’مذہب چھوڑ سکتا ہوں لیکن اردو نہیں‘ اردو کا حقیقی عاشق آنند نارائن ملا

ملا کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے لئے کئی انعامات اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ 1964 میں انکی شعری خدمات کے لئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور باوقار ادبی ایوارڈ اقبال سمان سے بھی نوازا گیا

<div class="paragraphs"><p>اردو کا حقیقی عاشق آنند نارائن ملا</p></div>

اردو کا حقیقی عاشق آنند نارائن ملا

user

جمال عباس فہمی

’’اردو میری مادری زبان ہے میں مذہب چھوڑ سکتا ہوں لیکن اردو نہیں چھوڑ سکتا‘، یہ جرت مندانہ قول کسی عام شخص کا نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اسی کی زبان سے ادا ہو سکتا ہے جو حقیقی معنیٰ میں ملک کی سیکولر اقدار کا علمبردار ہو، قومی یکجتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیروکار ہو۔ جی ہاں یہ مشہور قول   مذہبی رواداری اور  ہندستان کی مشترکہ تہزیبی وراثت کے امین آنند نارائن ملا کا ہے۔ آنند نارائن ملا  اردو شاعری کی بلند آواز کا نام ہے۔وہ ایک ماہر مترجم بھی تھے۔ انہوں نے غالب اور اقبال کے فارسی اشعار  کا اردو میں ترجمہ کیا۔ بحیثیت نثر نگار انہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے انگریزی مضامین کو  اردو کا قالب عطا کیا۔آنند نارئن ملا  نے اردو کو اسکا جائز حق دلانے کی تحریک  چلائی۔ وہ انجمن ترقی اردو ہند کے طویل عرصہ تک صدر رہے۔ انہوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور ایماندار سیاسی لیڈر کی حیثیت سے  اپنی پہچان چھوڑی۔ اردو ادب کے لئے انکی گران قدر خدمات کا جائزہ لینے سے پہلے انکے خاندانی پس منظر  پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

آنند نرائن ملا 24 اکتوبر 1901 کو لکھنو میں کشمیری پنڈتوں کے  ایک اعلی تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انکے والد جگت نرائن ملا  لکھنو کے مشہور وکیل تھے اور لکھنو کی اہم شخصیت تھے۔ ملا کو گھر میں اردو ، فارسی اور انگریزی کا ماحول میسر تھا۔ ملا کی ابتدائی تعلیم فرنگی محل لکھنؤ میں ہوئی ۔ ان کے استاد برکت اللہ رضا فرنگی محلی تھے ۔1923 میں  انہوں نے انگریزی میں ایم کیا اور  اور 1925 میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر کے لکھنو میں وکالت شروع کی۔ شاعری کا آغاز 1917میں انگریزی زبان میں کیا۔ لیکن طالب علمی کے زمانے میں ہی  غالب اور اقبال کے فارسی کلام کا اردو میں ترجمہ  کرنا شروع کر دیا تھا۔ ملا نے اقبال کی معروف  نظم 'لالہ طور' کا اردو میں ترجمہ کیا جو بہت مشہور ہوا اور متعدد مرتبہ شائع ہوا۔ ملا نے اردو میں شاعری کی ابتدا 1925 میں  کی۔اردو میں انکی پہلی نظم نے چھپنے کے ساتھ ہی اردو  کے مشاہیر اہل قلم اور ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔  لکھنؤ کے شعری وادبی ماحول نے بھی ان کی شاعرانہ شخصیت کو نکھارنے اور جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ۔شاعری میں کسی کے شاگرد نہیں تھے۔نہ ہی کسی سے اصلاح لی البتہ علامہ اقبال، غالب اور  چکبست لکھنوی کی شاعری سے متاثر تھے۔ ملا کی شاعرانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس دور کے معروف شاعر جگر مراد آبادی نے انکے والد سے کہا تھا۔'' آپ اس نوجوان کو عدالت میں  نہ لے جائیں۔ مجھے دے دیجیے۔ اردو ادب کا یہ بیش قیمت سرمایہ ہے عدالت میں ضائع ہو جائےگا۔''جگر کا  خیال تھا کہ قانون کی پیچیدگیاں  ملا کی شاعرانہ صلاحیتوں کو برباد کر دیں گی لیکن ملا کے والد نے جگر کا مشورہ تسلیم نہ کیا  اور والد کی خواہش کے مطابق ملا نے وکالت شروع کردی۔ اپنی ذہانت، تدبر، علمی استعداد اور شاعرانہ صلاحیتوں کے بل پر ملا نے  دونوں ہی میدانوں میں ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا۔ملا نے لگ بھگ تیس برس تک وکالت کی اور اس  منیدان میں لیاقت اور کامیابی کے پرچم لہرائے۔1954 میں انہیں الہ آباد ہائؕی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ ملا  نے زندگی میں  ہر حیثیت سے انسانی اور اخلاقی اقدار کا پاس و لحاظ رکھا۔ بطور جج مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت وہ ہیمشہ انسانی قدروں کا لحاظ رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ قانون کی بالادستی کے امین رہے۔1961 میں وہ جج کے عہدے سبکدوش ہوئے۔سبکدوشی کے وقت انہوں نے پولیس کے بارے میں جو ریمارکس کئے تھے انکی افادیت سے آجتک کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ ''جج کی حیثیت سے ملازمت کے دوران میں نے بہت سے  ڈاکو اور جرائم پیشہ افراد کو دیکھا لیکن میرا تجربہ ہیکہ ہندستانی پولیس سے بڑھ کر کوئی ڈاکو اور جرائم پیشہ نہیں ہو سکتا۔''


 جہاں تک آنند نارائن ملا کی شاعری کا تعلق ہے تو انہوں نے زندگی بھر مقصدی شاعری کی۔  انکی شاعری حب الوطنی اور انسان دوستی کے جزبات سے سرشار نظر آتی ہے۔شاعر کی حیثیت سے ملا کا عقیدہ تھا جسکا وہ اکثر بر ملا اظہار کرتے تھے کہ۔'' وہ شاعر  جو انسان کے مصائب و آلام کو نظر انداز کرکے خوشی و سرمستی کے ترانے سناتا ہے کبھی بڑی شاعری نہیں کرسکتا۔'' انکے اسی قول کے پیمانے پر انکی شاعری کھری اترتی ہے۔شاعری میں ملا کا نظریہ بہت تعمیری اور اخلاقی تھا ۔ اقبال سے اثر پزیزی نے اسے اور مستحکم کیا ۔ ۔۔ملا کی شاعری محض جزبے اور احساس کی ترجمانی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ایک درد مند دل رکھنے والے دانشور کا فکری اظہار بھی ہے۔ وہ ہمیشہ ایک ایسے سماجی نظام کے آرزو مند  رہے جس میں ایک عام انسانی کو سکون و آرام نصیب ہو۔جہاں  اسکے ذہن کو غلام بنانے کی کوشش نہ کی  جائے۔ جہاں  وہ آزاد اور بے خوف فضا میں سانس لے سکے۔جہاں اسے امن و محبت کی کھلی فضا میں سانس لیکراپنے پورے انسانی قد تک پہونچنے کا موقع ملے۔ ملا کی یہی آرزو اور ایک انسان کو نصیب ہونے والے کرب کا اظہار انکی ایک نظم 'گمراہ مسافر' میں نظر آتا ہے۔

دنیا کے اندھیرے زنداں سے انساں نے بہت چاہا نہ ملا

اس غم کی بھول بھلیاں سے باہر کا کوئی رستا نہ ملا

اہل طاقت اٹھتے ہی رہے بھاری بھاری تیشے لیکر

دیوار پس دیوار ملی دیوار میں دروازا نہ ملا

ایماں کا فسوں گر بھی آیا جادو کا عصا ہاتھوں میں لئے

اک لکڑی تو اندھے کو ملی آنکھوں کو مگر جلوا نہ ملا

ساقی سیاست محفل کے جام و مینا بدلا ہی کیا

جس میں اک تہ تلخی کی نہ ہو کوئی شیریں جرعا نہ ملا

تقسیم مساوی کے حامی پھر لے کے بڑھے میزاں اپنا

جو سب کو یکساں تول کے دے میزان میں وہ بٹا نہ ملا

بے چاری الفت کی مشعل کونے میں پڑی جل جل کے بجھی

لیکن اسے ہاتھوں میں لیکر کوئی بڑھنے والا نہ ملا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آنند نرائن ملا اردو کے زبردست شیدائی اور عاشق تھے۔ اردو دشمنی کے سخت مخالف تھے۔ وہ اردو کو   مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندستان کی  زبان تسلیم کرتے تھے۔اردو کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر رہے۔

اردو کے ادیبوں میں جو مقتول ہوئے

ملا نامی سنا ہے شاعر بھی تھا۔

ملا نے بچپن میں ماں سے جو لوریاں سنی تھیں وہ اردو میں ہی تھیں۔ایک شعر میں شکوہ کرتے ہیں کہ اردو کو  غیروں کی زبان سمجھنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔

لب مادر نے ملا لوریاں جس میں سنائی تھیں

وہ دن آیا ہے اب اسکو  بھی غیروں کی زباں سمجھو

۔۔۔۔۔۔۔۔

ملا بابائے قوم گاندھی جی کے قتل سے بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ انہیں اسکا دلی صدمہ اور ملال تھا۔ اپنے جزبات کے اظہار اور گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے جو نظم کہی اسکے اشعار دل میں ایک حشر سا برپا کردیتے ہیں۔

کچھ دیر کو نبض عالم بھی چلتے چلتے رک جاتی ہے

ہر ملک کا پرچم گرتا ہے۔ ہر قوم کو ہچکی آتی  ہے

تہذیب جہاں تھراتی ہے تاریخ بشر شرماتی ہے

موت اپنے کئے پر خود جیسے دل ہی دل میں پچھتاتی ہے

انساں وہ اٹھا جسکا ثانی صدیوں میں بھی دنیا چن نہ سکی

مورت وہ مٹی نقاش سے بھی جو بن کے دوبارہ بن نہ سکی

۔۔۔۔۔۔۔

 'جوئے شیر' ، 'کچھ ذرے کچھ تارے' ، 'میری حدیث عمر گریزاں' ، 'کرب آگہی' ، 'جادۂ ملا'  ان کے شعری مجموعے ہیں ۔ انہوں نے  پنڈت نہرو کے مضامین کا  اردو میں ترجمہ بھی کیا۔

 انکے کچھ اشعار بہت مقبول ہوئے۔

——

دل کی دل کو خبر نہیں ملتی

جب نظر سے نظر نہیں ملتی

——

خموشی ساز ہوتی جارہی ہے

نظر آواز ہوتی جا رہی ہے

——

قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے

کیا محبت گناہ ہے پیارے

——

اب اور اس کے سوا چاہتے ہو کیا مُلا

یہ کم ہے کیا  کہ تمھیں مسکرا کے دیکھ لیا

——

وہ کون ہیں جنہیں توبہ کی مل گئی فرصت

ہمیں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے

——


رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں

اشک پینے کے لۓ ہیں یا بہانے کے لۓ

——

عشق کرتا ہے تو پھر عشق کی توہین نہ کر

یا تو بے ہوش نہ ہو ، ہو تو نہ پھر ہوش میں آ

——

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا

دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا

——

جس کے خیال میں گم ہوں اس کو بھی کچھ خیال ہے

میرے لۓ یہی سوال سب سے بڑا سوال ہے

——

وہ دنیا تھی جہاں تم روک لیتے تھے زباں میری

یہ محشر ہے یہاں سننی پڑے گی داستاں میری

ملا کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے لئے کئی انعامات اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ 1964 میں انکی شعری خدمات کے لئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور باوقار ادبی ایوارڈ اقبال سمان سے بھی نوازا گیا۔ اردو کا یہ نابغہ روزگار عاشق 96 برس کی عمر 12 جون 1997 کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور اپنے پیچھے ایک صحت مند تہزیبی روایت چھوڑ گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔