سب تاج اچھلالے جائیں گے… تانا شاہی کو للکارنے والا شاعر فیض

فیض احمد فیضؔ محبت اورعشق کی شدت کو بیان کرتے تھےتو جمہوریت کی مضبوطی کا بھی احساس دلاتے ہوئے بغاوت کا بگل پھونکتے تھے۔ فیض کے حوالہ سے جتنا لکھا جائے کم ہے، لیکن وہ آج ہمارے بیچ نہیں ، یہی ایک غم ہے۔

بات 1985 کی ہے۔ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل ضیاء الحق نے قدامت پسندی کی انتہا کی ہوئی تھی اور پاکستان بھرمیں فوجی حکومت قائم کر دی تھی ۔ جمہوریت دم توڑ رہی تھی اور اظہار رائے کی آزادی پر پہرے لگا دئے گئے تھے۔ عوام کی زندگیوں پر تمام طرح کی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ یہاں تک خواتین ساڑی نہیں پہن سکتی تھیں۔

دم گھونٹنے والے اس ماحول میں لاہور کا اسٹیڈیم ایک شام انقلاب زندآباد کے نعروں سے گونج اٹھا۔جمہوریت اور اپنے حقوق کے لئے عوام نے بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ اس بغاوت اور انقلاب کو اپنی آواز دی تھی پاکستان کی معروف گلوکارہ اقبال بانو نے۔ انہوں نے اسٹیڈیم میں کم از کم 50 ہزار کی موجودگی میں جو نظم سنائی اسے سن کر آج بھی رواں رواں کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ نظم تھی:

انقلابی اور رومانی شاعری کرنے والے فیض احمد فیضؔ کا آج یوم پیدائش ہے

انقلابی اور رومانی شاعری کرنے والے فیض احمد فیضؔ کا آج یوم پیدائش ہے

ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ سفا مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھّے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔۔۔

اس نظم کو کہنے والے شاعر کوئی اور نہیں فیض احمد فیضؔ ہی تھے۔ 13 فروری ان کا یوم پیدائش ہے۔ یہ فیض کا انقلابی روپ ہے لیکن ان کی شاعری میں رومانیت کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ ایک بانگی دیکھیں:

گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے

کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گےغمگسار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

آج کی نوجوان نسل کو شاید فیض احمد فیض کے بارے میں زیادہ معلوم نہ ہو، اس لیے انھیں بتا دیں کہ ابھی کوئی تین سال قبل ریلیز ہوئی وشال بھاردواج کی فلم ’حیدر‘ میں اسی غزل کا استعمال کیا گیاتھا۔ خوش نصیب ہے آج کی نوجوان نسل جس کا ابھی جمہوریت پر چھائے کالے بادلوں سے پیدا بحران سے سامنا نہیں ہوا ہے۔ لیکن فیض کی یہ غزلیں، یہ نظمیں ایسی ہیں جنھیں آج گایا جا سکتا ہے، سنایا جا سکتا ہے، شیئر کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ بالا نظم اور غزل، دونوں الگ الگ مزاج کی ہیں۔ ایک میں انقلاب تو دوسرے میں رومانیت کا عنصر ہے۔ یہ رنگ ہے 13 فروری 1911 کو پنجاب کے نارنول میں پیدا ہوئے فیض احمد فیض کا۔ زندگی کی جدوجہد، ناانصافی کے خلاف بغاوت اور محبوب کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا جذبہ لیے اس شاعر، صحافی، مترجم اور بھی نہ جانے کیا کیا صلاحیت رکھتے ہوئے اس شخص کو اگر آپ نے مہدی حسن اور اقبال بانو کی آواز میں نہیں سنا تو سمجھ لو کہ نہ غزل پیدا ہوئی اور نہ ہی انقلاب۔

فیض ایسے شاعر تھے جو لکھتے تھے اور جیل میں ڈال دیے جاتے تھے، پھر لکھتے تھے اور پھر جیل جاتے تھے۔ وہ پھر جیل میں ہی لکھتے تھے۔ آج بھی اقتدار تاناشاہی کو فروغ دیتی ہے، فیض کے دور میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ ہندوستان میں بھی آزادی کی آمد کے وقت لوگوں کو اس کا چہرہ نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔ کہیں لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن تھے تو کہیں آوازوں کا دم گھونٹا جا رہا تھا۔ فیض نے اسے شدت سے محسوس کیا اور ان کی قلم بول اٹھی۔

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل

کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل

آج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں بھلے ہی فیشن کے طور پر آپ اور ہم فیض کے چند اشعار اور چند نظموں کو شیئر کریں، لیکن فیض وہ شاعر تھے جس نے سوتے ہوئے ضمیروں کو جگانے کا کام کیا تھا۔

فیض کی جائے پیدائش تقسیم ہندکے بعد پاکستان کے حصے میں گیا اور انھیں پاکستان کا شہری بننا پڑا، لیکن ان کی شاعری سرحدوں کی بندشوں سے آزاد رہی۔ آزاد ہی نہیں رہی، اس نے تو کئی دیگر سرحدوں کو بھی توڑ دیا۔ ایک طرف پاکستان میں نور جہاں ان کی غزل ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ اور دوسری طرف ہندوستان میں جگجیت سنگھ ’چلے بھی آؤ کے گلشن کا کاروبار چلے‘ کو اپنی آواز دے رہے تھے۔ اس غزل کو مہدی حسن نے سب سے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔

فیض احمد فیض سیالکوٹ کے مشہور بیرسٹر سلطان محمد خاں کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ وہ پانچ بہنیں اور چار بھائی تھے۔ وہ سب سے چھوٹے تھے، سب کے دلارے بھی تھے۔ فیملی بہت ہی مذہبی قسم کی تھی۔ قرآن پڑھنے کے لیے مدرسہ بھیجا گیا، لیکن دو سپارے ہی پڑھ پائے تھے کہ دل نہ لگا۔ اسکول میں اوّل آتے رہے اور شاعری کرنے لگے۔

فیض کو عموماً لوگ کمیونسٹ کہتے تھے۔ انھیں اسلام مخالف بھی کہا جاتا تھا اور وہ خود کہتے تھے کہ یہ الزام نہیں حقیقت ہے۔ فیض کے قصے بھی بہت ہیں اور حقیقت بھی۔ فیض آزادی سے پہلے بھی مقبول تھے اور آزادی کے بعد بھی۔ فیض رومان کی شدت کو یاد دلاتے تھے تو جمہوریت کی مضبوطی کا بھی دَم بھرتے تھے۔

فیض کے بارے میں جتنا لکھا جائے کم ہے لیکن آج فیض ہمارے درمیان نہیں، بس یہی ایک غم ہے۔

سب سے زیادہ مقبول