری رسائل میں شمار کیا جاتا تھا۔انھوں نے اردو میں داستان گوئی کی صنف کے احیامیں نمایاں کردرا دا کیا۔وہ شعر شور انگیز، تفہیم غالب، اردو کا ابتدائی زمانہ، کئی چاند تھے سر آسماں کے علاوہ دودرجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی قابلیت و صلاحیت کے معترف ان کے مخالفین بھی تھے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

ڈین، اسکول براے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات اور صدر شعبہ اردو پروفیسرمحمد نسیم الدین فریس نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے ممتاز نقاد، محقق، فکشن نگار اور سخن ور محترم شمس الرحمن فاروقی کی وفات سے اردو زبان و ادب کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ان کی شخصیت نہایت پہلودار اور کثیرالجہت تھی۔

انھوں نے تنقید، تحقیق اور تخلیق تینوں میدانوں میں فکر و نظر کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ رجحان ساز نقاد، دیدہ ور محقق اور زرخیز تخئیل کے مالک تخلیق کار تھے۔ ان کی ذہانت اور فطانت ہمیشہ شعر و ادب کی تفہیم و تحسین اور تعین قدر کے نئے زاویے تلاشتی اور تراشتی تھی۔ وہ نابغہ روزگار دانشور تھے جن کی دانشوری کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ وہ اردو زبان و ادب کا رشتہ ہندوستان کی ڈھائی ہزار سالہ قدیم لسانی اور ادبی تاریخ سے جوڑتے تھے۔

وہ اس رشتے پر نہ صرف اصرار کرتے تھے بلکہ اس پر فخر بھی کرتے تھے۔ وہ مشرقی شعریات کے متبحر عالم اور دانشِ مغرب کے مزاج داں تھے۔ فاروقی صاحب کی عبقری شخصیت عالمِ اردو کے لیے فی الواقع شمس کے مثل تھی۔ ان کی رحلت سے ادب کی دنیا اپنے جگمگاتے سورج سے محروم ہو گئی ہے اور فکر و فن کی راہیں تاریک ہو گئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next