’اردو میں فکشن کا بنیادی ڈھانچہ علی گڑھ میں تیار ہوا‘ احسان فاؤنڈیشن انڈیا کے زیر اہتمام یک روزہ قومی سیمینار

مہمان خصوصی اور ممتاز نقاد پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ اردو میں فکشن کا بنیادی ڈھانچہ علی گڑھ میں تیار ہوا اور اس کی مضبوط روایت آج بھی قائم ہے

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

علی گڑھ (پریس ریلیز): علی گڑھ میں واقع ابن سینا اکیڈمی میں ہفتہ کو یک روزہ قومی سیمینار بعنوان ’اردو فکشن کے فروغ میں علی گڑھ کی خدمات‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون اور احسان فاؤنڈیشن انڈیا کے زیر اہتمام منعقدہ ہونے والے اس سیمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ممتاز فکشن نگار سید محمد اشرف نے فرمائی۔

سید محمد اشرف نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ زمانی اور اقداری دونوں سطح پر اردو فکشن علی گڑھ کی دین ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم سو کامیاب افسانوں اور ناولوں کا ذکر کریں تو ان میں سے پچاس علی گڑھ کے ضرور نکلیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اردو فکشن کے فروغ میں علی گڑھ کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔

اس موقع پر مہمان خصوصی اور ممتاز نقاد پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ اردو میں فکشن کا بنیادی ڈھانچہ علی گڑھ میں تیار ہوا اور اس کی مضبوط روایت آج بھی قائم ہے۔ سیمینار کے مہمان مکرم اور ممتاز دانشور پدم شری پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فکشن کی دنیا میں علی گڑھ کا آج بھی وہی مقام ہے جو پہلے تھا۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر سید محمد ہاشم نے شرکت کی۔

’اردو میں فکشن کا بنیادی ڈھانچہ علی گڑھ میں تیار ہوا‘ احسان فاؤنڈیشن انڈیا کے زیر اہتمام یک روزہ قومی سیمینار

اس موقع پر پروفیسر مولا بخش نے اپنا پرمغز کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ فکشن کے حوالے سے علی گڑھ کی خدمات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ علی گڑھ نے اردو فکشن کے میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔

خیرمقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے سیمینار کے کنوینر اور احسان فاؤنڈیشن انڈیا کے صدر ڈاکٹر مشتاق صدف نے موضوع کی قدروقیمت پر روشنی ڈالی اور تمام مندوبین کا استقبال کیا۔ نیز مالی تعاون کے لیے قومی کونسل کا شکریہ ادا کیا۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر سرور ساجد نے انجام دی۔

بعدازیں سیمینار کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر طارق چھتاری اور پروفیسر محمد علی جوہر نے مشترکہ طور پر کی، جس میں پروفیسر غضنفر، ڈاکٹر جمیل اختر، ڈاکٹر معید الرحمن، ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی، نیلوفر شعیب، نکہت امین اور مریم بتول نے اپنے مقالات پیش کیے۔

دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم نے فرمائی جس میں پروفیسر سیما صغیر، ڈاکٹر سرور ساجد، ڈاکٹر محمد بکر عالم صدیقی، ڈاکٹر حامد رضا صدیقی، تبسم پروین، عالیہ ناہید ، صدف بی، راحلہ پروین اور صدام حسین نے مقالات پیش کیے۔

تیسرے اور اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر غضنفر اور ڈاکٹر زبیر شاداب نے کی۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر افشاں ملک، ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی، ڈاکٹر محمد فرحان دیوان، عطیہ سنبل اور درخشاں پروین نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔

اس موقع پر طنزومزاح کے ممتاز پاکستانی شاعر سید محمد جعفری کی شعری کتاب 'کلیات سید محمد جعفری' اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے اردو داں طبقہ کے لیے ’کرن پبلی کیشن‘ کے ذریعے شائع کردہ ’جنرل نالج – اے ڈکشنری آف فیکس‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ ساتھ ہی محمد فرحان دیوان کا ترجمہ کردہ ناول ’بحران‘ کا بھی اجرا کیا گیا۔

علاوہ ازیں ظہیر حسن ظہیر کی تصنیف ’حریم لفظ و معانی‘ اور توصیف بریلوی کے افسانوی مجموعے ’ذہن زاد‘ کا اجرابھی عمل میں آیا۔ آخر میں ’احسان فاؤنڈیشن انڈیا‘ کے صدر ڈاکٹر مشتاق صدف نے تمام مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر علی گڑھ اور قرب و جوار کی متعدد سرکردہ شخصیات پروفیسر خورشید احمد، معروف صحافی عالم نقوی، جی ایس شرما، علی عمران عثمانی، ڈاکٹر معید رشیدی، احمد رشید، نسیم نوری، ارشد غاضی، اطہر مرزا، خالد فریدی، فصیح الرحمن، شرجیل انیس وغیرہ نے شرکت کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔