منٹو... ہر روز یاد کیے جانے والے فنکار

سعادت حسن منٹو کو فحش نگاری کے الزام میں تقریباً 6 بار عدالت تک گھسیٹا گیا لیکن کوئی بھی معاملہ ثابت نہیں ہوپایا اور وہ باعزت بری ہو گئے۔

سعادت حسن منٹو کی آج 106ویں سالگرہ ہے۔ منٹو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ہر سال ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات پر رسمی طور سے انہیں یاد کیا جاتا ہے ۔ لیکن منٹو محض وقت پر یا رسمی طور پر یاد کئے جانے والی شخصیت  نہیں ہیں۔ ان کی تخلیقات اور شخصیت ہندستان اور پاکستان کی مشترکہ وراثت کی یادوں میں ایک درد بن کر ابھرتے رہیں گے اور ان تمام جانے انجانے لوگ کی تکلیفات کو یاد دلاتے رہیں گے جنہیں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔

کہانیاں ، ریڈیو پلے، فلمی کہانی اورخاکہ لکھنے والے منٹو کی تخلیقات میں طنز ، شدت  اور بے چینی نظر آتی تھی۔ ان کے کرداروں کا تانا بانا اور موضوع خود ان کی پینی نظر اور حساسیت کا آئینہ دار ہے۔

اپنے زمانے کی فلمی ہستیوں پر ان کی تحریروں میں شاندار سینس آف ہیومر (مذاحیہ) کو ظاہر کرتا ہے، جو فلمی ستاروں کے گلیمر اور تڑک بھڑک کے برعکس ان کا انسانی پہلو سامنے لاتا ہے۔ وہ پہلو جو عام لوگوں کی طرح کمزوریوں اور بدکاریوں سے پُر ہے تو  نیکیوں اور اچھایوں سے بھی بھرا ہوا ہے۔

تقریباً 6 دفعہ انہیں فحش مواد پھیلانے کے الزام میں عدالت تک گھسیٹا گیا لیکن کوئی بھی معاملہ ثابت نہیں ہوپایا۔ اپنی دوست اور بے باک مصنفہ عصمت چغتائی کی طرح وہ بھی بس وہی لکھ رہے تھے جو سماج کی حقیقت تھی۔ یہ وقت وہ تھا جب تہ در تہ ہمارے سماج کا دوگلاپن ، مذہبی بنیادپرستی اور وحشی پن ابھر کر منظر عام پر آ رہی تھی۔ تقسیم ہندکے دوران نہ جانے کتنے افراد در بدر ہوئے ، بے شمار قتل ہوئے، لٹے اور نہ جانے کتنی خواتین غیر انسانی رویہ کی شکار ہوئیں۔ ہندی کی سینئر ناول نگارکرشنا سوبتی نے ایک انٹرویو میں  ذکر کیا ہے کہ اس نسل کے لوگ تقسیم کے سانحہ پر نہ بات کرنا چاہتے اور نہ ہی اپنے خاندان کے ان افراد، ان خواتین، لڑکیوں اور بچوں کے نام زبان پر لانا چاہتے جو اس وقت ظلم و ستم کے شکار ہوئے تھے۔ وہ اپنی یادوں سے سب کچھ نکال دینا چاہتے ہیں، گویا ان پر کبھی کوئی قہر ٹوٹا ہی نہیں۔

ہمارے برتاؤ اور رد عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ منٹو ہی وہ مصنف تھے جنہوں نے تقسیم کے درد سے منہ نہیں موڑا بلکہ اسے جوں کا توں ہمارے سامنے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ملک کو راتوں رات تقسیم کرنے کا فیصلہ کتنا بے معنی ، بے وجہ تھا ، اس کا اثرعام لوگوں پریہ ہوا ،کہ وحشیانہ تشدد نہ مٹنے والا داغ ہمارے یادوں کا ایک حصہ بن گیا۔آج ہم عجیب قسم کی اندھی فرقہ پرستی کا شکار ہو گئے ہیں جس میں دلتوں، خواتین اور مسلمان یعنی جو بھی کمزور ہو اسے مارنے اور ظلم کا شکار بنانے کے واقعات ہر روز بروز رونما ہو رہےہیں ۔ ایسے میں منٹو کو کسی خاص موقع پر نہیں بلکہ ہر روز یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ یاد کیا جانا چاہئے کہ کس طرح پر تشدد دور میں لوگ نامید ہو گئے تھے اور حیوان بن گئے تھے۔ ہمیں یہ یاد کرنا چاہئے کہ وہ کہانیاں پھر نہیں دہرانی جو منٹو نے تحریر کیں اور جن کی حقیقت ہمیں آج بھی بے چین کردیتی ہیں۔ اگر ہم منٹوں کی تخلیقات اور ان میں چھپے ایک بکھرتے سماج کے درد کو یاد کرتے رہیں تو امید ہے کہ تہذیب، ثقافت اور تاریخ کے نام پر روزانہ دئیے جا رہے غیر ضروری بیانات اور پر تشدد واقعات کے بیچ ٹھہر کر کچھ سوچ اور سمجھ سکیں اور اپنی عقل سلیم کا استعمال کر سکیں ۔ جس کی وجہ سے مذہب، ذات اور مرد  عورت سے علیحدہ ہم انسان کہلاتے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول