آئی پی ایل 2020: وراٹ جیت کا سلسلہ برقرار رکھنے اور راہل واپسی کے ارادے سے میدان میں اتریں گے

اس میچ میں بنگلور کے جیتنےقوی امکان ہیں لیکن پنجاب کی ٹیم واپسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ ایسی صورت میں وراٹ سینا کو ضرورت سے زیادہ اعتماد سے بچنا ہوگا اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

بشکریہ ٹوئٹر @IPL
بشکریہ ٹوئٹر @IPL
user

یو این آئی

دبئی: رائل چیلنجرس بنگلور کے کپتان وراٹ کوہلی جمعرات کو کنگز الیون پنجاب کے خلاف اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں جبکہ پنجاب کے کپتان لوکیش راہل پچھلی شکست کو بھلاکر واپسی کے ارادے سے میدان میں اتریں گے پنجاب کو سپر اوور میں دہلی کیپٹلز کے خلاف آئی پی ایل 13 کے اپنے پہلے میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ بنگلور نے اپنے پہلے میچ میں سن رائزرس حیدرآباد کو شکست دی تھی۔ کوہلی آٹھویں بار آئی پی ایل میں بنگلور کی کپتانی کر رہے ہیں اور تین سیزن کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ان کی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں فاتحانہ آغاز کیا۔ پچھلے تین سیزن میں وراٹ کی ٹیم اپنے پہلے میچ میں ہار گئی تھی۔ لیکن بنگلور نے جس طرح سے آئی پی ایل 13 میں آغاز کیا ہے اس سے ٹیم کو یقیناً بہت حوصلہ ملا ہوگا۔ کوہلی کے سامنے دوسرے میچ میں پنجاب کی ٹیم ہوگی جس نے دہلی کیپٹلز کے خلاف اپنے میچ میں جیت کے مواقع ضائع کیے تھے اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پنجاب مقررہ اوورز میں میچ ختم کرسکتا تھا لیکن 89 رنز بنانے والے مینک اگروال آخری اوور کی آخری تین گیندوں پر فاتحانہ رنز حاصل نہیں کرسکے۔ مینک پانچویں گیند پر آؤٹ ہوئے، چھٹی گیند پر ایک اور وکٹ نکل جانے سے اسکور ٹائی ہوگیا۔

پنجاب نے سپر اوور میں دو وکٹیں گنوا دیں اور ان کا اسکور محض دو رن تھا۔ دہلی کو سپر اوور جیتنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ پنجاب اور اس کے کپتان راہل کو ان غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم بنگلور کے خلاف میچ میں واپس آسکے۔ پنجاب نے دہلی کے خلاف پہلے بولنگ کی اور 13 رنز کے عوض دہلی کی تین وکٹیں گرا کر اچھا آغاز کیا۔ لیکن آخری اوورز میں دہلی کے مارکس اسٹوئنس اپنی دھماکہ خیز اننگز سے ٹیم کو تسلی بخش پوزیشن پر لے آئے جس کا خمیازہ پنجاب کو بھگتنا پڑا۔ 158 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پنجاب کی ٹیم بھی لڑکھڑا گئی اور اس کی چار وکٹیں 35 رنز پر گر گئیں۔ خود کپتان راہل بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 21 رنز بنائے تھے۔ دوسرے میچ میں راہل کو بنگلور کے خلاف ایک بڑی اننگز کھیلنی ہوگی تاکہ ٹیم کا حوصلہ بلند رہے۔ دہلی کے خلاف میچ میں پنجاب کے لئے مینک اگروال نے شاندار اننگز کھیلی اور 89 رنز کی اننگز نے ٹیم کو فتح کی دہلیز کے قریب کردیا۔ لیکن مینک کو سمجھنا ہوگا کہ اتنی بڑی اننگز کھیلنے کے بعد میچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ خراب شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ کھونے کی۔


پنجاب کے لئے یہ سکون کی بات ہے کہ مینک فارم میں ہیں لیکن ٹیم کا کوئی دوسرا بیٹسمین ان کے خلاف کرشمہ نہیں کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیم فتح کے قریب پہنچنے کے بعد بھی ہار گئی۔ تاہم یہ ایک انتہائی قریبی شکست تھی اور اگر پنجاب اپنی غلطیوں سے سبق لیتا ہے تو وہ بنگلور جیسے اسٹار کھلاڑیوں سے مزین ٹیم کے خلاف واپسی کرسکتا ہے۔ اگر پنجاب کو واپس آنا ہے تو اسے اپنی بلے بازی پر بہت زیادہ توجہ دینی ہوگی اور بڑی شراکت کرنی ہوگی۔ راہل کو کپتان کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ٹیم کی سامنے سے قیادت کرنی ہوگی تاکہ مڈل آرڈر پر دباؤ کم ہو۔ پہلے میچ میں پنجاب نے اپنے دھماکہ خیز بلے باز کرس گیل کو پلئینگ الیون میں شامل نہیں کیا تھا اور ان کی عدم موجودگی میں پنجاب کا بیٹنگ آرڈر مینک کے علاوہ مکمل فلاپ ثابت ہوا۔ گیل گزشتہ پیر کو 41 برس کے ہو گئے اور انہوں نے اپنی ٹیم کو ڈگ آؤٹ میں بیٹھ کر ایک سپر اوور میں ہارتے ہوئے دیکھا۔ اگر گیل جیسا بیٹسمین سپر اوور میں موجود ہوتا تو پنجاب کی ٹیم سپر اوور میں چیلینجنگ اسکور کرسکتی تھی۔

اس سے قبل گیل کئی سالوں تک بنگلور کی طرف سے کھیلے تھے۔ ایسی صورتحال میں وہ بنگلور کی حکمت عملی کے بارے میں جانکاری ہوگی۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اگلے میچ میں پنجاب گیل کو ٹیم میں شامل کرسکتا ہے۔ اگر گیل پنجاب کی ٹیم میں واپس آتے ہیں تو یہ بنگلور کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ گیل کی صلاحیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور اگر ان کا بلاّ چلتا ہے تو یہ بنگلور کے لئے بہت زیادہ تشویش کا سبب بن سکتا ہے۔ بالنگ ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں بات کریں تو فاسٹ بولر محمد سمیع پنجاب کے لئے کافی کفایتی ثابت ہوئے اور چار اوورز میں 15 رن دے کر تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ شیلڈن کوٹریل نے بھی دو وکٹوں سے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ آئی پی ایل کا پہلا میچ 2016 کے بعد پہلی بار جیتنے والی بنگلور کی ٹیم سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف جیتنے میں بہت پرجوش ہے۔ آخری دو سیزن میں بنگلور کی کارکردگی مایوس کن رہی لیکن سیزن کے آغاز میں جیت نے ان کے حوصلے کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔ آئی پی ایل میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے دیودت پڈیکل نے حیدرآباد کے خلاف 56 رنز کی دھماکہ خیز اننگ کھیلی اور کھیل میں کافی سرخیاں بنائیں۔ انہوں نے ایرون فنچ کے ساتھ مل کر ٹیم کو ایک مضبوط آغاز دیا اور دونوں بلے بازوں کے خلاف پہلی وکٹ کے لئے 90 رنز کی شراکت قائم کی۔ دونوں بلے بازوں کو اپنی تال مزید آگے بھی جاری رکھنا ہوگی تاکہ ٹیم کو مضبوط آغاز مل سکے۔


جبکہ یہ بنگلور کے لئے راحت کی بات ہے کہ اس کے اوپنرز نے ٹیم کو اچھی شروعات دی جبکہ اس کے کپتان کوہلی میچ میں اچھی کارکردگی میں ناکام رہے اور 14 رنز بنائے۔ اگر بنگلور کو جیت کا سلسلہ برقرار رکھنا ہے تو کوہلی کو جلد ہی اپنی فارم دوبارہ لوٹانی ہوگی تاکہ اگر اوپننگ جوڑی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہی تو وہ ٹیم کو سنبھال سکیں۔ مسٹر 360 ڈگری کے نام سے جانے جانے والے اے بی ڈویلیئرز بھی پہلے میچ میں بہت کامیاب رہے اور انہوں نے چار چوکوں اور دو چھکوں سے آراستہ اپنی اننگز میں نمایاں 51 رنز بنائے۔ بنگلور نے حیدرآباد کے خلاف اچھی شروعات کی تھی لیکن درمیانی اوور میں ان کی رن رفتار کم ہوگئی۔ بنگلور کو اس غلطی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

بنگلور کے لئے لیگ اسپنر یجویندر چہل نے حیدرآباد کے خلاف میچ جیتنے والی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو شکست کے دہانے سے نکال کر جیت کی دہلیز پر پہنچایا تھا۔ انہوں نے 18 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں جس میں جانی بیرسٹو اور منیش پانڈے جیسے لیجنڈری بلے بازوں کی وکٹیں شامل ہیں جنہوں نے حیدرآباد کو فتح کا راستہ دکھایا۔ چہل کے علاوہ شیوم دوبے اور نودیپ سینی نے بھی دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ میں بنگلور کے جیت کے قوی امکان ہیں لیکن پنجاب کی ٹیم واپسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ ایسی صورتحال میں پہلی فتح سے پرجوش وراٹ سینا کو ضرورت سے زیادہ اعتماد سے بچنا ہوگا اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔