برہان پور کی سرزمین 500 سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہ کر سکی: ایڈووکیٹ خلیل الرحمٰن

صوفی شاعر حضرت شاہ بہاؤالدین باجن کے 530 سالہ عرس کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں ایڈووکیٹ خلیل الرحمٰن نے کہا کہ ’’شاہ بہاؤ الدین باجن کی شعر و ادب کی ثروت مندی میں جو حصہ ہے وہ بہت بڑا ہے۔‘‘

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

برہان پور: شاہ بہاؤ الدین باجن کی ادبی اور شعری خدمات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ خلیل الرحمن نے کہاکہ آپ یقین کیجیے برہان پور کی سرزمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی۔ یہ بات انہوں نے دارالسرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی برہان پور کے زیر اہتمام آن لائن کانفرنس ’اردو شاعری کے ارتقائی سفر میں باجن کی حصہ داری‘ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

صوفی شاعر حضرت شاہ بہاؤالدین باجن کے 530 سالہ عرس کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں انہوں نے کہا: شاہ بہاؤ الدین باجن کی شعر و ادب کی ثروت مندی میں جو حصہ ہے وہ بہت بڑا ہے، ایک جلسہ یا ایک مقالہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ موصوف نے مزید کہا کہ آپ یقین کیجیے برہان پور کی سرزمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی۔ افسوس نہ ان کا کوئی کام دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ان کا تعارف۔ انہوں نے مقالہ نگاران کے مقالات پر مختراً تبصرہ و تجزیہ بھی پیش کیا۔


کویت سے صدر بزم صدف انٹرنیشنل، کویت، جنرل سکریٹی آداب غزل اکیڈمی کویت اور صاحب دیوان شاعر مسعود حساس نے بڑی خوبصورت نظامت فرمائی۔ اپنے مرصع و مسجع جملوں سے نظامت میں چار چاند لگا دیئے اور انہوں نے شاہ باجن کی شاعری تصوف ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ضرورت اس بات کی ان پر کام کیا جائے اور ان کی خدمات کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ خاص طور پر ان کی شاعری کی موجودہ دورمیں بہت اہمیت اور ضرورت ہے۔ سوسائٹی کے چیئرمین تنویر رضا برکاتی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا: آج کی یہ کانفرنس باجن کے کے تعارف کے سلسلے میں عالمی سطح پر نقش اول کی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم آئندہ باجن پر انٹرنیشنل سیمینار اور کانفرنس کے انعقاد کا عزم رکھتے ہیں۔

برہان پور کے معروف استاد شاعر و ادیب جمیل اصغر نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا: اردو زبان و ادب کے مؤرخین و محققین نے باجن کی تصنیف خزانۂ رحمت کو اردو کا نہایت قدیم ماخذ قرار دیا ہے اور خود باجن کو اردو کے اولین شاعر کی حیثیت سے سے متعارف کروایا ہے۔ خلیل انصاری ایڈووکیٹ (سابق پروفیسر شعبۂ قانون سیوا سدن کالج، برہان پور) نے اپنے مقالے میں کہا: زبان و ادب کی خدمات کے سلسلے میں باجن کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اردو زبان کے آغاز و ارتقاء میں عوامی زبان کو رفتہ رفتہ علمی و ادبی حیثیت سے باجن نے اردو دکنی گوجری میں اپنی نظم و نثر کے ذریعہ پندو نصائح کے نمونے پیش کیے ہیں۔


معروف شاعر و ناظم طاہر نقاش (پرنسپل گورنمنٹ اردو ہائر سیکنڈری اسکول، لالباغ) نے اپنے مقالے میں کہا: اردو زبان جو آج پوری دنیا میں اپنی شیرینی کا لوہا منوا رہی ہے اس کے ابتدائی تدوین میں باجن کے ملفوظات اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کانفرنس کو سوسائٹی کے فیس بک پیج پر لائیو نشر کیا گیا جس میں تقریباً 22 ملکوں سے ایک ہزار شرکاء نے شرکت کی۔ تنویر رضا برکاتی نے تمام مہمانان اور لائیو دیکھنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔