امریکہ سے افغانستان میں سنگین غلطیاں سرزد ہوئی ہیں: حامد کرزئی کا انٹرویو

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں پائیدار امن قائم ہوگا

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکہ سے ان کے ملک میں سنگین غلطیاں سرزد ہوئی ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں پائیدار امن قائم ہوگا۔

وہ کابل میں العربیہ ٹی وی کی اینکر ميسون نويہض سے خصوصی گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کی ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف نام نہاد جنگ افغانستان کو گذشتہ دو عشرے کے دوران میں درپیش آنے والے تمام مسائل کی اساس بنی ہے۔

حامد کرزئی نے کہا: ’’ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے سنگین غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ انھوں نے وہاں یہ نام نہاد جنگ نہیں لڑی ہے جہاں سے یہ دہشت گردی آ رہی تھی لیکن انھوں نے اس کے بجائے افغان دیہات اور افغان عوام پر بمباری شروع کر دی، افغان عوام کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔ اس وقت ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے، یہ سب اس کی بنیاد کا سبب بنا تھا اور یہی معاملہ میری امریکہ سے عدم اتفاقی کا بھی سبب بنا تھا۔‘‘ واضح رہے کہ حامد کرزئی 2001ء میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر چڑھائی کے بعد پہلی مرتبہ ملک کے صدر بنے تھے۔

افغانستان کے متحارب فریقوں کے درمیان ستمبر میں امن مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک امن سمجھوتا طے کیا تھا۔ اس کے تحت ملک میں تشدد کے خاتمے کی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی افواج کو واپس بلا لیں گے۔ اب ٹرمپ انتظامیہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔

حامد کرزئی نے العربیہ سے انٹرویو میں کہا کہ ’’ان مذاکرات کے آغاز میں سب سے اہم چیز یہ ہونی چاہیے اور ان کے نتیجے میں طے پانے والے سمجھوتے میں بھی سب سے اہم عنصر یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان میں تشدد آمیز کارروائیوں اور افغانوں کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ امریکی فوجیوں کا انخلا ہونا چاہیے اور افغانستان میں افغانوں کے مابین مکالمہ اور امن بات چیت ہونی چاہیے۔یہ وہ بنیادی اصول ہیں، جن پر ہم سب کا اتفاق ہے۔‘‘

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’’افغانستان کے بارے میں یہ سب کی خواہشات اور امنگیں ہیں۔ ہم ایک پُرامن افغانستان ،ایک مستحکم افغانستان اور ایک متحد افغانستان چاہتے ہیں۔ اب ،اس وقت ان امور کی تشریحات کے معاملے پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ معاشرے کی بعض اقدار کی تشریحات کیا ہیں؟اور اس پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ پیش رفت کیسے کی جائے۔ مجھے امید ہے کہ اس تمام تر پیش رفت کے بعد ایک سمجھوتا طے پاجائے گا۔‘‘

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 30 Aug 2020, 10:40 AM
next