انسانی جذبات سے بھری ہے پریم چند کے افسانوں کی دنیا... یوم پیدائش پر خاص

پریم چند کی تخلیقی دنیا اس قدر وسیع اور متنوع ہے کہ ان کی تقریباً سبھی تخلیقات انسانی جذبات کو چھو جاتی ہیں۔ کچھ لوگ ان کے ناقد ہو سکتے ہیں لیکن وہ بھی ان کی تحریری سادگی کے شیدائی ہیں۔

پریم چند ہمارے ملک کی مٹی میں اس قدر رچے بسے ہوئے ہیں کہ ملک کے کسی بھی گوشے میں کسی بھی تھوڑے بہت پڑھے لکھے شخص سے، چاہے وہ کسی بھی عمر کا ہو، پوچھ سکتے ہیں اور وہ آپ کو ضرور بتائے گا کہ پریم چند کی لکھی کون سی کہانی اس کی پسندیدہ ہے۔ زیادہ تر بچے ’عیدگاہ‘ کو اپنا پسندیدہ افسانہ بتاتے ہیں تو کچھ ’دو بیلوں کی کتھا‘ کو۔

بالغ اشخاص کی پسند کچھ الگ ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ’گودان‘ کا نام لیں یا ’کفن‘ یا پھر ’بڑے گھر کی بیٹی‘ کا۔ ان کی تخلیقی دنیا اس قدر وسیع اور متنوع ہے کہ تقریباً سبھی تخلیقات انسانی جذبات کو چھو جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو ان کی ’حقیقت پسندی‘ سے پرہیز ہو سکتا ہے لیکن ایسے لوگ بھی ان کی تحریری سادگی اور گہرائی کے شیدائی ہیں۔

تو پریم چند کے ذریعہ لکھی گئی آپ کی سب سے پسندیدہ کہانی کون سی ہے، اور کیوں؟

معروف شاعر، مصنف اور صحافی پریہ درشن نے بتایا کہ ان کی پسندیدہ کہانی ہے ’پنچ پرمیشور‘۔ حالانکہ وہ بھی اسی کشمکش میں پھنسے رہے کہ کون سی کہانی کا نام لیں، کیونکہ ایسی بہت سی پریم چند کی کہانیاں ہیں جو انھیں بہت پسند ہیں۔ لیکن انھوں نے اسی کہانی کو کیوں منتخب کیا، پوچھنے پر وہ کہتے ہیں ’’مجھے ’پنچ پرمیشور‘ بہت اچھی لگتی ہے، شاید بوڑھی خالہ کی وجہ سے، جس کا ایک جملہ ہم سب کا امتحان لیتا رہتا ہے... ’’بگاڑ کے ڈر سے ایمان کی بات نہ بولو گے بیٹا؟‘‘

ہندی کے استاذ پلّو کہتے ہیں کہ ’’پریم چند کی پہلی یاد اسکول کی ہی ہے جب کہانی ’عیدگاہ‘ پڑھی تھی۔ آج بھی وہ کہانی حیرت انگیز لگتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ’پریم چند‘ نے ہندوستانی افسانوی روایت کو زبردست طریقے سے بدلا۔ ہمارے یہاں افسانوں میں ہیرو راجہ یا نام نہاد اعلیٰ طبقہ کے لوگ ہوتے تھے۔ پریم چند نے اس تخت پر غریب، اناتھ اور پسماندہ حامد کو بٹھا دیا۔ یہ بڑا کام تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کہانی کہنے کا فن، کرداروں کو اونچائی بخشنا اور عدم دستیابی کے باوجود زندگی کی مستی نہ کھونے دینا پریم چند کا فن ہے۔ ’عیدگاہ‘ بچوں کے انسانی حقوق کے تئیں ہمیں حساس بناتی ہے اور غریبی جیسے سوال کو پھر کھڑا کرتی ہے۔‘‘

صحافی عمران خان کی سب سے محبوب کہانی ہے ’منتر‘۔ ایک غریب آدمی کا بیمار بیٹا اس لیے مر جاتا ہے کیونکہ ڈاکٹر گولف کھیلنے میں مصروف ہے۔ لیکن جب ڈاکٹر کے بیٹے کو سانپ کاٹ لیتا ہے اور اس غریب آدمی کو پتہ ہے کہ وہ اس کا علاج کر سکتا ہے تو وہ اپنے بیٹے کا بدلہ لینے اور اپنا فرض نبھانے کے درمیان کشمکش میں پھنس جاتا ہے اور بالآخر بھلائی کی جیت ہوتی ہے۔

شاعر اور صحافی ویمل کمار کو پریم چند کی دو کہانیاں بہت پسند ہیں، ’نشہ‘ اور ’بڑے بھائی صاحب‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’بڑے بھائی صاحب تو مجھے عالمی سطح کی کہانی لگتی ہے۔ کیا زبردست افسانوی انداز ہے، کیا شاندار روانی۔ ایک چھوٹا بھائی فیملی کے اندر ہی تعمیری قوت کو پکڑتا ہے۔ چھوٹے بھائی کی نفسیات اسی تعمیری قوت میں جنم لیتا ہے۔ پریم چند ہر طرح کے اقتدار کو مقامی اور زمینی سطح پر دیکھتے ہیں اور فیملی اس کی اکائی ہے۔ ’نشہ‘ بھی اسی اقتدار کے نفسیات کی کہانی ہے۔ یہ ہندوستانی نفسیات نہیں بین الاقوامی نفسیات ہے۔‘‘

معروف شاعر منگلیش ڈبرال پریم چند کی ’پوس کی رات‘ اور ’بڑے بھائی صاحب‘ کے درمیان کشمکش میں رہتے ہیں، لیکن آخر کار ’بڑے بھائی صاحب‘ کو چنتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق ’’یہ کہانی دو بھائیوں کے رشتے کی کہانی ہے۔ بچپن کا دلچسپ تذکرہ ہے اور تعلیمی نظام پر ایک سنجیدہ تبصرہ۔‘‘ اس سے پہلے شاید ہی کسی افسانہ نگار نے ایسے ذاتی پلاٹ کو منتخب کیا۔ بلکہ بعد کے افسانہ نگاروں نے تعلیم پر یا بچپن پر جو کہانیاں لکھیں، اس میں ’بڑے بھائی صاحب‘ کا عکس ضرور دکھائی دے جاتا ہے۔‘‘

یہ تو ہوئی دانشوروں کی بات۔ اب آپ سوچیے، آپ پریم چند کے ذریعہ لکھی گئی آپ کی سب سے پسندیدہ کہانی کون سی ہے اور کیوں؟ شاید یہ فکر آپ کو پریم چند کی اہمیت کا احساس ایک بار پھر کرا جائے۔

سب سے زیادہ مقبول