ڈاکٹر ریاض توحیدی، کشمیر کا ایک مستند اردو قلمکار... جمال عباس فہمی

ریاض توحیدی ملک اور ملک سے باہر کی متعدد ادبی اور ثقافتی انجمنوں اور اداروں سے وابستہ ہیں۔ انہیں متعدد انعامات و اعزازات سے نوازہ جا چکا ہے۔

ریاض توحیدی
ریاض توحیدی
user

جمال عباس فہمی

کشمیر کے اردو قلمکاروں کا جب ذکر آتا ہے تو آغا حشر کشمیری، حامدی کشمیری، ظہور شہداد اظہر اور محی الدین قادری زور کے نام سب سے پہلے بجلی کی طرح ذہن میں کوندتے ہیں۔ کشمیر میں اردو ادب کو قلمکاروں کے قحط کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہر دور میں وہاں ایسے شعرا، ادیب، محققین، ناقدین اور فکشن نگار رہے ہیں جنہوں نے اردو ادب کے سرمایہ میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ نور شاہ سے لیکر مشتاق احمد وانی تک اور ڈاکٹر انجم اعوان سے لیکر ولی محمد اسیر تک درجنوں اہل قلم اردو ادب کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ موجودہ دور میں پروفیسر محمد زمان آزردہ 'سعید' شبنم قیوم، نعیمہ احمد مہجور، پروفیسر بشیر احمد نحوی، پروفیسر نذیر ملک، پروفیسر منصور احمد، مشتاق مہدی، ڈاکٹر نذیر مشتاق، ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی، نذیر جوہر، پروفیسر عارفہ بشری، ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی، زاہد مختار، راجہ یوسف، طارق شبنم، پرویز مانوس جیسے سرکردہ قلمکار معیاری ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ ان کے زیر سایہ اردو قلمکاروں کی نئی پود بھی تیار ہو گئی ہے ان میں ڈاکٹر الطاف انجم، ڈاکٹر کوثر رسول، ڈاکٹر عرفان عالم، ڈاکٹر مشتاق حیدر، ڈاکٹر نصرت جبین، ڈاکٹر شاہ فیصل، سلیم سالک، اقبال لون، ڈاکٹر اشرف لون، ڈاکٹر فیض قاضی آبادی، ڈاکٹر یونس ٹھوکر، ناصر ضمیر، ایس معشوق احمد، زاہد ظفر، ساحل احمد لون جیسے نام اہم ہیں۔ ریاض توحیدی بھی اسی صف کے ایک مستند قلمکار ہیں، جن کا قلم عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ادب تخلیق کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ تنقد نگار اور ماہر اقبالیات بھی ہیں۔ ریاض توحیدی کی قلمی کاوشوں کا تفصیل سے ذکر کرنے سے پہلے آئیے ان کے خاندانی پس منظر اور تعلیمی اور ادبی سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ریاض توحیدی کا اصل نام ریاض احمد بٹ ہے۔ خرمن وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر کے ایک با عزت اور علمی گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ والد حاجی غلام احمد بٹ اینیمل ہسبنڈری محکمہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ریاض احمد بٹ کی پیدائش یکم دسمبر1973 کو ہوئی۔ دسویں جماعت تک گورنمنٹ ہائی اسکول وڈی پورہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد گورنمنٹ بائز ہائر اسکینڈری اسکول ہندوارہ، سے بارہویں جماعت پاس کی اور پھر گورنمنٹ ڈگری کالج ہندوارہ سے گریجویشن کرنے کے بعد شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ اعلی تعلیم کے لئے اقبال انسٹی ٹیوٹ کلچر اینڈ فلاسفی کشمیر یونیورسٹی کا رخ کیا۔ ایم۔ فل اور پی۔ ایچ۔ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اس کے بعد پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اردو لیکچرر مقرر ہو گئے۔ یہ بھی حسن اتفاق ہی ہے کہ ریاض توحیدی کی اسی ہائر سیکنڈری اسکول میں پہلی پوسٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے خود تعلیم حاصل کی تھی۔


ریاض توحیدی کی ذہانت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے بیسٹ اسکالر ایوارڈ بصورت گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جہاں تک خاندانی پس منظر کا تعلق ہے توریاض توحیدی نے ایک زمیں دار اور علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ریاض توحیدی کشمیر کی بٹ ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس ذات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ کشمیری برہمن یعنی بھٹ ذات ہے جسے عرف عام میں اب بٹ کہا جاتا ہے۔ ریاض توحیدی کے اجداد معروف صوفی بزرگ شاہ ہمدان سید علی ہمدانی کی تبلیغ سے متاثر ہو کر مشرف بہ اسلام ہو گئے تھے۔ ریاض توحیدی کو گھر میں علمی ماحول تو ملا لیکن ادبی ماحول نہیں۔ گھر تو گھر ان کے علاقے میں بھی کوئی خاص ادبی ماحول نہیں تھا۔ ریاض توحیدی کا ادبی ذوق کالج اور یونیورسٹی کے ماحول میں پروان بھی چڑھا اور اسے جلا بھی ملی۔ کالج کے دنوں ہی میں مضامین اور افسانے لکھنے کی شروعات ہوگئی تھی۔ ان کا پہلا افسانہ ”قاتل، قتل اور مقتول“ مقامی اخبار کے ادبی گوشہ میں 2005 میں شائع ہوا۔

ریاض توحیدی کو جس شخصیت نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ہے شاعر مشرق علامہ اقبال، ریاض توحیدی اقبال کی فکر اور فلسفہ خودی سے بہت متاثر ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کے لئے علامہ اقبال کو ہی منتخب کیا۔ اقبال سے عشق کا ہی نتیجہ ہے کہ 'جہان اقبال' کے عنوان سے تحقیقی اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ ریاض توحیدی کے قلم کی جنبش سے وجود میں آیا۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی کی نظر معروف اقبال شناس ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم پر پڑی تو ان کو ہی اپنے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کا موضوع بنا لیا، ریاض توحیدی نے 'ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم بحیثیت اقبال شناس' عنوان سے کتاب بھی تحریر کی۔ اس کتاب کی افادیت اور مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اب تک اس کے دو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ 'جہان اقبال' اور ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم بحیثیت اقبال شناس' کے منظر عام پر آنے کے بعد ڈاکٹر ریاض توحیدی کی شناخت ماہر اقبالیات کے طور پر قائم ہو ئی، ڈاکٹر ریاض توحیدی اقبال کے حوالے سے درجنوں مقالے اور مضامین تحریر کر چکے ہیں جن میں کچھ اس طرح ہیں۔ 'پروفیسر حامدی کاشمیری بحیثیت اقبالؔ شناس'، 'پروفیسر حامدی کاشمیری کی اقبالؔ شناسی'، کشمیر میں اقبالؔ شناسی'، اقبال فہمی میں محمد بدیع الزمان کی انفرادیت'، ۔کشمیر میں مطالعات اقبال'، شمس الرحمن فاروقی اور مطالعہ اقبال' وغیرہ۔


ڈاکٹر ریاض توحیدی خود بھی صاحب طرز افسانہ نگار ہیں اور افسانہ کے حوالے سے تنقیدی کام بھی انجام دے رہے ہیں۔ 'معاصر اردو افسانہ، تفہیم و تجزیہ' کے عنوان سے ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ بھی بہت مقبول ہوا۔ یہ دو جلدوں میں ہے، ان کے تحریر کردہ افسانوں کے دو مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ 'کالے پیڑوں کا جنگل' اور 'کالے دیووں کا سایہ' کو فکشن کے شوقینوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ افسانوں کے ان دونوں مجموعات کو ڈاکٹر ریاض توحیدی یکجا کرکے بھی شائع کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی مائکرو فکشن میں اپنی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہیں۔ مائکرو فکشن کے تحت ریاض توحیدی 31 اور 32 سطری افسانے تحریر کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ریاض توحیدی اپنے افسانوں کے ذریعے محبت کو عام کرنے اور نفرتوں کے خاتمے کا پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 'سانپ اور کبوتر' کے عنوان سے ان کا مائکرو فکشن کا ایک نمونہ پیش ہے۔

''گلی سے بانسری کی دردناک آواز سنتے ہی اس کے سمندر دل میں ارتعاش پیدا ہوا۔ دماغ میں جذبات کی لہریں اٹھنے لگیں اور پاؤں سنامی کی رفتار سے گھر کی دہلیز پار کرتے ہوئے بانسری بجانے والے کے سامنے آکر ٹہر گئے۔ پیردانا پتھر پر بیٹھ کرآنکھیں بند کرکے پرسکون انداز سے بانسری بجا رہا تھا۔ اس کے کاندھے پر خوبصورت کبوتر بیٹھا تھا۔ بانسری کے اداس سر نوجوان کے دل میں اتر رہے تھے، اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے بانسری اس شہر بدحواس کا مرثیہ سنا رہی ہے۔ بانسری کی آواز دھیرے دھیرے دھیمی ہونے لگی۔ مرثیہ ختم ہونے کے بعد پیردانا نے اپنی روشن آنکھیں کھولیں۔ نوجوان کے کانوں میں ابھی بھی بانسری کی آواز گونج رہی تھی۔ نوجوان کے شکیل چہرے کو دیکھ کر پیردانا کے ہونٹوں پر تبسم پھیلا اور اس کے ملائم لہجے نے نوجوان کو اپنی طرف متوجہ کیا: "اے خوب رو نوجوان! آپ کی جوان سوچ کس طوفان میں پھنس چکی ہے جو آنکھیں بند کرکے ساحل کی تلاش میں سرگرداں نظر آرہے ہو۔ تمہاری جھیل سی آنکھوں میں یہ ویران جزیرہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔ "


پیردانا کے ملائم لہجے کی ٹھنڈک نوجوان کے دل کو راحت پہنچا گئی اور اس کے گلابی لہجے سے شہد بھری شکایت در آئی: "اے بانسری کے سر میں اس شہر بدحواس کا مرثیہ سنانے والے پیر دانا۔۔۔! اس بدحواسی کی کیا وجہ ہے۔؟ "اس قسم کا سوال پیر دانا کے سامنے کسی نے پہلی بار رکھا۔ وہ اطمینان کی سانس لیتے ہوئے سوچنے لگے کہ برسوں سے بانسری بجانے کا نتیجہ آج سامنے آیا۔ ایک سرد آہ لیتے ہوئے وہ گویا ہوئے: "انسانوں کے دماغوں میں نفرت کے سانپ رینگ رہے ہیں اور دل انسانیت کی زرخیز مٹی سے خالی ہوکر پتھر بن چکے ہیں۔ اب یہ بد حواس ہوکر زندگی کی دوڑ میں دوڑے جا رہے ہیں۔ "

نوجوان یہ خوفناک راز سن کر پوچھ بیٹھا: "شہر کی اس بدحواسی کا اب کیا علاج ہے؟ "

"بس... دماغ سے نفرت کے سانپوں کو نکال کر دل میں محبت کے کبوتر بساؤ۔ "

یہ کہہ کر پیر دانا پتھر سے اٹھ کر بانسری بجاتے بجاتے چل دیا اور نوجوان کی ویران آنکھیں پتھر کے نیچے سے سانپوں کو نکلتے ہوئے دیکھ کر چمک اٹھیں، کیونکہ اب پتھر کے اوپر سفید کبوتر بیٹھا تھا''۔

' ماں'، 'کالے دیوؤں کا سایہ'، 'تاج محل اور گاؤ شالہ'، خوف'، جنت والی چابی'، ہوم لینڈ'،'سفید ہاتھی'، صدائے بازگشت'، روشنی، ناکہ بندی، 'مصلوب دھڑکنیں' اور گمشدہ قبرستان جیسے ان کے افسانے بہت مقبول ہوئے۔

ڈاکٹر ریاض توحیدی کے مضامین اور افسانے ملک اور بیرون ملک کے معیاری رسائل اور جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تخلیقات کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسپین کی ایک لائبریری نے بھی ان سے ان کی کتابیں منگوائیں۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی ملک اور ملک سے باہر کی متعدد ادبی اور ثقافتی انجمنوں اور اداروں سے وابستہ ہیں۔ انہیں متعدد انعامات و اعزازات سے نوازہ جا چکا ہے۔ 2018 میں انہیں اترپردیش اردو اکیڈیمی ایوارڈ سے نواز چکی ہے، ڈاکٹر ریاض توحیدی کے افسانوں کے مجموعات اور افسانوں کے تعلق سے تنقیدی اور تحقیقی مضامین پر مشتمل کتابیں پاکستانی پبلشرز نے بھی شائع کی ہیں۔ مختلف موضوعات پر کئی کتابیں ڈاکٹر ریاض توحیدی کے زیر قلم ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔