موجودہ برق رفتار عہد میں اردو والوں کو بھی نئے ڈھنگ سے آگے بڑھنا ہوگا: نجیب جنگ

اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو کے اشتراک سے منعقد سمینار میں جامعہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ کے علاوہ سابق وائس چانسلر شاہد مہدی بھی بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی:جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اردو خدمات‘ موضوع پر ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جامعہ کے سابق وائس چانسلر اور دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے بطور مہمان خصوصی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جامعہ کو اردو نے بہت کچھ دیا ہے۔ لیکن اب اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ وقت میں اردو کے لیے جامعہ کیا کچھ کررہی ہے۔ شعبۂ اردو کو جامعہ کا تاج ہونا چاہیے۔ نئے دور کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو اردو کے لیے بڑھ چڑھ کر کام کرنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے اپنے خطاب کے دوران شدت سے اس مسئلہ کو اٹھایا کہ کیا اردو اپنی روایتی قسم کی روش پر چل کر بدلتی دنیا اور بدلتے حالات کے ساتھ نبھا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس برق رفتار عہد اور اس زمانے کے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے اردو والوں کو بھی نئے ڈھنگ سے آگے بڑھنا ہوگا اور نئے اقدام کرنے ہوں گے۔‘‘

اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صدی تقریبات کے سلسلے میں شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے اس اجلاس کا انعقاد ہوا تھا جس میں جامعہ کے سابق وائس چانسلر سید شاہد مہدی بھی بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’جامعہ نے اردو نثر کو جو کچھ دیا ہے وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ یہ جامعہ کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے بیش تر شیخ الجامعہ اردو کے ادیب رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اردو کے فروغ کے لیے رسم الخط کی اشاعت ضروری ہے۔‘‘ سید شاہد مہدی نے مکتبہ جامعہ، کتاب نما، رسالہ جامعہ اور اسلام اور عصر جدید کی بازیابی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان رسائل اور اداروں نے اردو میں دانش وری کی روایت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے کی اور دہلی اردو اکادمی و شعبۂ اردو کو کامیاب سمینار کے لیے مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ نیک خواہشات بھی پیش کیں۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’’اس سمینار سے جامعہ کی صد سالہ اردو خدمات کا مفصل احاطہ ہونے کی توقع بے جا نہیں ہے۔‘‘ کلیدی خطبہ پروفیسر شمیم حنفی نے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اردو میں ترجمہ، علمی نثر، تھیٹر، بچوں کے ادب اور خواتین کے ادب کے ساتھ تعلیماتی لٹریچر اور دانش وری کی نئی روایت کے استحکام میں جامعہ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ جامعہ کے بانیان اور معماران نے اردو صحافت، شعر و ادب اور مختلف علوم و فنون سے نہ صرف ذاتی طور پر دلچسپی لی بلکہ انھیں فروغ بخشنے میں حد درجہ جانکاہی سے کام لیا۔‘‘

صدر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے تعارفی کلمات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شعبۂ اردو کی اردو خدمات کا بسیط احاطہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جامعہ کی روشن تاریخ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ جامعہ کی بنیاد اردو پر قائم ہے اور اردو کے بغیر جامعہ کا کوئی بامعنی تصور نہیں ہوسکتا۔‘‘ استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے وائس چیر مین، اردو اکادمی دہلی پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ ’’جامعہ سے اردو اکادمی دہلی کا دیرینہ تعلق رہا ہے۔ جامعہ سے وابستہ پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر خالد محمود اور پروفیسر اخترالواسع وغیرہ نے وائس چیرمین کی حیثیت سے غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔‘‘

اس موقع پر مہمان اعزازی ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز پروفیسر محمداسدالدین بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’جامعہ اپنی ابتدا سے ہی زبانوں کا گہوارہ رہی ہے۔ اس کے معماران نے مختلف عالمی، ادبی اور علمی شاہ کار کے اردو میں نہایت اعلیٰ درجے کے ترجمے کیے ہیں۔‘‘

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)