پروفیسر حسین الحق کو ان کے مشہور ناول ’اماوس میں خواب‘ کے لئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا

پروفیسر حسین الحق نے دو سو سے زیادہ کہانیاں اور کتابیں لکھی ہیں۔ اردو ادب میں انہیں اعلی مقام حاصل ہے اور ان کی اعلی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تصویر بذریعہ محمد راحم
تصویر بذریعہ محمد راحم
user

قومی آوازبیورو

ساہتیہ اکادمی نے آج 20 زبانوں میں اپنے سالانہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کی تقریب منعقد کی جس میں شاعری کی سات کتابیں، چار ناولز، پانچ مختصر کہانیوں، دو ڈراموں کو ’ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2020‘ کے لیے نوازا کیا۔ آج ساہتیہ اکادمی کے صدر ڈاکٹر چندرشیکھر قمبر کی صدارت میں یہ تقریب منعقد ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ پروفیسر حسین الحق کی پیدائش 2 نومبر 1949 کو بہار کے شہر سہسرام ​​میں ایک صوفی گھرانے میں ہوئی تھی۔ حسین الحق 2014 میں مگدھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ایچ او ڈی کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ پروفیسر حسین الحق نے دو سو سے زیادہ کہانیاں اور کتابیں لکھی ہیں۔ اردو ادب میں انہیں اعلی مقام حاصل ہے اور ان کی اعلی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

حسین الحق کا پہلا ناول ’بولو مت چپ رہو‘ شائع ہوا، جس کے بعد ناقدین نے ان پر توجہ دینا شروع کیا۔ ان کا دوسرا ناول ’فرات‘ ہے جو انھیں بلندیوں پر لے گیا۔ سنہ 2017 میں انہوں نے ’اماوس میں خواب‘ کی تصنیف کی جو منظر عام پر آتے ہی موضوع بحث بن گئی۔ ان کی تحریروں اور اس ناول کے کردار نے لوگوں کو متاثر کیا۔ اس ناول میں موجودہ صورتحال کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے، اس میں ملک سے محبت، ہندو مسلم بھائی چارہ، بھارتی ثقافت اور آج کی سیاست کو بڑے پیمانے پر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس سے قبل پروفیسر حسین الحق کو بنگال اردو اکیڈمی، بہار اردو اکیڈمی کی جانب سے بھی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے، ساتھ ہی ملک کے ایک اور مشہور ایوارڈ ’غالب ایوارڈ‘ سے بھی پروفیسر موصوف سرفراز ہوچکے ہیں۔

بہر حال، آج تقریب کے دوران جن پروفیسر حسین الحق کے علاوہ جن شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا ان میں اروندھتی سبرامنیم (انگریزی)، ہریش میناشرو (گجراتی)، انامیکا (ہندی)، آر ایس بھاسکر (کونکانی)، ارنگ بام دیون (منیپوری)، روپچند ہنسداہ (سنتالی)، نکھلیشور (تلگو) وغیرہ شامل ہیں۔ ناولز میں ایوارڈ کے لیے منتخب ناموں میں نندا کھر (مراٹھی)، ڈاکٹر مہیش چندر شرما گوتم (سنسکرت)، امیئم (تمل) اور حسین الحق (اردو) کا نام شامل ہے۔مختصر کہانیوں کے لیے ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اپربا کمار ساکیہ (آسامی)، دھرنیدر اواری (بوڈو)، ہیردے کول بھارتی (کشمیری)، کمل کانت جھا (میتھلی) اور گرودیو سنگھ روپنا (پنجابی) کا نام شامل ہے۔ سبھی کو بطور ایوارڈ ایک لاکھ روپے نقد، تانبے کی تختی اور ایک شال پیش کیا گیا۔

(بشکریہ محمد راحم)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔