فراق گورکھپوری: تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں...

فراق گو رکھپوری

بوجھل اورغمناک ماحول کواپنی شاعری سےخوشگواربنانےوالا اردوادب کا یہ ستارہ3 مارچ 1982کوابدی نیند سو گیا۔ دنیائے ادب کے لئے یہ ایک بڑا سانحہ تھا لیکن فراق اپنی لاتعداد نایاب اشعار میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ٹوپی سے باہر جھانکتے بکھرے ہوئے بال، شیروانی کے کچھ کھلے ہوئے بٹن، ڈھیلا ڈھالا پائجامہ، ایک ہاتھ میں گھڑی اور دوسرے میں سگریٹ، بڑی بڑی گول آنکھیں... اردو ادب کے معروف شاعر اور نقاد رگھوپتی سہائے کی ظاہری شخصیت کچھ ایسی ہی تھی۔ کوئی انجان شخص انہیں دیکھ کر قطعی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اردو ادب میں انہوں نے اپنا ایک منفرد مقام بنا رکھا ہے۔ وہ اپنی ظاہری شخصیت کو لے کر جتنے لاپروا تھے، ان کی شاعری میں اتنی ہی زیادہ سنجیدگی کی جھلک دیکھنے کو ملتی تھی۔ خاص طور سے ان کی عشقیہ غزلوں نے لوگوں کو کافی متاثر کیا۔ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ عشقیہ کیفیات کو پیش کرنے کے نئے انداز نے انہیں منفرد شاعر کی حیثیت عطا کی۔

یہاں بات ہو رہی ہے فراق گورکھپوری کی جن کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ فراق گورکھپوری بلاشبہ اردو ادب کا ایک بڑا نام ہے، اتنا بڑا نام کہ ان کا اصل نام اس کے سامنے بہت چھوٹا پڑ گیا۔ اس قدر چھوٹا کہ اس نام سے شاید بہت کم لوگ ہی انہیں جانتے ہیں۔ فراق گورکھپوری کی پیدائش 28 اگست 1896 میں گورکھپور کے ایک کائستھ خاندان میں ہوئی تھی اور وہیں ان کا تعلیمی سلسلہ بھی شروع ہوا۔ پڑھنے لکھنے میں ذہین فراق نے گریجویشن میں ریاست میں چوتھا مقام حاصل کیا تھا جس کے بعد وہ ’پروونشیل سول سروس‘ (پی سی ایس) کے لئے منتخب ہوئے، پھر ’انڈین سول سروس‘ (آئی سی ایس) جوائن کیا۔ لیکن 1920 میں انہوں نے گاندھی جی کے ذریعہ چلائی جا رہی ’تحریک عدم تعاون‘ کے حق میں ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔ اس تحریک میں شامل ہونے کی پاداش میں انہیں ڈیڑھ سال قید کی مشقت بھی جھیلنی پڑی۔ یہ مرحلہ فراق کے لئے انتہائی مشکل تھا لیکن وہ ایک زندہ دل شخص تھے اس لئے انہوں نے پریشانیوں کا سامنا ڈٹ کر کیا۔ ان کے اندر علمی لیاقت تو بھرپور تھی ہی، لہٰذا 1930 میں وہ الٰہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے لکچرر مقرر ہو گئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب فراق نے اردو ادب میں اپنی پہچان بنانی شروع کر دی تھی۔ شاعری کے ساتھ ساتھ تنقید کے میدان میں بھی وہ سرگرم تھے اور ان کی کاوشیں ادبی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن رہی تھیں۔ ان کی رومانی و نفسیاتی تنقید میں ہی بلا کی سحر انگیزی نہیں تھی، بلکہ تاثراتی تنقیدیں بھی اپنا جواب آپ تھیں۔ اس کی بہترین مثال ان کی تنقیدی کتاب ’اندازے‘ ہے جسے اردو ادب کے اعلیٰ معیاری تنقیدی کتب میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی اسکالر اور معروف ناقد ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے اپنی کتاب ’جوش ملیح آبادی اور فراق گورکھپوری‘ میں قلمبند کیا ہے کہ:

’’یوں تو ہمارے ہاں بیشتر بڑے ناقدین مثلاً مولانا حالی، مولانا شبلی، مولانا محمد حسین آزاد، علامہ نیاز فتح پوری، پروفیسر مجنوں گورکھپوری، فراق گورکھپوری، پروفیسر کلیم الدین، پروفیسر احتشام حسین اور آل احمد سرور سب ہی نے نثر کے ساتھ ساتھ شاعری کا دامن بھی کسی نہ کسی طور پر آخر تک پکڑے رکھا، لیکن سچ یہ ہے کہ ان میں حالی و فراق کے سوا کوئی بھی بیک وقت اپنے عہد کا ممتاز شاعر اور ممتاز ناقد نہ بن سکا‘‘۔

بلاشبہ فراق اپنے عہد کے ممتاز ناقد تھے لیکن انہیں شاعری میں تنقید کے مقابلے کہیں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ خاص طور سے غزلوں میں ان کی انفرادیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مجاز، جوش، حسرت، یگانہ، جگر اور فانی جیسے شعراء کے درمیان اپنی الگ شناخت بنا کر فراق نے ثابت کر دیا کہ حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کی عکاسی کرتی ہوئی شاعری میں انہیں کس قدر یدطولیٰ حاصل ہے۔ مثال کے طور پر چند اشعار پیش ہیں:

ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی

ابھی حیات کے چہرے پہ آب و تاب نہیں

---

اہل رضا میں شانِ بغاوت بھی ہو ذرا

اتنی بھی زندگی نہ ہو پابند رسمیات

---

شب سیاہ میں گم ہو گئی ہے راہِ حیات

قدم سنبھل کے اٹھاؤ بہت اندھیرا ہے

فراق نے اپنی غزلوں کے ذریعہ عشقیہ شاعری کو عروج بخشتے ہوئے ایک ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش کی جس میں عاشق و معشوق کی اندرونی کیفیات نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ان کے اشعار نہ صرف دل کی گہرائیوں تک پہنچتے ہیں بلکہ درد اور تڑپ سے بھی آشنا کر جاتے ہیں۔ انگریزی، ہندی، سنسکرت، بنگلہ وغیرہ کی شاعری پر فراق کی گہری نظر تھی اور اس کا فائدہ بھی انہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ورڈس ورتھ، کیٹس، شیلی، بائرن اور دوسری طرف میر و غالب کے اشعار کی جادوئی دنیا میں انہوں نے اپنے لئے ایک الگ مقام متعین کیا۔ ہندو کلچر اور عالمی فلسفہ سے شغف بھی فراق کے لئے مفید ثابت ہوا۔ نمونے کے طور پر عشق کے سوز میں ڈوبے ہوئے کچھ اشعار دیکھئے:

افسردگیٔ عشق میں سوز نہاں بھی ہو

یعنی بجھے دلوں سے کچھ اٹھتا دھواں بھی ہو

---

بھول بیٹھی وہ نگاہِ ناز عہد دوستی

اس کو بھی اپنی طبیعت کا سمجھ بیٹھے تھے ہم

---

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

فراق گورکھپوری کے اندر ایک بہت بڑی خاصیت یہ بھی تھی کہ وہ انتہائی حاضر جواب واقع ہوئے تھے اور دل کی ہر اچھی و بری بات کو بے باکانہ طور پر بیان کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی حاضر جوابی سے متعلق کئی واقعات دنیائے ادب میں کافی مشہور ہیں اور فراق کے اندر موجود صرف اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مضامین بھی قلمبند کئے گئے ہیں۔ کچھ واقعات پیش خدمت ہیں...

  • ایک مرتبہ فراق صاحب لال قلعہ کے مشاعرے میں شرکت کے لئے دہلی تشریف لائے۔ وہاں ان کی ملاقات ساحر لدھیانوی سے ہوئی۔ انہوں نے ساحر سے کہا کہ— ارے ساحر آج کل تو تم آثار قدیمہ کی بہت اچھی شاعری کر رہے ہو۔ تاج محل پر کیا خوب لکھا ہے:

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میرے محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

ایسا کرو کہ اب جامع مسجد پر بھی لکھ ڈالو:

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی عبادت کا اڑایا ہے مذاق

میرے اللہ کہیں اور ملا کر مجھ سے

  • ایک بار ایک مشاعرے میں فراق کے پڑھنے کے بعد کسی نوجوان شاعر کا نام پکارا گیا۔ اس نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا کہ فراق صاحب کے بعد میں کیسے اپنا کلام سنا سکتا ہوں، یہ آداب کی خلاف ورزی ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے فراق نے آواز لگائی کہ ’’میاں صاحب زادے! اگر میرے بعد پیدا ہو سکتے ہو تو شعر بھی پڑھ سکتے ہو‘‘۔
  • ایک بار لکھنؤ میں ’ادب میں فحاشی‘ کے موضوع پر سمینار منعقد کیا گیا۔ فراق صاحب سب کی باتوں کو خاموشی سے سن رہے تھے۔ یکایک انہوں نے سوال کیا ’’آخر یہ فحاشی ہے کیا؟‘‘

کسی شخص نے جواب دیا کہ ’’فحاشی وہ کام ہے جو چھپ کر کیا جائے‘‘۔

اس پر فراق صاحب نے انتہائی معصومیت سے پوچھا ’’جیسے میں پیشاب کرتا ہوں؟‘‘

فراق صاحب کے اس معصومانہ انداز پر سبھی ہنسنے لگے۔

گویا کہ فراق گورکھپوری کے اندر ناقدانہ اور شاعرانہ صلاحیت تو پنہاں تھی ہی، مزاح بھی ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اپنی اس صلاحیت کے ذریعہ وہ بوجھل ماحول کو ہلکا پھلکا بنا دیتے تھے۔ لیکن بوجھل اور غمناک ماحول کو اپنی شاعری اور اپنے انداز سے ہلکا اور خوشگوار بنانے والا اردو ادب کا یہ ستارہ3 مارچ 1982 کو ابدی نیند سو گیا۔ دنیائے ادب کے لئے یہ ایک بڑا سانحہ تھا لیکن فراق اپنی لاتعداد نایاب اشعار میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

سب سے زیادہ مقبول