مجتبیٰ حسین اردو طنز و مزاح کے بے تاج بادشاہ تھے: پروفیسر شہزاد انجم

پروفیسر شہپر رسول نے مجتبیٰ حسین کے انتقال کو اردو دنیا کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت انسان اور بحیثیت فن کار، دونوں طرح بھرپور شخصیت کے مالک تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پریس ریلیز

عہد حاضر کے ممتاز طنز و مزاح نگار، خاکہ نویس اور سفرنامہ نگار مجتبیٰ حسین کی رحلت پر صدر شعبہ پروفیسر شہزاد انجم کی صدارت میں شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیر اہتمام گوگل میٹ پر آن لائن تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ پروفیسر شہزاد انجم نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ حسین اردو طنز و مزاح کے بے تاج بادشاہ تھے۔ انھیں واقعہ نگاری اور منظر نگاری پر کمال حاصل تھا۔ اس عہد کے زندہ نثر نگاروں میں ان کے پائے کا ادیب ابھی کوئی دوسرا نہیں ہے۔

تعزیتی نشست میں شامل پروفیسر شہپر رسول نے مجتبیٰ حسین کے انتقال کو اردو دنیا کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت انسان اور بحیثیت فن کار، دونوں طرح بھرپور شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے یہاں مزاح کا عنصر مدھم ہے لیکن طنز بہت گہرا ہے۔ ان کا ایک اہم وصف یہ ہے کہ انھیں پڑھتے ہوئے اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ پروفیسر احمد محفوظ نے اظہارِ ملال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری اردو دنیا میں ان کی شخصیت غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ بلا کی ذہانت اور طباعی ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ ان کے طنزیہ اسلوب میں وسعت ہے اور گہرائی بھی۔

پروفیسر کوثر مظہری نے مجتبیٰ حسین سے اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر جذباتی انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ وہ رشتوں کے بہت قدر دان تھے، سب کا خیال رکھتے تھے اور بلا مبالغہ طنز و مزاح کے میدان میں انھیں زندہ لیجینڈ کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ پروفیسر عبد الرشید نے مجتبیٰ حسین کی رحلت کو اردو نثر کے ایک اسلوب کی موت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے طنز و مزاح کی تہہ میں انسانی کرب و آلام، عہدِ حاضر کا آشوب اور قدروں کے بحران کا ماتم بپا ہے۔ پروفیسر خالد جاوید نے کہا کہ ایک ایسے وبائی دور میں جب کہ ہر طرف موت رقص کر رہی ہے، اس دور میں تو ہمیں اجتماعی تعزیت نامہ بھی پیش کرنا چاہیے، ایسے دور میں اتنے بڑے اور زندہ دل قلم کار کا سانحہ ارتحال ہم لوگوں پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑنے سے کم نہیں ہے۔ مجتبیٰ حسین کا امتیاز طنز و مزاح میں توازن تھا۔ نہ طنز میں شدید نشتریت اور نہ مزاح میں ابتذال۔ ڈاکٹر خالد مبشر نے شعبے کی جانب سے تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے ان کے طنز و مزاح کو اردو ادب کی تاریخ میں ایک لازوال کارنامہ قرار دیا۔ انھوں نے اس آن لائن تعزیتی جلسے کی نظامت کے فرائض بھی انجام دیے۔

اس موقع پر پروفیسر ندیم احمد، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ثاقب عمران اور ڈاکٹر سلطانہ واحدی نے بھی تعزیتی کلمات میں مجتبیٰ حسین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی ادبی خدمات اور شخصی خوبیوں کا ذکرِ خیر کیا۔ تعزیتی نشست کا اختتام دعائیہ کلمات پر ہوا۔

Published: 30 May 2020, 6:40 PM