دکنی اردو میں اسلامی علوم کا اہم ذخیرہ موجود

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے ذریعہ ایک آن لائن تقریب کا انعقاد ہوا جس میں پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے توسیعی خطبہ پیش کیا

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد / تصویر آئی اے این ایس
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد / تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

حیدرآباد: ”دکنی زبان میں تعلیمی کاموں کا آغاز علاءالدین خلجی کی فتوحات سے بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ متعدد صوفیا کرام نے دکن کو اپنا مرکز بنایا اور انسانیت کی خدمات انجام دیتے رہے، ان میں چند نام حاجی رومی، سید شاہ مومن، بابا سید مظہرعالم وغیرہ کے ملتے ہیں۔ ابتداء میں ان کے ذریعہ کیا جانے والا کام منظوم شکل میں تھا، پھر نثر میں کام ہونے لگا“۔ ان خیالات کا اظہار پر وفیسر محمد نسیم الدین فریس، ڈین اسکول برائے السنہ، لسانیات وہندوستانیات نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے 27 اگست کو منعقدہ اپنے آن لائن توسیعی خطبہ ”دکنی اردو میں علمی سرمایہ“ میں کیا۔

نسیم الدین فریس نے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محمد بن تغلق کے دور حکومت میں پایہ تخت کی دہلی سے دیوگیری منتقلی کے تاریخ ساز فیصلے نے اس خطہ کی لسانیات پر بھی اثر ڈالا، اور دکنی اردو کو شمالی ہند سے آنے والے لوگوں کی زبان کھڑی بولی کے ساتھ مل کر مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ انھوں نے کہا کہ دکنی اردو میں علمی کام کا ایک بڑا حصہ اسلامی موضوعات سے متعلق ہے، اور اس کا دوسرا حصہ دیگر موضوعات پر علمی سرمایہ فراہم کرتاہے۔ تصوف، فقہ، حدیث، تفسیر اور سیرت جیسے موضوعات پر دکنی زبان میں پہلے منظوم اور پھر نثری کام انجام دیئے گئے۔ دیگر موضوعات میں طب یونانی، علمِ نجوم، شاعری و ادب اور تاریخ وسوانح جیسے موضوعات پر بھی کام ہوئے، جو مخطوطات کی شکل میں کتب خانہ سالارجنگ میوزیم، کتب خانہ آصفیہ اور ادارہ ادبیات اردو میں موجود ہیں۔


پروگرام کا آغاز ڈاکٹر عاطف عمران (استاذ شعبہ اسلامک اسٹڈیز) کی تلاوت و ترجمہ کے ساتھ ہوا۔ اسلامی مطالعات فورم شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی کوآرڈینیٹر ذیشان سارہ (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز) نے اسلامی مطالعات فورم کا تعارف پیش کیا۔ ساتھ ہی توسیعی خطبہ کے موضوع اور مہمان خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ پروگرام کے اختتام میں صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز پروفیسرمحمد فہیم اختر ندوی نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ دکنی اردو میں ہونے والے اسلامی موضوعات کے ان نادر کاموں کو تحقیق کے ذریعہ سامنے لانے کی ذمہ داری اسلامک اسٹڈیز کے محققین کی ہے، ضرورت ہے کہ ان کاموں کا تعارف تیار کیا جائے اور ان میں جو قیمتی کام ہیں انھیں شائع کیا جائے۔ انھوں نے مہمان خصوصی کا شکریہ اداکرتے ہوئے تحقیقی خطاب پیش کرنے پر انھیں مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹرعاطف عمران کے کلمات تشکر سے پروگرام کا اختتام ہوا۔ یہ پروگرام آئی ایم سی، مانو کے یوٹیوب چینل سے راست نشر کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔