ڈاکٹر عافیہ حمید: شیشے کے اُس پار کی پرچھائیاں
ڈاکٹر عافیہ حمید کا افسانوی مجموعہ ’شیشے کے اس پار انسانی دکھ، طبقاتی درد، جنسی تشدد اور کورونا جیسے موضوعات کو سادگی اور گہرائی سے پیش کرتا ہے۔ ان کی تحریر میں درد کی ہلکی مگر دیرپا پرچھائی موجود ہے

اردو افسانہ آج بھی زندہ ہے، سانس لے رہا ہے اور اس کی سانسوں میں نئی آوازیں شامل ہو رہی ہیں۔ ان نئی آوازوں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر عافیہ حمید کا ہے۔ 22 فروری 1990 کو الہٰ آباد میں پیدا ہوئیں عافیہ حمید کا ادبی سفر ایک ایسے گھرانے سے شروع ہوا جہاں ادب خون میں شامل ہے۔ والد پروفیسر عبد الحمید (صاحبِ مجموعہ کلام ’سبز ہوا روشن ہے‘) شمس الرحمٰن فاروقی کے قریبی دوست اور احمد محفوظ کے استاد رہے۔ اس ادبی ماحول میں پل کر عافیہ نے لکھنؤ کو اپنا تخلیقی مرکز بنایا۔ انھوں نے جامعہ الفلاح اعظم گڑھ، لکھنؤ یونیورسٹی، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 13 جنوری 2024 کو انھیں ’آزادی سے قبل افسانوں میں نسوانی کرداروں کا تجزیاتی مطالعہ‘ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔ فی الوقت وہ حیدرآباد کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے بحیثیت گیسٹ لیکچرار وابستہ ہیں۔
ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’شیشے کے اُس پار‘ (25 افسانوں پر مشتمل) حال ہی میں منظرِ عام پر آیا ہے۔ یہ کتاب محض ایک نئے افسانہ نگار کی آمد کا اعلان نہیں، بلکہ ایک ایسی تخلیق کار کی آمد ہے جو روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں انسان کے گہرے زخموں کو کھوجتی ہے اور انھیں بلا خوفِ ردّ و قبول پیش کرتی ہے۔
عافیہ حمید کے افسانوں میں عورت موضوع ضرور ہے، مگر صرف عورت موضوع نہیں۔ مردوں کی نفسیاتی شکست، طبقاتی تقسیم، شہری تنہائی، کورونا کی تباہ کاریاں، بچوں کی بھوک، جنسی تشدد کے بعد کی خاموشی، سب کچھ موجود ہے۔ وہ آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے میں ماہر ہیں۔ ان کے ہاں نہ کوئی جارحانہ فمینیائی نعرے بازی ہے، نہ سماجی تبدیلی کا کوئی کھوکھلا دعویٰ؛ بس ایک ہلکی سی چبھن ہے جو پڑھنے کے بعد قاری کو دل میں مسلسل محسوس ہوتی رہتی ہے۔
ان کے افسانوں کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے چند اقتباسات ہی کافی ہیں:
’’...اس کو خیال آیا کہ پتہ نہیں کتنے لوگ ہوں گے اور وہ اس عورت کو ایسی حالت میں دیکھیں گے، برہنہ، خون میں لت پت۔ جسم شاید کئی درندوں نے مل کر نوچا تھا۔ پاس ہی اس کی جوتی اور پرس پڑا تھا مگر کپڑے کا کچھ پتہ نہ تھا۔ ....اس نے سوچا کاش میرے پاس کوئی کپڑا ہوتا۔ دوسرے پل اس کو خیال آیا، کالی ساڑی... نہیں نہیں...وہ تو نجو کے لیے...ایک لمحے کو وہ خود غرض ہونے لگا مگر خیال آیا اگر اس لڑکی کی جگہ نجو ہوتی تو...اسے کپکپی آ گئی۔ اس نے بلا کچھ سوچے تھیلے سے ساڑی نکال کر اس برہنہ بدن پر ڈال دی۔ اس نے دیکھا، لڑکی نے پرسکون ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔‘‘
افسانہ ’کاغذ کی روٹی‘ میں ایک بچہ اشتہار والی روٹی کی تصویر کھا جاتا ہے۔ ماں پوچھتی ہے، ’’کاغذ کیوں کھایا؟‘‘ بچہ توتلی زبان میں جواب دیتا ہے، ’’کاگد نہیں، لوٹی تھی۔‘‘ یہ ایک جملہ طبقاتی تقسیم کی پوری تاریخ بیان کر دیتا ہے۔ افسانہ ’موت کی پری‘ کورونا کے دور کی المناک داستان ہے۔ اس افسانے کا کلائمیکس پڑھ کر حساس قاری کی سانس رک جاتی ہے۔
’’یہ اس کے گاؤں کا چیک پوسٹ تھا۔ باہر سے آنے والوں کی چیکنگ ہو رہی تھی۔ اگلا نمبر سرفراز کا تھا۔ افسر نے پوچھا، چادر میں کیا ہے؟ سرفراز کی زبان گنگ تھی۔ افسر نے دوبارہ چلا کر پوچھا، کیا چھپایا ہے؟ سرفراز کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ قبل اس کے کہ وہ کچھ کہنے کی ہمت کر پاتا، افسر نے حکم دیا، چیک کرو کیا ہے مگر اگلے ہی لمحے سرفراز پھٹ پڑا۔ اس نے کہا، لاش ہے... لاش! جسے میں دو دن سے سینے سے لگائے ٹہل رہا ہوں! اس نے روتے ہوئے کہا، جانتے ہو کیوں؟ تاکہ اس کی ماں گاؤں تک زندہ پہنچ سکے۔ اتنا کہہ کر اس نے لاش کو پھر کندھے سے لگا لیا۔‘‘
عافیہ کا اسلوب بالکل سادہ مگر گہرا ہے۔ وہ غیر ضروری تفصیلات سے بچتی ہیں، ڈائیلاگ کم استعمال کرتی ہیں اور واقعات کو ایسے پیش کرتی ہیں کہ قاری خود اندر تک اتر جاتا ہے۔ ان کی زبان میں لکھنؤ کی شائستگی بھی ہے اور اعظم گڑھ کے دیہی لہجے کی کھر داری بھی۔ جملے چھوٹے، تیز اور کاٹ دار ہیں۔ وہ جذباتی نہیں ہوتیں، بس ایک ہلکا سا زخم لگا کر آگے بڑھ جاتی ہیں جو قاری کو رات بھر بے چین رکھتا ہے۔
معروف شاعر اور ناقد پروفیسر احمد محفوظ کے مطابق، }}ان افسانوں کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں انسان کے ایسے دکھ درد کی تصویر کشی کی گئی ہے جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افسانوں کو پڑھتے ہوئے قاری کرداروں اور واقعات سے خود کو ہم رشتہ محسوس کرنے لگتا ہے اور افسانے میں بیان کردہ کیفیت اپنی کیفیت معلوم ہونے لگتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں افسانوں کی مجموعی کیفیت اثر آفرینی سے عبارت ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ چونکہ یہ ابتدائی تخلیقی کاوشیں ہیں اس لیے زبان و بیان میں کچھ خامیاں ضرور ہیں جو مشق سے دور ہو جائیں گی۔
والد پروفیسر عبد الحمید کا تبصرہ زیادہ جذباتی مگر گہرا ہے، ’’عافیہ حمید کے افسانوں میں قاری کو مضطرب کرنے والی کوئی شے ہے۔ کسی خوف سے مزاحمت ہے۔ شیشے کے اس پار تو دکھائی دینا چاہیے لیکن اس پار کوئی پرچھائیں سی ڈولتی ہے۔ یہ پرچھائیں آسیب کی طرح آپ کی ہمزاد بن کر دور تک آپ کے ساتھ چلنے لگے تو آپ کیا محسوس کریں گے؟ یہ مختصر افسانے پھانس کی طرح چبھنے لگیں تو کیسا لگے گا؟ سو جیسے سینے میں سانس کھٹکے ہے۔‘‘
پروفیسر ریشماں کہتی ہیں، ’’لوگ کہتے ہیں ترقی پسند تحریک ختم ہو چکی لیکن عافیہ کے افسانے اسی تحریک کے ترجمان ہیں۔ بے خوفی، نڈرتا اور اپنی بات کہنے کا حوصلہ اس نوجوان فنکار میں بخوبی موجود ہے۔ عافیہ ایک حساس افسانہ نگار ہیں جنہوں نے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں صرف عورت موضوع نہیں بنتی بلکہ مرد حضرات کی زندگی کے کرب و مسائل کو جس طرح عافیہ نے پیش کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔‘‘
آج جب اردو افسانہ یا تو نفسیاتی پیچیدگیوں میں الجھتا نظر آتا ہے یا پوسٹ ماڈرن تجربات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، عافیہ حمید ایک سادہ مگر طاقتور آواز لے کر آئی ہیں۔ وہ عصمت، حجاب، بشریٰ انصاری یا رشید جہاں کی روایت کو آگے بڑھاتی ہیں مگر اپنے انداز میں۔ انھیں ’اتر پردیش سمان‘ اور لکھنؤ میں ’بزمِ خواتین ایوارڈ‘ سے نوازا جا چکا ہے۔ زیرِ طبع ’نسوانی کرداروں کا ارتقائی سفر‘، ’برف میں دبے شرارے‘ (سفرنامہ) اور ’مادرِ علمی کے گیارہ سال‘ ان کی متنوع صلاحیتوں کی گواہی دیں گے۔
’شیشے کے اُس پار‘ کوئی بڑا دھماکہ نہیں، ایک ہلکی سی آہٹ ہے جو اردو افسانے کے آنگن میں گونج رہی ہے۔ عافیہ حمید ابھی اپنے تخلیقی سفر کی ابتدائی منزلوں پر ہیں مگر ان کے قدم جس زمین پر پڑ رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ آواز مزید گہری اور پرکشش ہوگی۔ شیشے کے اس پار جو پرچھائیاں ڈول رہی ہیں، وہ ہماری اپنی ہی پرچھائیاں ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔