آئی پی ایل میچ نمبر 34: خراب فیلڈنگ چنئی کو لے ڈوبی، دہلی 5 وکٹ سے فتحیاب

چنئی سپر کنگز نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 179 رن بنائے تھے اور آخری اوور میں مقابلہ دلچسپ ہو گیا تھا جب جیت کے لیے دہلی کو 17 رن بنانے تھے، لیکن اکشر پٹیل کے 3 چھکّوں نے جیت دہلی کی جھولی میں ڈال دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

آئی پی ایل سیزن 13 کے 34ویں میچ میں آج چنئی سپر کنگز اور دہلی کیپٹلز کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا جس میں دہلی کو 5 وکٹ سے فتح حاصل ہوئی۔ اس جیت میں ناٹ آؤٹ 101 رن بنانے والے دہلی کے سلامی بلے باز شکھر دھون کا بہت بڑا ہاتھ رہا، لیکن اس کے لیے چنئی کی خراب فیلڈنگ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا جنھوں نے صرف دھون کے تین کیچ چھوڑے اور اس کے علاوہ بھی خراب فیلڈنگ کا نظارہ سیکنڈ اننگ میں دیکھنے کو ملا۔ اس درمیان آخری اوور میں شاندار 3 چھکّے لگانے والے اکشر پٹیل کی بھی تعریف کرنی ہوگی جنھوں نے دہلی کیپٹلز کو جیت دلانے میں اپنا بھرپور تعاون دیا۔

چنئی سپر کنگز کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے آج ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پہلے اوور کی تیسری ہی گیند پر سلامی بلے باز سیم کرن بغیر کوئی رن بنائے دہلی کے تیز گیندباز نارخیا کا شکار ہو گئے۔ اس کے بعد دوسرے سلامی بلے باز فاف ڈوپلیسی اور شین واٹسن نے ٹیم کو پہلے جھٹکے سے اُبارا بھی اور کچھ بہترین شاٹ بھی میدان میں لگائے۔ دوسرا وکٹ واٹسن (28 گیندوں میں 6 چوکوں کی مدد سے 36 رن) کی شکل میں جب گرا تو ٹیم کا مجموعی اسکور 11.4 اوور میں 87 رن تھا۔ پھر پندرہویں اوور کی چوتھی گیند پر شاندار بلے بازی کر رہے ڈوپلیسی بھی رنوں کی رفتار بڑھانے کی کوشش میں 57 رن (47 گیندوں پر 2 چھکّوں اور 6 چوکوں کی مدد سے) بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

اس موقع پر چنئی کے کپتان مہندر سنگھ دھونی محض 3 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے، لیکن اس کے بعد امباتی رائیڈو اور رویندر جڈیجہ نے لاجواب بلے بازی کرتے ہوئے چنئی کو مستحکم پوزیشن میں پہنچا دیا۔ ان دونوں نے دہلی کے گیندبازوں کی خوب دھنائی کی اور آخر تک ناٹ آؤٹ رہے۔ امباتی رائیڈو نے جہاں 4 چھکّوں اور 1 چوکا کی مدد سے محض 25 گیندوں پر 45 رن بنائے، وہیں جڈیجہ نے 4 چھکّوں کی مدد سے 13 گیندوں میں 33 رن بنا ڈالے۔ مقررہ 20 اوور میں چنئی نے 4 وکٹ کے نقصان پر 179 رن بنا ڈالے جو کہ مقابلے کے لیے بہترین اسکور تھا۔

دہلی کی طرف سے گیندبازی میں صرف اکشر پٹیل نے کفایتی رہے جنھوں نے 4 اوور میں 23 رن دیے حالانکہ انھیں کوئی وکٹ حاصل نہیں ہوا۔ سب سے زیادہ 2 وکٹ نارخیا کو حاصل ہوئے لیکن انھوں نے 4 اوور میں 44 رن خرچ کر دیے۔ 1-1 وکٹ رباڈا اور دیشپانڈے کو حاصل ہوا۔ رباڈا نے 4 اوور میں 33 رن دیے جب کہ دیشپانڈے نے 4 اوور میں 39 رن دے ڈالے۔ روی چندرن اشون بھی مہنگے ثابت ہوئے جنھوں نے 3 اوور میں 30 رن دیے اور انھیں کوئی وکٹ نہیں ملا۔ مرکس اسٹوئنس کو بھی کوئی وکٹ نہیں ملا جنھوں نے 1 اوور میں 10 رن دیے۔

180 رنوں کے ہدف کا پیچھا کرنے اتری دہلی کی بھی شروعات خراب رہی۔ گزشتہ میچ میں پہلی گیند پر آؤٹ ہونے والے پرتھوی شا آج پہلے اوور کی دوسری گیند پر بغیر کوئی رن بنائے دیپک چاہر کا شکار ہو گئے۔ اجنکیا رہانے بھی آج کچھ خاص نہیں کر سکے محض 8 رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ کپتان شریئس ایر نے سلامی بلے باز شکھر دھون کا بہترین ساتھ دیا جو کہ بہت اچھی بلے بازی کر رہے تھے۔ شریئس جب 23 رن کے انفرادی اسکور پر ڈوین بریوو کا شکار ہوئے تو ٹیم کا اسکور 11.3 اوور میں 94 رن تھا۔

چونکہ دھون میدان میں کھڑے تھے اور تیز بلے بازی کر رہے تھے، اس لیے میچ پر دہلی کی گرفت اس وقت مضبوط نظر آ رہی تھی۔ کپتان شریئس کے آؤٹ ہونے کے بعد بلے بازی کے لیے میدان میں آئے مرکس اسٹوئنس نے بھی آتے ہی کچھ بڑے شاٹ لگائے، لیکن تیز رن بنانے کی کوشش میں 14 گیندوں پر 24 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ آخر کے 2 اوور میں جیت کے لیے 21 رن بنانے تھے، لیکن انیسویں اوور کی پہلی ہی گیند پر الیکس کیری (4 رن) بڑا شاٹ لگانے کے چکر میں باؤنڈری پر کیچ تھما بیٹھے۔ اب ساری امیدیں دھون کے اوپر تھیں کیونکہ وہ اچھی بلے بازی کر رہے تھے۔ حالانکہ چنئی کی خراب فیلڈنگ کی وجہ سے دھون کے 3 کیچ چھوٹے تھے جس کا فائدہ دھون نے خوب اٹھایا۔ 19ویں اوور کی آخری گیند پر انھوں نے اپنی سنچری مکمل کی اور آخری اوور میں دہلی کو جیت کے لیے 17 رنوں کی ضرورت تھی۔

اس مقام پر مقابلہ کافی دلچسپ ہو گیا کیونکہ اب میچ چنئی بھی جیت سکتی تھی۔ حیرت انگیز طور پر کپتان دھونی نے گیند رویندر جڈیجہ کے ہاتھوں میں تھمایا جنھوں نے پہلی ہی گیند وائیڈ پھینک دی۔ اگلی گیند پر دھون نے ایک رن لیا اور پھر اوور کی دوسری و تیسری گیند پر اکشر پٹیل نے لگاتار 2 چھکّے لگا کر چنئی کی سانسیں روک دیں۔ اب 3 گیندوں پر محض 3 رن جیت کے لیے بنانے تھے۔ چوتھی گیند پر اکشر نے 2 رن لیے۔ یہاں میچ دہلی کے ہاتھوں میں چلا گیا کیونکہ جیت کے لیے 2 گیندوں پر 1 رن بنانا تھا اور پانچویں گیند پر بھی اکشر پٹیل نے چھکّا لگا کر میچ دہلی کی جھولی میں ڈال دیا۔ دھون 1 چھکّا اور 14 چوکوں کی مدد سے 58 گیند پر 101 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جب کہ اکشر پٹیل نے محض 5 گیندوں پر 3 چھکّوں کی مدد سے 21 رن بنا ڈالے۔ 19.5 اوور میں دہلی نے 5 وکٹ کے نقصان پر 185 رن بنا لیے۔

چنئی کے گیندبازوں نے بہت اچھی کارکردگی نہیں دکھائی اس کی سب سے بڑی وجہ ٹیم کی خراب فیلڈنگ کہی جا سکتی ہے جنھوں نے نہ صرف کیچ چھوڑے بلکہ رَن آؤٹ بھی چھوڑے اور باؤنڈری بچانے میں بھی چستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کے باوجود دیپک چاہر نے 4 اوور میں محض 18 رن دے کر 2 وکٹ لیے، اور شردل ٹھاکر و سیم کرن نے 4-4 اوور میں بالترتیب 39 اور 35 رن دے کر 1-1 وکٹ لیا۔ ایک وکٹ ڈوین بریوو کو حاصل ہوا جنھوں نے 3 اوور میں 23 رن دیے۔ بریوو فیلڈنگ کے دوران زخمی ہو گئے تھے جس کی وجہ سے آخری اوور دھونی نے جڈیجہ کو دیا تھا۔ جڈیجہ نے 1.5 اوور میں 35 رن دے ڈالے اور انھیں کوئی وکٹ بھی نہیں ملا۔ کرن شرما کو بھی کوئی وکٹ حاصل نہیں ہوا جنھوں نے 3 اوور میں 34 رن خرچ کیے۔

next