صبیح بخاری کی اردو نوازی کی وجہ سے اردو کا قافلہ گل و گلزار رہتا تھا: احمد اشفاق

قطر کی اولین اردو تنظیم ’بزم اردو' قطر، کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق نے کہا کہ صبیح بخاری کی سرگرمی کی وجہ سے اردو کا قافلہ قطر ہی نہیں دیگر جگہ پر بھی گل و گلزار رہتا تھا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی/دوحہ: قطر کے مشہور ہندوستانی صنعت کار، اردو دوست اور اردو زبان و ادب کی آبیاری کرنے والے صبیح بخاری کے انتقال پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قطر کی اولین اردو تنظیم ’بزم اردو' قطر، کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق نے کہا کہ ان کی سرگرمی کی وجہ سے اردو کا قافلہ قطر ہی نہیں دیگر جگہ پر بھی گل و گلزار رہتا تھا۔

انہو ں نے بزم قطر کی جانب سے منعقدہ تعزیتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قدرت نے مرحوم کو ایک عجیب باوقار آواز بخشی تھی،دوسروں سے بالکل مختلف،ایسی بارعب آوازتھی کہ سامعین کا دھیان اپنی طرف بے اختیار کھینچ لیتے تھے۔ حافظے میں اچھا خاصا شعری سرمایہ محفوظ تھا۔موقع محل کے اعتبار سے بڑے دل آویز انداز میں اپنے اشعار سناتے تھے۔ محمد صبیح بخاری صاحب انتہائی فعال سماجی کارکن رہے ہیں اور سوسائٹی کے اہم بہی خواہوں میں سے تھے۔قوم و ملت کا کوئی بھی کام ہو آپ ہمیشہ صف اول میں ملتے تھے۔ شعر و ادب اور زبان کی خدمت کا جب بھی کوئی موقع ہوتا آپ ہمیشہ سب سے آگے اور پیش پیش رہتے تھے۔

معروف شاعر احمد اشفاق نے کہا کہ وہ اکثر پروگرام میں کہتے کہ میں اردو کی ترقی کی راہ میں جو بھی میرے بس میں ہوگا میں کرنے کے لیے تیار رہوں گا۔صبیح بخاری صاحب طبیعت کی ناسازی کے باوجود بھی کئی بار بزم کے پروگرام میں ابتدا سے لے کر کے اختتام تک موجود رہے۔ان کے یہ جملے آج بھی یاد ہیں کہ ناسازی طبع اپنی جگہ اور شوق اردو اپنی جگہ، کیونکہ میں اردو کے قدر دانوں میں سے ہوں اردو کی خدمت کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھتا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری بھی سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے ہماری شناخت ہے اور یہ ہماری مادری زبان ہے۔پروگراموں میں بر سر عام کہتے کہ اردو میری ماں کی زبان ہے ا س لیے اس سے محبت آخر دم تک قائم رہے گی۔ مادری زبان کی اہمیت وہ ہر جگہ واضح کرتے اور دوسروں کو اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کی تلقین کرتے۔

واضح رہے کہ مرحوم صبیح بخاری کا آبائی وطن بھوپال تھا اور ایک علم پرور فضا میں ان کی پر ورشش ہوئی تھی، اس لیے لا شعوری طور پر اردو شعر و ادب کے عاشق بنے رہے۔دوحہ قطر میں اردو کی بیشتر ادبی تنظیموں کو ان کی سرپرستی حاصل رہی انہوں نے محفلوں کو جان بخشی۔ ہندوستان اور پاکستان کے بعد جس ملک میں اردو کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں وہ ملک قطر ہے۔اردو کی نئی بستیوں میں سب سے فعال بستی دوحہ قطر کی قبول کی جاتی ہے کسی نہ کسی حیثیت سے صبیح بخاری کی وابستگی یہان ادبی و نیم ادبی تنظیموں سے رہی '

بزم اردو قطر کے سرپرست اعلی دوحہ قطر کی معروف اور ہر دلعزیز شخصیت مرحوم صبیح بخاری کی تعزیتی نشست میں شوکت علی ناز(چئر مین)، منصور اعظمی(نائب چئرمین)ا عجاز حیدر(صدر)اطہر اعظمی(نائب صدر)،احمد اشفاق(جنرل سکریٹری)،، راقم اعظمی(نائب سکریٹری) اور ابو حمزہ اعظمی (رکن) نے شرکت کی ۔

سب نے مرحوم صبیح بخاری کے ساتھ گذارے وقت اور انکے کارناموں کو یاد کیا۔ بزم اردو قطر کے اس عظیم خسارے سے تمام عہدیداران غم زدہ تھے اور اپنی گفتگو میں رنج و غم کا اظہار کیا ساتھ ہی یہ مشترکہ رائے تھی کہ مرحوم کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر ہونا ناممکن ہے انکی موت ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک شخصیت کی موت ہے۔

واضح رہے کہ بزم اردو قطر دو حہ کی قدیم ترین تنظیم ہے۔جس کا سفر اگست ۹۵۹۱ء میں 'بزم ارباب سخن ' کے نام سے شروع ہوا۔قطر میں اردو شاعری کی داغ بیل اسی تنظیم کی تاسیس کے ساتھ شروع ہوئی۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    next