بھوپال کی علمی و ادبی اور سماجی خدمات ناقابل فراموش

حسن ضیاء نے کہا کہ والی بھوپال نواب حمیداللہ خاں کی سرپرستی سرراس مسعود اور علامہ اقبال جیسی شخصیات کو حاصل رہی۔

تصویر یو این آئی
i
user

یو این آئی

بھوپال: مشاہیران و اہلیان بھوپال اور والیان بھوپال کی علمی ادبی اور سماجی خدمات اور عظیم الشان کارنامے نہ صرف ہماری تاریخ کا زریں باب ہیں، بلکہ نامساعد حالات کے باوجود یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، جو بھوپال کو برصغیر میں جغرافیائی مرکزیت کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں اہم مقام کے حامل خطے کا درجہ عطا کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار امپلائمنٹ نیوز اور ماہنامہ آجکل، دہلی کے اعزازی مدیر حسن ضیاء نے منشی حسین خاں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ بھوپال میں منعقدہ ایک ادبی تقریب اور شعری نشست میں بطور مہمان خصوصی اپنی تقریر میں کیا۔

جلسے کی صدارت ادارے کے سکریٹری اور بھوپال کی اہم شخصیت اقبال مسعود نے کی جب کہ نظامت بدر واسطی نے کی۔ اس موقع پر دہلی سے تشریف لائے پروفیسر خالد محمود اور فکر و آگہی کی ایڈیٹر ڈاکٹر رضیہ حامد نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔


حسن ضیاء نے کہا کہ والی بھوپال نواب حمیداللہ خاں کی سرپرستی سرراس مسعود اور علامہ اقبال جیسی شخصیات کو حاصل رہی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر و تشکیل کے ابتدائی دور میں بھوپال ریاست اور اس کے فرماں رواؤں سلطان جہاں، بیگم اور نواب حمیداللہ خاں کی خدمات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ اس شہر نے اردو ادب کو مولانا سہا مجددی، شعری بھوپالی، کیف بھوپالی، صہبا لکھنوی، محسن بھوپالی، عبیداللہ علیم، سید حامد حسین، اخلاق اثر، ابراہیم یوسف، عبدالقوی دسنوی اوراقبال مجید جیسی شخصیات دیں۔ آج بھی یہاں نعیم کوثر، کوثر صدیقی، آفاق حسین صدیقی، پروفیسر خالدمحمود، اقبال مسعود، ظفر صہبائی، ضیاء فاروقی خالد عابدی جیسے لوگ شمع ادب کو روشن کئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بھوپال کی خدمات سے اردو میں دانشوری کے نئے باب روشن ہوئے۔ بھوپال کی خدمات کو نظرانداز کرنا صریح ناانصافی ہوگی۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ بھوپال کی خدمات اور سرگرمیوں کا سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ صدر جلسہ اقبال مسعود نے کہا کہ بھوپال نے ہمیشہ علم، فن اور ہنر کی قدردانی کی ہے اور باہر سے آنے والوں کی ہمیشہ پذیرائی کی، خواہ اس کے لیے مقامی صلاحیتوں کو نظرانداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بھوپال ریاست کے ذریعے علامہ اقبال کی سرپرستی کے واقعات بھی بیان کیے۔


اس موقع پر ایک شعری نشست منعقد ہوئی جس میں اقبال مسعود، ظفر صہبائی، ضیاء فاروقی، پروفیسر خالد محمود، محمود ملک، بدرواسطی، خالدہ صدیقی، ڈاکٹر عنبرعابد، نفیسہ انا، سراج محمد سراج اور عظیم اثر نے اپنے کلام سے محظوظ کیا۔ اس موقع پر سی این این 18 کے نمائندے ڈاکٹر مہتاب عالم اور ای ٹی وی اردو کے قمر غوث بھی موجود تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔