’دہلی اردو کی بھی راجدھانی‘، مشاعرہ جشن بہار سے منیش سسودیا کا اظہار خیال

جشن بہار ٹرسٹ کی جانب سے21 ویں مشاعرہ جشن بہار کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر جشن بہار ٹرسٹ کی بانی کامنا پرساد نے کہا کہ ’’اردو گاندھی وادی ہے، محبت کی زبان ہے اور امن و اتحاد کی باتیں کرتی ہے۔‘‘

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز

پریس ریلیز

نئی دہلی: اردو ادب کو فروغ دینے میں پیش پیش ’جشن بہار ٹرسٹ ‘نے 18 اکتوبر کی شام ڈی پی ایس متھرا روڈ میں اپنے21ویں بین الاقوامی مشاعرہ جشن بہار-2019 کا انعقاد کیا۔شاعر جہاں دہلی کی خوشگوار فضا میں محبت کے رس گھول رہے تھے وہیں مہاتما گاندھی کے 150 ویں جینتی کے موقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آفاقی اخوت اور جامعیت کےگاندھیائی نظریات بھی آج کی تازہ شاعری میں بھرپور نظر آئے۔

مشاعرہ کے آغاز پر جشن بہارٹرسٹ کی بانی کامنا پرساد نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ اردوگاندھی وادی ہے، محبت کی زبان ہے،امن و اتحاد کی باتیں کرتی ہے۔ مذہبوں کو زبان درکارہے، لیکن زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ان کا کام ہوتا ہے رابطے قائم کرنا، محبتوں کے پل باندھنا۔ اس مشاعرے میں بیرون ملک سے تشریف لائے معروف شعراء میں ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ(واشنگٹن)، ڈاکٹرنوشہ اسرار(ہیوسٹن)، عزیز نبیل (دوحہ قطر)اورسیدسروش آصف( ابوظہبی ) کے نام شامل ہیں جب کہ ہندوستان سے پروفیسروسیم بریلوی(بریلی)، ڈاکٹرنصرت مہدی(بھوپال)، اقبال اشہر(دہلی)، عقیل نعمانی(رامپور)، پروفیسرمینوبخشی(دہلی)،لیاقت جعفری(جموں)، پروین کیف(بھوپال)، ڈاکٹر نزہت انجم، (لکھنؤ) ، عبدالرحمن منصور(فریدآباد)، مدن موہن دانش(گوالیار)، اظہراقبال(میرٹھ)، ڈاکٹر ندیم شاد(دیوبند) اور ناظم مشاعرہ آلوک شریواستو(دہلی) نے شرکت کی۔

مشاعرہ میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہلی جیسے ہندوستان کی راجدھانی ہے ویسے ہی اردو کی بھی دارالحکومت ہے۔اردوئے معلی بھی یہیں سے ہے اور اردوبازار بھی یہیں ہے۔میں نے اپنے بزرگوں کو اردو پڑھتے، لکھتے دیکھا ہے اور جشن بہار جیسے مقبول مشاعرےاس زبان کی ہندوستانیت کے گواہ ہیں، ایسے میں اس زبان کو جو لوگ آج کل 'فورین' (غیرملکی) قرار دے رہے ہیں انہیں ہندوستان کی تاریخ اور مشترکہ تہذیب پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پہلی خاتون وائس چانسلر نجمہ اختر نےادبی جشن میں بحیثیت مہمان ذی وقار شرکت کرتے ہوئے کہا کہ جشن بہار مشاعرہ ہمارے مشترکہ ثقافتی ورثے کا جشن ہے۔ اردو اپنے آغاز سے ہی ہندوستان کی سیکولر اقدار کی حفاظت کررہی ہے۔ اردو نسل نو کی ذہن سازی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، انہیں ادب وآداب سکھاتی ہے۔

مشاعرہ کی صدر اورحال ہی میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز ممتاز ادیبہ چترا مدگل نے کہا کہ دیش اور سماج کی گنگاجمنی تہذیب کو جب جب تنگ نظری نے اکسانے، ادھیڑنے،توڑنے اور الگ کرنے کوشش کی ہے تو اردو آگے آئی ہے۔اس کی نظموں اور غزلوں نے لوگوں کو گلے لگا کر ان کے زخموں پر مرہم کا کام کیا ہےاور سمجھایا ہے کہ اہم اپنی مشترکہ ثقافت کو کیسے سنبھال کر رکھیں اور کیوں کر رکھیں۔

مشاعرہ جشن بہار -2019 میں مرکزی خیال قومی یکجہتی اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی تھا۔ دنیائے اردو ادب کے سرفہرست ناموں نے اپنی تازہ ترین کلام سے تقریباً چارہزار شائقین کو خوب محظوظ اور مسحور کیا۔ دنیا کایہ سب سے بڑا بین الاقوامی مشاعرہ پہلی مرتبہ پوری دنیا میں لائیو ویب کاسٹ بھی ہوا ۔

مشاعرہ جشن بہار کی محفل کو کامیاب بنانے والے ممتاز شعرا وشاعرات میں بیرون ملک واشنگٹن سے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، ہیوسٹن سے ڈاکٹرنوشہ اسرار، دوحہ قطرسے عزیز نبیل اور ابوظہبی سے سیدسروش آصف، جب کہ ملک ہندوستان سے پروفیسر وسیم بریلوی، ڈاکٹر نصرت مہدی، اقبال اشہر، عقیل نعمانی، پروفیسر مینو بخشی،لیاقت جعفری، پروین کیف، ڈاکٹر نزہت انجم، عبدالرحمن منصور، مدن موہن دانش، اظہراقبال، ندیم شاد اور ناظم مشاعرہ آلوک شریواستوقابل ذکر ہیں۔

غیر منافع بخش جشن بہار ٹرسٹ نے اردو اکادمی دہلی، تکشیلا ایجوکیشنٍ سوسائٹی، ایم آر موارکا فاؤنڈیشن، دہلی پبلک اسکول متھرا روڈ، دھامپور شوگر ملز ، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹید، سواستک الیک، جاہنوی کنسٹرکشن اور النواز ریسٹورینٹ کے تعاون سے یہ ادبی محفل سجائی گئی ۔

مشاعرہ جشن بہار-2019 میں پڑھے گئے چنندہ کلام:

ٹھوکروں کو بھی نہیں ہوتی ہر اک سر کی تلاش

بھانپ لیتی ہیں کسے آتا ہے سجدہ کرنا دعاؤں کے ساتھ

(پروفیسروسیم بریلوی)

معمولی سے اک بشرہو تم عبداللہ

دنیا کے جھگڑے تم سے کیسے نپٹیں گے

اس لیے تم میری مانو

اپنے کام سے کام رکھو اورچادراوڑھ کے

لمبی تانو!

(ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ)

اک کمزور دیےنے تو اجالا بخشا

دیکھنا یہ ھے، اجالے نے کسے کیا بخشا

(ڈاکٹر نوشہ اسرار)

بکھرچکاہے تعلق، کساؤ مشکل ہے

چلو ہٹاؤ کہ اب رکھ رکھاؤ مشکل ہے

(ڈاکٹر نصرت مہدی)

مجھ میں کوئی مجھ جیسا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

یا پھر کوہی اور چھپا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے

(سید سروش آصف)

بے فیض اک چراغ بتایا گیا مجھے

سورج بجھا تو ڈھونڈ کے لایاگیا مجھے

ابھرا ہراک بار نیا پھول بن کے میں

مٹی میں جتنی بار ملایا گیا مجھے

(اقبال اشہر)

خوشی یہ ہے کہ میں سورج کی دستک سن رہا ہوں

قلق یہ ہے چراغوں سے جدا ہوناپڑے گا

(عقیل نعمانی)

سانس لیتا ہوا ہر رنگ نظر آئے گا

تم کسی روز میرے رنگ میں آؤ توسہی

(عزیز نبیل)

رسم وفا نبھانا تو غیرت کی بات ہے

وہ مجھ کو بھول جائے یہ حیرت کی بات ہے

(ڈاکٹر نزہت انجم)

بڑھاکر ہاتھ ساری حد مٹا دے

زمینوں کے کشادہ قد مٹا دے

کبھی بچے کو نقشہ مت دکھانا

نہ جانے کون سی سرحد مٹادے

(لیاقت جعفری)

کیوں پریشاں نظر آتے ہیں تیرے شہر کے لوگ

جب کبھی ہم تیری محفل میں نظر آتے ہیں

(پروفیسر مینو بخشی)

دوپہر مسجد میں یہ اعلان فرمایا گیا

ایک بچہ رہ رہاہے، جن کا ہے لے جائیے

دوڑ کر بدلو میاں پہنچے مؤذن سے کہا

جن کا بچہ کیسے ہوتا ہے ہمیں دکھلائیے

(عبدالرحمن منصور)

اور کیا آخر تجھے اے زندگی چاہیے

آرزو کل آگ کی تھی، آج پانی چاہیے

(مدن موہن دانش)

دل کے ہیں برے لیکن اچھے بھی تو لگتے ہیں

ہر بات سہی جھوٹی، سچے بھی تو لگتے ہیں

(پروین کیف)

چہکتے گھر مہکتے کھیت اور وہ گاؤں کی گلیاں

جنہیں ہم چھوڑ آئے ان سبھی کہ جیتے رہتے ہیں

(آلوک شریواستو)

جنون کم ہے تو مجھ سے شاعری کم ہورہی ہے

تمہیں پاکر میری دیوانگی کم ہو رہی ہے

(اظہر اقبال)

چاہے سب کھوجائے لیکن ان کو مت کھونا

جن کو تیری آنکھ کا آنسو دریا لگتا ہے

(ڈاکٹرندیم شاد)