جرمنی میں ’نسل کشی‘ سے زندہ بچ جانے والے یہودی کی دردناک داستان

شلومو پرل نے بتایا کہ ایک کیمپ میں میرا بھائی اسحاق مل گیا، اسی نے بتایا کہ والد کو بھوکوں مار دیا گیا وہیں ماں کو ایک گیس ٹرک میں قتل کر دیا گیا اور بہن کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

عبدالسلام عاصم، یو این آئی

تل ابیب: ’’میں ہولوکاسٹ کا بہ انداز دگر گواہ ہوں۔ میری چار سال کی اذیت جیسے عمر بھر کے لئے تھی۔ محسوسات اب بھی تازہ ہیں۔ اُس زمانے میں ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا کہ جس دن نازیوں کو پتہ چل جائے گا کہ میں یہودی ہوں، توکیا ہوگا۔۔۔!‘‘

یہ الفاظ جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام میں کسی طرح زندہ بچ جانے والے جرمن یہودی شلومو پرل(95)کے ہیں جنہوں نے جوزف پرجیل کے نام سے ہٹلر یوتھ کے ایک کمسن رکن بن کر اپنی بقا کی جنگ اس وقت تک لڑی جب تک 1945 میں جنگی حالات کسی حد تک قابو میں نہیں آگئے۔ اس دوران انہوں نے ایک مرتبہ ہٹلر کو بہت قریب سے دیکھا بھی تھا۔

ہندوستان سے اسرائیل کے دورے پرآئے یو این آئی اردو سروس سمیت تیرہ مختلف زبانوں کے صحافیوں کے وفد سے یہاں بات چیت میں انہوں نے بتا یا کہ ’’ میں اس وقت سولہ سال کا تھا اور سنگین آزمائش کے چار برسوں کی ہر ذہنی اذیت اور ہر رات کو آخری رات سمجھ کر سونا مجھے آج بھی یاد ہے۔ یہودیوں سے نازیوں کی نفرت کی انتہا دیکھ کر مجھے خود سے نفرت ہونے لگی تھی کہ میں یہودی گھرانے میں کیوں پیدا ہو گیا۔ میری شناخت میرے لئے موت بن کر میرا پیچھا کرتی رہی۔ میں کبھی حالات سے تو کبھی خود سے بھاگتا رہا۔ بھر پور جوانی میں قدم رکھتے رکھتے میں حالات سے تو نہیں لیکن خود سے بہت دور بھاگ نکلا تھا۔‘‘

شلومو پرل نے بتا یا کہ ’’جب ہٹلر اقتدار میں آیا اُس وقت وہ آٹھ برس کے تھے۔ یہودیوں کی زندگی کا دائرہ روز بروز تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ مرحلہ وار ہٹلر اس اعلان تک پہنچا کہ ہر یہودی بشمول غیر جرمن النسل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہے۔ نومبر 1935 میں واضح کردیا گیا گیا کہ یہودی کوئی آئینی حق رکھنے کے مجاز نہیں۔ اس اعلان سے یہودیوں پر تنگ ہوتی زمین واضح لکیروں میں بدل گئی اورمیرا خاندان کسی طرح بچ بچا کر پولینڈ منتقل ہو گیا۔‘‘

شلومو پرل نے بتا یا کہ ابھی نئی جگہ پر ان کی فیملی نے اطمینان کی سانس بھی نہیں لی تھی کہ1939 میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔’’زندگی ایک بار پھر خطرناک آزمائشوں سے گزرنے لگی۔ تمام یہودیوں کو ایک گھیٹو میں جمع ہونے کا حکم دیا گیا۔ ایسا لگا ہم جہاں جمع ہونے جارہے ہیں وہاں سے زندہ نہیں نکل پائیں گے۔‘‘

’’نوبت جب پولینڈ کی تقسیم تک پہنچی اورمشرقی پولینڈ سویت یونین کا حصہ بنا تو ایک مرحلے پر مجھے اپنے ماں، باپ اور بھائی بہن سے بچھڑ نا پڑا۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ ہم ہمیشہ کے لئے بچھڑ رہے ہیں تو شاید میں والدین کی ہدایت کے باوجود ان سے الگ نہیں ہوتا۔‘‘

شلومو پرل نے انتہائی رقت کے ساتھ بتایا کہ بچھڑتے وقت ان کے والد کا آخری جملہ یہ تھا کہ اپنے تحفظ کے لئے ہمیشہ خدا سے رجوع کرنا اور اپنی شناخت کبھی مت چھپانا ورنہ خدا تمہارے تحفظ سے دستبردار ہو جائے گا۔

اس تمہید کے ساتھ کہ ’’میں آج بھی خدا اور ہولوکاسٹ کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے سمجھنے سے قاصر ہوں۔‘‘ شلوموپرل نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ’’ایک مرحلے پر میں زد میں آتے آتے بچا۔ مجھے نشانے پر رکھ کر ایک جرمن فوجی نے پوچھا کہ تم جرمن ہو یا یہودی؟ میں والد کی ہدایت کو یاد کر کے اندر سے لرزاں ہوا ہی تھا کہ والدہ کی بات یاد آگئی جو انہوں نے بچھڑتے وقت کہا تھا کہ ''جاؤ اور زندہ رہو''۔ میں نے والد کی ہدایت پر والدہ کے عملی مشورے کو ترجیح دیتے ہوئے اُس فوجی کو یہ جواب دیا تھا کہ میں نسلی جرمنی ہوں۔ جنگ کے دوران ایک راکٹ حملے نے میرا گھر تباہ کر دیا گیا اس لئے میرے پاس کوئی دستاویز نہیں بچا۔ اس جواب نے مجھے مرنے سے بچا لیا اور آج میں آپ کے سامنے ہوں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ آپ کے والدین اور بھائی بہن پر مغربی پولینڈ میں کیا گزری، شلوموپرل نے بتایا کہ میں اپنے والدین اور بہن سے کبھی مل تو نہیں پایا لیکن وہ میرے خیالوں میں اس وقت تک زندہ تھے جب تک میں اپنے بھائی اسحاق سے نہیں ملا۔ میں نے انہیں ڈھونڈنے کی کوشش میں کئی بارگھیٹوز میں جھانکنے تک کا خطرہ تک مول لیا تھا لیکن اُن کی بازیافت کو یقینی نہیں بنا سکا۔ ایک موقع پر مسلسل بارہ دنوں تک میں روازنہ چھ مرتبہ گھیٹوز کے چکر لگاتا رہا‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی جرمن پہچان کے ساتھ ہٹلر کے نوجوانوں میں شامل ہونے سے قبل بھیس بدل کر رہنے کے دنوں میں ایک مرتبہ وہ حمام میں نہا رہے تھے کہ اچانک ایک جرمن اُن کے مختون ہونے سے واقف ہو گیا تھا۔ اتفاق سے وہ ہم جنس پرست تھا۔ اس لئے اس نے اس راز کو راز رکھا اور اس راز کے ساتھ ہی ایک مسلح کارروائی میں مارا گیا۔ بعد ازاں جب انہوں نے ہٹلر کے جوانوں میں نازی فوجیوں کے لئے روسی زبان کے جرمن مترجم کی ذمہ داری پوری طرح سنبھال لی توایک دوسرے سنئیر جرمن نے انہیں بیٹے کے طور پر گود لے لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرحلے پر انہوں نے جوزف اسٹالن کے بیٹے یاکوف کو گرفتار کرانے میں اہم کردار ادا کر کے جرمن فوجی یونٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی۔ انٹرویو کے اس مرحلے پر انہوں نے یہ بتا کرسننے والوں کوآب دیدہ کر دیا کہ دن میں جہاں وہ جنگی فتوحات کا جنون رکھنے والے جرمن نوجوان کی طرح پیش آتے تھے وہیں رات کو بستر پروالدین اور بھائی بہن کو یاد کر کے زار زار روتے تھے۔

شلومو پرل نے بتایا کہ ’’اس کے بعد زندگی نے ایک اور کریہہ منظر نامہ یہ دکھایا کہ ایک کیمپ میں مجھے میرا بھائی مل گیا۔ میں جرمن بھیس میں تھا اور وہ پٹیوں والے کپڑے کی پہچان کے ساتھ ایک یہودی تھا۔ اُس سے پتہ چلا کہ ان کے والد کو جہاں بھوکوں مار دیا گیا تھا وہیں ان کی ماں کو 1944 میں ایک گیس ٹرک میں قتل کر دیا گیا تھا۔ بہن کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں اسحاق میونخ میں جا بسا جہاں اس نے شادی بھی کر لی۔ اسحاق نے ہی بتایا تھا کہ میرا سب سے چھوٹا بھائی ڈیوڈ فلسطین میں ہے۔ اُس کی محبت مجھے یہاں لے آئی اور پھر میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد حیفہ چلا آیا‘‘

شلومو پرل نے یہ پوچھے جانے کہ انہوں نے خود شادی کی یا نہیں، اثبات میں جواب دیا لیکن ماحول کی شدت کو ایک نئے احساس سے ہمکنار کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ’’بدلے ہوئے بھیس میں زندگی گزارنے کے زمانے میں لینی لیٹس نامی ایک نازی لڑکی کو مجھ سے محبت ہو گئی تھی۔ لینی نازیوں کی قائم کردہ جرمن گرلس لیگ کی رکن تھی۔ حالات کی شدت ختم ہونے پر بھی میں نے اس سے شادی اس لئے نہیں کی کہ میں ایک شادی شدہ زندگی کا بوجھ اٹھانے کا پوری طرح متحمل نہیں ہو سکا تھا۔ البتہ ایک موقع پرمیں نے اُس سے جب یہ پوچھا کہ اگر تمہیں یہ پتہ چل جاتا کہ میں ایک یہودی ہوں تو تمہارا کیا رد عمل ہوتا؟ اس نے برجستہ کہا تھا کہ میں پولس کو بتا دیتی۔‘‘ اس واقعے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ لینی کی بیوہ ماں کو میرے یہودی ہونے کا علم ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اس راز کو ہمیشہ سربستہ رکھا تھا۔

Published: 3 Mar 2019, 10:10 PM