آسان نہیں تھا کسان کی بیٹی عِلما افروز کے آئی پی ایس بننے کا سفر

کچھ دنوں پہلے تک علما افروز کے رشتہ دار اور آس پاس کی عورتیں کہتی تھیں کہ ’’یہ لڑکی ہے، اس کی جلد شادی کر دینی چاہیے‘‘ اور آج وہی عورتیں اپنی بیٹیوں کو علما افروز جیسا بننے کی تلقین کر رہی ہیں۔

تنویر احمد

اتر پردیش کے ضلع مراد آباد واقع کندرکی کی رہنے والی 26 سالہ علما افروز اپنے نام کی ہی طرح اپنے اندر علم کی روشنی رکھتی ہیں۔ یو پی ایس سی میں انھوں نے 217واں مقام حاصل کیا ہے، یعنی وہ آئی پی ایس کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔ ان کا یہ سفر کسی بھی نہج سے آسان نہیں تھا، انھوں اس کامیابی کے لیے بے پناہ جدوجہد کی۔ کم عمری میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا، معاشی مسائل ہر وقت سینہ تانے کھڑے رہے اور زمانے کے تھپیڑوں نے انھیں نڈھال کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن وہ پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں۔ علما اپنی اس کامیابی کا سہرا خصوصی طور پر اپنی والدہ کے سر باندھتی ہیں جنھوں مشکل حالات کو سازگار بنایا اور ہر وقت حوصلہ و عزم کا پیکر بن کر ایک مثالی ماں کا کردار نبھاتی رہیں۔ یو پی ایس سی میں ملی کامیابی اور اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے متعلق علما نے ’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے خصوصی گفتگو کی۔ پیش ہیں اس کے اہم اقتباسات:

آسان نہیں تھا کسان کی بیٹی عِلما افروز کے آئی پی ایس بننے کا سفر
آئی پی ایس علما افروز اپنے آبائی شہر کندرکی میں کھیت پر کام کرتی ہوئیں

سوال: آپ نے کیسا محسوس کیا جب یو پی ایس سی میں کامیابی کی خبر ملی؟

جواب: اس کامیابی سے یقیناً مجھے خوشی ہوئی۔ جب میرے چھوٹے بھائی عرفات افروز نے اس کامیابی کی اطلاع مجھے دی تو اس کے چہرے سے بھی خوشی ظاہر ہو رہی تھی۔ پھر میں نے اپنی ماں کو یہ خبر سنائی جنھوں نے میری تعلیم و تربیت کے لیے کافی پریشانیاں برداشت کیں۔

آپ کی والدہ نے کس طرح کی پریشانیاں برداشت کیں؟

دراصل میرا تعلق کسان فیملی سے ہے۔ میرے والد افروز احمد کھیتی کرتے تھے ، کھیتوں میں دھان، گیہوں، پپیتا وغیرہ کی پیداوار ہوتی ہے۔ جب میں 14 سال کی تھی تو ان کا انتقال ہو گیا اس لیے گھر میں معاشی مسائل درپیش ہوئے۔ لیکن میری ماں نے بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ میری اور میرے چھوٹے بھائی عرفات کی پرورش کی۔ کھیتی کا انتظام و انصرام بھی انھوں نے خود سنبھالا۔ آج میں جہاں ہوں یہ ان کی محنت کا نتیجہ ہے اور اب تو میرا چھوٹا بھائی بھی آئی اے ایس کی تیاری کر رہا ہے۔

آپ نے اپنی اعلیٰ تعلیم کہاں سے مکمل کی اور آپ کا سبجیکٹ کیا تھا؟

میں نے 2011 میں سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی سے فلاسفی میں گریجویٹ کیا۔ اس کے بعد میں نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ (یو کے) اور پیرس اسکول آف انٹرنیشنل افیئرس میں بھی تعلیم حاصل کی۔ پیرس میں میراسبجیکٹ ایکسچینج پروگرام تھا۔ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ میں کئی قومی اور بین الاقوامی مباحثوں میں بھی شرکت کرتی رہے۔ مجھے یونائٹیڈ نیشنز، انڈونیشیا اینڈ کلنٹن فاؤنڈیشن (نیو یارک سٹی) میں کام کرنے کا تجربہ بھی حاصل ہے۔

کیا آپ کی تعلیم وغیرہ کا پورا خرچ والدہ دیتی تھیں؟

میں پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ میرے گھر کی معاشی حالت اچھی نہیں تھی اس لیے تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے میں میری مدد کئی طرح کے اسکالرشپ نے کی۔ مثلاً کنٹمپروری ساؤتھ ایشین اسٹڈیز ایوارڈ (آکسفورڈ)، آئی ایف ایم آر اسکالرشپ (آکسفورڈ یونیورسٹی)، ٹیارا اسکالرشپ وغیرہ نے میری راہیں آسان کر دیں۔ مباحثوں میں شرکت سے حاصل ایوارڈ سے بھی میری مشکلیں دور ہوئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اسکالرشپ اور ایوارڈ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش اس لیے کرتی تھی تاکہ میرا خرچ آسان ہو سکے۔

یو پی ایس سی کی تیاریوں کے بارے میں کچھ بتائیں۔ آپ کو کس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا؟

میرا یہ سفر کافی جدوجہد سے بھرا ہوا رہا۔ معاشی پریشانی تو سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی راستہ نکلتا رہا۔ میں نے انگلینڈ میں رہ کر جو کچھ جمع کیا تھا، ہندوستان واپسی کے بعد دھیرے دھیرے وہ سب ختم ہو گیا تھا۔ میں دہلی میں اپنے لیے رہنے کی جگہ ڈھونڈ رہی تھی اور ایک عجیب کشمکش کی حالت میں تھی کہ آخر کیا کیا جائے۔ پھر جامعہ سے منسلک ہونے کے بعد مجھے آسرا مل گیا اور میں بے فکر ہو کر اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئی۔ میں شکرگزار ہوں جامعہ ملیہ اسلامیہ ریزیڈنشیل کوچنگ کے ٹیچر اور جامعہ کی مکمل انتظامیہ کا جو غریبوں کو آسرا بھی دے رہے ہیں اور یو پی ایس سی کی تیاری بھی کرا رہے ہیں۔ یہاں کے ٹیچر بہت اچھے ہیں اور ان کی رہنمائی میرے بہت کام آئی۔

آپ نے حصول علم کے لیے بیرون ملک کا سفر کیا اور پھر واپس ہندوستان آ کر مشکل حالات میں بھی آئی پی ایس کا درجہ حاصل کیا۔ ایک لڑکی ہونے کے ناطے آپ کو کسی طرح کی پریشانی تو نہیں ہوئی؟

ہمارے ملک میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ الگ نظر سے دیکھتےہیں۔ جب بھی میں کوئی ایوارڈ جیت کر لاتی یا کوئی کامیابی حاصل کرتی تو میری اَمّی اور بھائی کو چھوڑ کر جتنے بھی رشتہ دار اور آس پاس کے لوگ تھے وہ یہی کہتے کہ ’’یہ تو لڑکی ہے، یہ کیا کرے گی۔ اس کی جلدی شادی کر دو۔‘‘ اس طرح کی باتیں مجھے کئی بار سننے کو ملیں لیکن ماں اور بھائی نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔

یو پی ایس سی میں کامیابی کے بعد آپ کے رشتہ داروں اور آس پاس کے لوگوں کا کیا رد عمل رہا؟

اَب تو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ان کی سوچ ہی بدل گئی ہے۔ سب میرے گھر مجھ سے ملنے آ رہے ہیں، مجھے مبارکباد دے رہے ہیں، دعائیں دے رہے ہیں۔ جو پہلے میری شادی کی بات کیا کرتی تھیں وہ مجھ سے معافی کی طالب ہیں اور اپنی بچیوں کو میری طرح بننے کی صلاح دے رہی ہیں۔ ان کے اندر یہ تبدیلی دیکھ کر مجھے بے انتہا خوشی ہو رہی ہے۔

بیرون ممالک میں رہنے کے بعد آپ کی طرز زندگی میں کوئی فرق آیا؟

مجھے اپنی مٹی سے بہت لگاؤ ہے اور باہر جانے کا مجھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔میرے گھر کے آس پاس رہنے والے لوگ جب مجھے دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھ میں ایک چمک ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ جس مٹی میں پرورش پائی، ہمیشہ وہیں کی رہی۔ باہر کے ملک کا کوئی اثر نہیں پڑا۔‘‘ میں تو اپنے ملک کی تہذیب کو پوری دنیا میں سب سے بہتر تہذیب تصور کرتی ہوں اس لیےاپنے اندر کوئی فرق پید انہیں کرنا چاہتی۔ سچ تو یہ ہے کہ میری ماں اور میں آج بھی روزانہ صبح کے وقت کھیتوں میں ٹہلنے کے لئے نکل جاتی ہوں۔ کھیتوں میں کام کرنا، گیہوں اور دھان کی کھیتی کرنا ہمیں پسند ہے۔ ہاں، ایک فرق ضرور ہے کہ پہلے ہماری فیملی ایک کمرے میں بہت مشکل سے رہتی تھی اور اب کچھ فراغت ہو گئی ہے۔

کوئی خواہش یا خواب جسے آپ شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتی ہوں؟

میں اپنے ملک ہندوستان کو دنیا میں سب سے آگے دیکھنا چاہتی ہوں اور اس ملک کی ترقی کے لیے میں ہمیشہ کوشاں رہوں گی۔ میں اس ملک کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں کیونکہ میں اس میں ایسی خوبیاں دیکھتی ہوں جو اسے دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ بہتر بناتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ دوسرے ممالک میں خوبیاں نہیں ہیں، لیکن ہمارے جمہوری ملک ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں۔

Published: 1 May 2018, 12:27 PM