عام فہم سے بھی بالاتر ہے ندیوں کو جوڑنے والا ’کین-بیتوا پروجیکٹ‘: ہمانشو ٹھکر
ایف اے سی میٹنگ کے منٹس میں بتایا گیا ہے کہ کین-بیتوا پروجیکٹ میں صرف جنگلاتی علاقے سے ہی 46 لاکھ پیڑ (ہر ایک کی موٹائی 20 سینٹی میٹر سے زیادہ) کاٹے جائیں گے۔

آئی آئی ٹی-بامبے سے انجینئر ہمانشو ٹھکر اس وقت ’ساؤتھ ایشیا نیٹورک آن ڈیمس، ریورز اینڈ پیپل‘ (سینڈرپ) کے کوآرڈینیٹر اور ’ڈیمس، ریورز اینڈ پیپل‘ رسالے کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ 25 سال سے بھی زیادہ وقت سے آبی اور ماحولیاتی شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ’ورلڈ کمیشن آن ڈیمس‘، ’نرمدا بچاؤ آندولن‘ اور ’سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ‘ کے ساتھ کام کیا ہے۔ رشمی سہگل نے ان سے ہندوستان کی بغیر سوچے سمجھے شروع کیے گئے ندی-جوڑو منصوبوں کے بارے میں گفتگو کی۔ ذیل میں پیش ہیں اس انٹرویو کے اہم حصے...
وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ کین (مدھیہ پردیش) کو بیتوا ندی (اتر پردیش) سے جوڑنے کی صورت میں 10.6 لاکھ ہیکٹیئر زمین کی سینچائی ہو سکے گی، 62 لاکھ لوگوں کو پینے کا پانی ملے گا اور 130 میگاواٹ پن بجلی و شمسی توانائی پیدا ہوگی۔ کیا یہ دعوے صحیح ہیں؟
کین-بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی) کی بنیاد پی ایم مودی نے دسمبر 2024 میں رکھی تھی۔ اس منصوبے کے پاس (قانونی) جنگل یا جنگلی حیات کی منظوری نہیں ہے۔ میں اسے تھوڑا واضح کر دیتا ہوں۔ دونوں منظوریاں اس شرط پر دی گئی تھیں کہ پن بجلی والا حصہ محفوظ علاقے سے باہر رکھا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
پانی سے متعلق ڈاٹا اب بھی سرکاری راز ہیں۔ نہ تو ان کا کسی ماہر سے جائزہ کرایا گیا اور نہ انہیں عوامی کیا گیا۔ اس نتیجے پر پہنچنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ کین ندی میں اضافی پانی ہے اور بیتوا میں پانی کی کمی ہے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ منصوبے کے دستاویزات میں کہیں زیادہ سستے، فوری اور کم تباہ کن متبادلوں پر غور بھی نہیں کیا گیا۔ پولاورم باندھ کے تعلق سے وزیر اعظم مودی کی کہی گئی بات کو ہی دہرائیں تو سیاست داں باندھوں کو ’اے ٹی ایم‘ کی طرح دیکھتے ہیں۔
اس پروجیکٹ سے ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ اتنا گھٹیا ہے کہ اس میں پنّا ٹائیگر ریزرو (پی ٹی آر) پر ممکنہ اثرات کا صحیح سے مطالعہ بھی نہیں کیا گیا۔ جب ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کے ندی گھاٹی منصوبہ پر بنی ماہرین کی جائزہ کمیٹی نے 4 میٹنگوں کے بعد بھی پروجیکٹ کو منظوری دینے سے انکار کر دیا، تو اوما بھارتی (تب مرکزی وزیر برائے آبی وسائل) نے دھرنے پر بیٹھنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد وزارت نے ماہرین کی جائزہ کمیٹی کی از سر نو تشکیل کی اور ایس کے جین کو اس کا چیئرمین بنایا گیا، اور پھر دسمبر 2016 میں اپنی پہلی ہی میٹنگ میں کین-بیتوا پروجیکٹ کو منظوری دے دی گئی۔ وہی ایس کے جین پروجیکٹ کے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ جنگلاتی مشاورتی کمیٹی (ایف اے سی) اور سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر کردہ مرکزی اختیاراتی کمیٹی (سی ای سی) نے پروجیکٹ کے خلاف زوردار دلائل دیے، لیکن سپریم کورٹ نے اس پر غور تک نہیں کیا!
سینئر جنگلاتی افسران نے کین پر باندھ بنانے اور دونوں ندیوں کے درمیان نہر بنانے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ بیتوا ندی پر پہلے سے ہی 7 باندھ ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی سینچائی محکمہ کے ذریعے دعویٰ کی جا رہی مقدار میں سینچائی کا پانی دستیاب نہیں کراتا۔
ایف اے سی میٹنگ کے منٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ میں صرف جنگلاتی علاقے سے ہی 46 لاکھ پیڑ (ہر ایک کی موٹائی 20 سینٹی میٹر سے زیادہ) کاٹے جائیں گے۔ اس سے آبی چکر تو متاثر ہوگا ہی، برا اثر پڑے گا ہی، اس کے علاوہ پورے علاقے کے ماحولیات، حیاتیاتی تنوع اور آب و ہوا بھی متاثر ہوگی۔ لیکن ان میں سے کسی بھی اثرات کا صحیح سے اندازہ نہیں کیا گیا۔ ایف اے سی اور نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف (این بی ڈبلیو ایل) نے باندھ کی اونچائی گھٹانے، باندھ میں آنے والے سارے پانی کو ماحولیات کے لیے ضروری بہاؤ کے طور پر چھوڑ دیے جانے کی بات کہی تھی۔ وہ اس دعوے کا ایک آزادانہ جائزہ کرانا چاہتے تھے کہ بندیل کھنڈ کے لیے کوئی دوسرا متبادل ہے ہی نہیں۔ سی ای سی کی رپورٹ نے یہ بات پکے طور پر ثابت کر دی تھی کہ یہ دعویٰ جھوٹا تھا۔
اس پروجیکٹ کو ایک خاص یو ایس پی کے ساتھ بیچا گیا تھا کہ یہ بندیل کھنڈ کی پانی کی پریشانی کو حل کرے گا۔ لیکن شروع سے ہی ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) سے پتہ چلا کہ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد رائے سین اور ودیشا جیسے اوپری بیتوا بیسن علاقوں تک پانی پہنچانا تھا۔ تو کین-بیتوا پروجیکٹ اصل میں خشک سالی کی مار جھیل رہے بندیل کھنڈ سے پانی باہر بھیجنے کا کام کرے گا!
یہ پروجیکٹ 45,000 کروڑ روپے کی لاگت سے 6 اضلاع (مدھیہ پردیش اور یوپی کے 3-3) میں 6.35 لاکھ ہیکٹیئر کھیتی کی زمین کی سینچائی کا وعدہ کرتا ہے اور اسی کے ساتھ تعمیر اور سیاحت کے شعبے میں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔
منصوبے پر 45,000 کروڑ روپے خرچ کرنے کا جواز نہیں ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس انٹرلنکنگ کا مقصد نہ تو اس علاقے کے قبائلیوں کی مدد کرنا ہے اور نہ ہی یوپی کے باندہ ضلع کے نچلے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی۔ بندیل کھنڈ کے بیشتر حصے میں سالانہ اوسط بارش 900 ایم ایم سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر بارش کے اس پانی کو جمع کر لیا جائے، تو بندیل کھنڈ کی پانی کی پریشانی حل ہو سکتی ہے۔ اس سے کہیں بہتر متبادل موجود ہیں۔ چار دہائیاں پہلے بندیل کھنڈ پانی کی کمی کے لیے نہیں جانا جاتا تھا۔ یہ گھنے جنگلات اور اچھی مقامی آبی نظاموں والا علاقہ تھا۔ مسلسل نظر انداز کیے جانے کے سبب آج یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے، اور یہ منصوبہ کین ندی کی آبی-سائنسی ریڑھ کی ہڈی کو ہی تباہ کر دے گا۔
حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نام نہاد ’اضافی‘ اور ’کمی والے‘ بیسنوں کے درمیان کا فرق کم ہو گیا ہے، جو ندیوں کو آپس میں جوڑنے کے جواز کو اور کمزور کرتا ہے۔ مطالعات نے یہ بھی دکھایا ہے کہ ندی جوڑنے کے منصوبے خلیج بنگال اور بحر ہند میں تھرمل اور درجۂ حرارت گریڈینٹ پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے ہمارے مانسون پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن حکومت نے ان اعداد و شمار کو نظرانداز کرنا ہی منتخب کیا ہے۔
لیکن حکومت بڑے پیمانے پر ندیوں کو جوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے- پنجاب، کیرالہ، تلنگانہ میں... کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
ندی جوڑنے کا تصور ہی غلط ہے۔ یہ سوچنا کہ سیلاب کا مطلب پانی کی زیادتی ہے اور خشک سالی کا مطلب پانی کی کمی، غلط ہے۔ اس منطق کے حساب سے راجستھان کے کچھ حصوں میں آج کل پانی کی زیادتی ہے، کیونکہ وہاں ضرورت سے زیادہ بارش ہوئی ہے، اور ’بادلوں کے گھر‘ میگھالیہ کے کچھ حصوں میں پانی کی کمی ہے۔ گنا اور دھان جیسی زیادہ پانی والی فصلیں کسی بھی علاقے کو خشک سالی سے متاثرہ بنا سکتی ہیں۔ اس لیے ندی جوڑنے کا یہ تصور اپنے آپ میں ہی غلط ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے یہ ماننا کہ سمندر میں بہہ کر جانے والا پانی بیکار چلا جاتا ہے۔ ندیوں کا کام ہی سمندر کی طرف بہنا ہے، اور مہانے (جہاں ندی سمندر سے ملتی ہے) وہ سب سے زیادہ زرخیز اور حیاتیاتی تنوع والے علاقے ہوتے ہیں۔ سبھی ریاستیں دوسری ریاست سے پانی لینے کو تیار رہتی ہیں، لیکن کوئی بھی ریاست دوسری ریاست کو پانی دینا نہیں چاہتی۔ اقتدار میں بیٹھی پارٹی اسے اپنے لیے خودکشی کے مترادف مانتی ہے۔
کین-بیتوا پروجیکٹ سے پنّا ٹائیگر ریزرو کے بیچوں بیچ 6,017 ہیکٹیئر جنگلاتی زمین ڈوب جائے گی۔ کین گھڑیال زولوجیکل گارڈن بھی خطرے میں ہوگا؟
پی ٹی آر پر اس پروجیکٹ کے برے اثرات کے بارے میں سی ای سی کی رپورٹ میں بھی تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ پی ٹی آر باگھوں، تیندؤوں، سلوتھ ریچھوں، چنکارا، چوسنگا، بھیڑیوں، مگرمچھوں، لمبی تھوتھن والے گھڑیالوں، مہاشیر مچھلیوں اور شکاری پرندوں کی کئی انواع کا گھر ہے۔ اس علاقے میں دھاری دار لکڑبگھّے، سیویٹ بلیاں، سیار، لومڑیاں، نیل گائے، چیتل، سانبھر، جنگلی سور، لنگور اور ریسس بندر بھی پائے جاتے ہیں۔
یہ عظیم باندھ اپنے اوپری حصے میں موجود آبی جانداروں کو الگ تھلگ کر دے گا، جس کا سیدھا اثر باندھ کے اوپر اور نیچے دونوں طرف کے آبی جانداروں کی افزائش کی عادتوں پر پڑے گا۔ لیکن یہ بات زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ کے بی ایل پی ہندوستان کے کچھ ارضیاتی عجائبات کو بھی تباہ کر دے گا۔ مجوزہ باندھ مقام سے بالکل نیچے کی طرف واقع ’رانیہ فالز‘ کو ہندوستان کا ’منی گرینڈ کینین‘ اور ’منی-نیاگرا‘ کہا جاتا ہے۔ اس حیرت انگیز ارضیاتی مقام کے ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جانے کا اندیشہ ہے۔
آپ ہمارے آبی شعبے کی ادارہ جاتی ساخت میں بنیادی تبدیلی کی فوری ضرورت اور ’مرکزی آبی کمیشن‘ کو تحلیل کرنے کے مسئلے پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
سی ڈبلیو سی کے پاس کئی ایسے کام اور ذمہ داریاں ہیں جو آپس میں ٹکراتی ہیں، اور اس کا ریکارڈ بھی بہت خراب رہا ہے۔ آبی سائنس، ارضی ساختیات، ندیاں، باندھوں کی سیکورٹی اور ڈیزائن، سیلاب کی پیش گوئی، سیلابی انتظام اور ابتدائی انتباہی نظام جیسے شعبوں میں (جنہیں اس کی بنیادی مہارت والا شعبہ مانا جاتا ہے) سی ڈبلیو سی بڑے باندھوں کے لیے ایک لابی کی طرح زیادہ کام کرتا ہے، اور اس کی جوابدہی بھی بہت کم ہے۔
ہمارے آبی وسائل کی حالت تشویشناک ہے۔ ہم اب تک زیر زمین پانی کو اپنے بیک-اپ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی طرح کام چلاتے رہے ہیں۔ زیر زمین پانی ہی ہماری آبی زندگی کی لکیر ہے۔ گزشتہ 50 سالوں میں ہندوستان نے جتنا بھی اضافی پانی استعمال کیا ہے، اس کا 90 فیصد حصہ زیر زمین پانی ہی تھا اور اس میں سی ڈبلیو سی کا کوئی کردار نہیں رہا۔ سی ڈبلیو سی کے باندھوں کے حمایتی رویے کی وجہ سے ہماری مقامی آبی نظاموں، ندیوں اور آبی زمینوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ زیر زمین پانی کے دوبارہ بھرنے کے عمل پر بہت برا اثر پڑا ہے، اور اب یہ صورتحال تیزی سے آئی سی یو جیسی سنگین حالت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ہمیں کس طرح کے مقامی آبی انتظامی حل اپنانے چاہئیں؟
مقامی اور شراکتی انتظام ہی آبی نظم و نسق کی ریڑھ کی ہڈی ہونا چاہیے۔ اس میں آبی وسائل کی نگرانی، انتظام اور ترقی کے تمام پہلو شامل ہونے چاہئیں۔ جیسے کہ زیر زمین پانی، ندیاں، مقامی آبی نظام، ساتھ ہی بارش کی نگرانی اور ریت کی کان کنی۔ بارش کے پانی کا ذخیرہ، زیر زمین پانی کا دوبارہ بھراؤ، آبی بجٹ بنانا اور صحیح فصلوں کا انتخاب، یہ کام مقامی برادریوں پر ہی چھوڑنا بہتر ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
