حسرت موہانی نے ایک انسان کی حیثیت سے انسانوں کے دکھ درد کو سمجھا: ریحان غنی

حسرت موہانی نے جولائی 1903ء میں ’اردوئے معلیٰ‘ کے نام سے ایک معیاری رسالہ نکالا۔ یہ اردو کا پہلا ایسا رسالہ ہے جس نے مسلمانوں میں قومیت پر مبنی سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

یو این آئی

پٹنہ: مولانا حسرت موہانی ایک ایسے انسان، ایک ایسے شاعر، ایک ایسے ادیب، ایک ایسے ناقد، ایک ایسے صحافی اور ایک ایسے سیاست داں تھے جنہوں نے ایک انسان کی حیثیت سے انسانوں کے دکھ درد کو سمجھا۔یہ بات سینئر صحافی اور ادبی تنظیم ’ہم نشیں‘ کے جنرل سکریٹر ڈاکٹر ریحان غنی نے ’حسرت موہانی شخصیت اور خدمات‘ کے موضوع پر لکچر دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ حسرت موہانی نے شاعر کی حیثیت سے رومانی اور رجائی شاعری کو جلا بخشی، ادیب کی حیثیت سے ادب کا اعلیٰ معیار قائم کیا اور ناقد کی حیثیت سے صحت مند تنقید کے راستے ہموار کیے۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے صحافی کی حیثیت سے صحافت کا شاندار اور معیاری نمونہ پیش کیا اور سیاست داں کی حیثیت سے مذہب پر سیاست کو کبھی غالب نہیں ہونے دیا، آزادی کامل کے نعرے اور خواب کو سچ کر دکھایا۔

رابطہ ادب اسلامی بہار شاخ کے زیر اہتمام اس تقریب میں انہوں نے کہا کہ حسرت موہانی نے جولائی 1903ء میں ”اردوئے معلیٰ“ کے نام سے ایک معیاری رسالہ نکالا۔ یہ اردو کا پہلا ایسا رسالہ ہے جس نے مسلمانوں میں قومیت پر مبنی سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسا رسالہ جس نے شعر و سخن کے پھول اور سیاست کے کانٹے ایک ساتھ قارئین کے سامنے پیش کیے اور بے شمار معروف اور غیر معروف شعراء کے حالات زندگی شائع کر کے ان کو نئی زندگی عطا کی۔ اردوئے معلی اپنے وقت کا وہ واحد رسالہ تھا جس نے اپنے قارئین کو آزادی کامل کے لفظ سے روشناس کرایااور بتایاکہ ملک کی فلاح و بہبود کا انحصار ملک کو انگریزوں کی گرفت سے مکمل طور پر آزاد کرانے میں ہی ہے۔

انہوں نے کہا اس بوریہ نشیں اور فقیرانہ زندگی بسر کرنے والے مرد مجاہد کا کردار شخصیت اور سیرت دیکھئے تو رشید احمد صدیقی کی طرح ہر شخص کو یہ کہنا پڑے گا کہ ”کس قیامت کا یہ آدمی تھا“۔ انہو ں نے کہا کہ حسرت موہانی نے اپنے مزاج سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور انگریزوں کو اس ملک سے نکالنے کے لئے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جس کے اثرات تیزی سے مرتب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حسرت موہانی دستور ساز اسمبلی کے ممبر بھی تھے لیکن انہوں نے کوئی سرکاری بھتہ بھی نہیں لیا۔ جس کا ذکر ’آنکھیں ترستیاں ہیں‘ میں ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد نے بہت تفصیل سے کیا ہے۔ انہوں نے عبدا الماجد دریا آبادی کے حوالے سے کہا کہ حسرت موہانی مزارات پر حاضری کے بڑے پابند اور عرس کے قائل تھے۔ اجمیر اور بغداد وغیرہ کی درگاہیں ان کی عقیدت کا مرکز تھیں۔ وہ متھرا بھی حاضری دیا کرتے تھے اور شری کرشن جی کے بھی بڑے بھکت تھے۔ ڈاکٹر ریحان غنی نے کہا کہ مولانا حسرت موہانی کو سچا خراج عقیدت یہ ہے کہ ان کی قربانی اور خدمات سے نئی نسل کو روشناس کرایا جائے۔

پروگرام کی صدارت ادارے کے صدر اور ممتاز مصنف ڈاکٹر عتیق الرحمن نے کی۔ اس موقع پر سابق صدر شعبہ اردو ویر کنور سنگھ یونیورسیٹی آرہ اور خانقاہ شاہ ارزانی کے سجادہ نشیں ڈاکٹر سید شاہ حسین احمد نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔