5 دن، 5 ڈرامہ... فیض کی یاد کے ساتھ ’اُردو ڈرامہ فیسٹیول‘ اختتام پذیر

ڈرامہ ’قصہ اردو کی آخری کتاب کا‘ کا منظر

غالب انسٹی ٹیوٹ کےڈرامہ گروپ ’ہم سب‘ کے ذریعہ منعقدہ پانچ روزہ ’اُردو ڈرامہ فیسٹیول‘ سلیمہ رضا کی ہدایت کاری میں ڈرامہ ’چند روز اور میری جان‘ کی پیشکش کے ساتھ 10 جولائی کو ختم ہو گیا۔

سلیمہ رضا کے ڈرامہ ’چند روز اور میری جان‘ کے ساتھ پانچ روزہ ’اُردو ڈرامہ فیسٹیول‘ 10 جولائی کو اختتام پذیر ہو گیا اور اپنے ساتھ یہ ڈھیروں یادیں سمیٹ کر لے گیا۔ اِس اُردو ڈرامہ فیسٹیول کی سب سے اچھی بات یہ رہی کہ پانچوں دن ایک ایک ڈرامہ پیش کیا گیا اور سبھی ڈراموں نے ناظرین خوب داد بٹوری۔ ڈرامہ فیسٹیول کا افتتاح ہی ’قصہ اُردو کی آخری کتاب کا‘ سے ہوا تھا جس کی ہدایت کاری معروف تھیٹر ہدایت کار دانش حسین نے کی۔ ’ہوشربا ریپرٹری‘ تھیٹر گروپ کے ذریعہ پیش کیے گئے اس ڈرامے میں یاسر افتخار خان اور دانش حسین کی بہترین پرفارمنس نے لوگوں کو لاجواب کر دیا۔ یہ ڈرامہ ابن انشاء کے ناول ’اُردو کی آخری کتاب‘ پر مبنی تھی اور یاسر افتخار و دانش حسین نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

7 جولائی یعنی دوسرے دن ’کفن کفن چور‘ ڈرامہ غالب آڈیٹوریم میں لوگوں کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے درمیان پیش کیا گیا۔ اس ڈرامے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے اسکرپٹ رائٹر بھی ایم کے رینا تھے، ہدایت کار بھی اور پرفارمنس بھی انھوں نے ہی کیا۔ ’تھری آرٹس کلب‘کی اس پیشکش نے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ 8 جولائی کو ’اینٹی نیشنل غالب‘ ایک منفرد ڈرامہ تھا جس کے لیے رائٹر دانش اقبال مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انھوں نے غالب کو ایک نئے انداز میں پیش کرتے ہوئے ان کی زندگی کے کئی نا آشنا پہلوؤں سے بھی لوگوں کو روشناس کرانے کی کوشش کی۔ اس ڈرامے کی ہدایت کاری امت بجاج نے کی جب کہ تھیٹر گروپ ’ٹرائی پوڈ‘ کی پیشکش لاجواب تھی۔ اتوار کی شام 6.30 بجے پیش کردہ اس ڈرامے نے موجود ناظرین کا ’ویکینڈ‘ اچھا بنا دیا۔

’ہم سب‘ تھیٹر گروپ کی بانی بیگم عابدہ احمد کی یاد میں کرائے گئے اس پانچ روزہ اُردو ڈرامہ فیسٹیول میں چوتھے دن ’آدمی نامہ‘ نے اسٹیج پر دھوم مچائی۔ ’بہروپ آرٹس گروپ‘ نے اس ڈرامے کی پیشکش اسی سال مارچ کے مہینے میں مغربی بنگال اُردو اکادمی میں بھی کی تھی اور اب راجیش سنگھ کے ڈیزائن اینڈ ڈائریکشن نے غالب آڈیٹوریم میں اپنا سماں بکھیرا۔ عموماً اتوار کی چھٹی کے بعد سوموار اور منگل کو لوگ کم ہی ڈرامہ وغیرہ دیکھنا پسند کرتے ہیں، لیکن ’آدمی نامہ‘ نے تھیٹر کے عاشقوں کی بھیڑ یہاں جمع کر دی۔ یہی حال آخری دن یعنی منگل کو پیش کیے گئے ڈرامہ ’چند روز اور میری جان‘ میں بھی دیکھنے کو ملا جو کہ فیض احمد فیض کی نظم پر مبنی تھا۔ کچھ لوگ تو سلیمہ رضا کی ہدایت کاری میں’چند روز اور میری جان‘ ڈرامہ دیکھنے کے لیے پہلے دن سے ہی منتظر تھے اور سوشل میڈیا پر بھی انھوں نے اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’ونگس کلچرل سوسائٹی‘ تھیٹر گروپ کی اس پیشکش میں لوگوں کی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔

6 جولائی سے 10 جولائی تک چلے اس ’اُردو ڈرامہ فیسٹیول‘ کا انعقاد غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈرامہ گروپ ’ہم سب‘ کی طرف سے کیا گیا۔ روزانہ ایک ڈرامہ پیش کیا گیا اور سبھی ڈرامے شام 6.30 بجے شروع ہوئے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ٹرسٹی اور ’ہم سب‘ کی چیئرپرسن رخشندہ جلیل نے اس ’اُردو ڈرامہ فیسٹیول‘ کے انعقاد سے قبل ہی اس تعلق سے ’قومی آواز‘ کو بتایا تھا کہ ’’ہندوستان کے پانچویں صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کی بیوی بیگم عابدہ احمد کی یاد میں یہ ڈرامہ فیسٹیول کرایا جا رہا ہے جو’ہم سب‘ کی بانی ہیں۔ اِس اُردو ڈرامہ فیسٹیول کے ذریعہ ’ہم سب تھیٹر گروپ‘ کو مزید متحرک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

ڈراموں کے پریزنٹیشن کے لیے تھیٹر گروپوں کے انتخاب سے متعلق رخشندہ جلیل کا کہنا تھا کہ ’’ چونکہ یہ اُردو ڈرامہ فیسٹیول ہے اس لیے خاص خیال رکھا گیا کہ تھیٹر گروپ اُردو زبان پر عبور رکھتے ہوں۔‘‘ ڈرامہ فیسٹیول ختم ہونے کے بعد رخشندہ جلیل کی یہ بات صحیح ثابت ہوتی ہے کیونکہ ہر تھیٹر گروپ نے ڈراموں میں بہترین تکنیک کے ساتھ ساتھ لسانی اعتبار سے بھی اپنی مضبوطی ظاہر کی۔

سب سے زیادہ مقبول