انٹرویو... جسٹس چندرچوڑ کے فیصلہ سے مستقبل میں کئی راہیں کھلیں گی: رماناتھن  

ماہر قانون اوشا رماناتھن کا کہنا ہے کہ آدھار سے متعلق عدالت کا فیصلہ مایوس کن ہے اور انصاف کے لیے چلائی گئی لمبی بحث کا جو نتیجہ برآمد ہوا ہے وہ بہت زیادہ خوش کرنے والا نہیں ہے۔

بھاشا سنگھ

آدھار سے ہونے والے نقصانات اور اس کے ذریعہ غریبوں و محروموں کو سماجی سیکورٹی دائرہ سے باہر کرنے پر آواز اٹھانے والی بین الاقوامی قانون داں اوشا رماناتھن نے ’قومی آواز‘ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے مستقبل میں بڑے مباحث اور ’آدھار‘ کو چیلنج پیش کرنے والے دلائل کے لیے راستہ کھولا یہ۔ یہ فیصلہ یقینی طور پر مایوس کن ہے کیونکہ اس میں آدھار کے متعلق جو بھی فکر دستاویزات کے ساتھ ظاہر کیے گئے تھے، انھیں سرے سے خارج کر دیا گیا۔ صرف جسٹس چندرچوڑ نے انھیں سنا اور اپنے منصفانہ فیصلے میں جگہ دی۔ پیش ہیں اس خصوصی گفتگو کے اہم اقتباسات...

سپریم کورٹ کے ذریعہ ’آدھار‘ پر دیے گئے فیصلہ کے بعد آپ کیا سوچتی ہیں؟

کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ فیصلہ مایوس کن ہے اور انصاف کے لیے چلائی گئی لمبی بحث کا نتیجہ مایوس کرنے والا ہے۔ لیکن اس فیصلے کا مثبت حصہ یہ ہے کہ اس سے منی بل پر جیوڈیشیل ریویو ہو سکتا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ’آدھار‘ پر منی بل مانا اور اس آدھار پر چیلنج دینے والے دلائل کو درکنار کیا، لیکن یہ صاف طور پر کہا کہ منی بل کا عدالتی تجزیہ ہو سکتا ہے۔ ابھی تک یہ انتظام نہیں تھا۔ اس سے پہلے دیپک مشرا کی بنچ نے ہی یہ فیصلہ دیا تھا کہ منی بل کا ریویو نہیں ہو سکتا، یعنی اسپیکر کا جو فیصلہ ہے وہی آخری ہوگا۔ اسے تازہ فیصلے میں بدلا گیا ہے۔

اس فیصلے میں عدالت کے رویے کو لے کر بہت سوال اٹھ رہے ہیں۔ آپ کا کیا کہنا ہے؟

عدالت نے بہت عجیب انداز میں کام کیا، اس نے پارلیمنٹ کے لیے ایڈیٹر کا کردار نبھایا۔ اس نے پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے گئے قانون کو بنیاد بنا کر اس میں آئینی حیثیت تلاش کرنے کی کوشش کی۔ پارلیمنٹ نے آدھار بل کو منی بل کی طرح پاس کیا اور عدالت نے اس کے ارد گرد چکر کاٹ کر اسے منی بل قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس میں سے یہ نکالو گے، یہ نکالو گے تو یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ آدھار پر یہی اسٹینڈ عدالت کا رہا۔

عدالت آدھار کے معاملے پر بہت تذبذب کی حالت میں نظر آئی، کئی چیزوں پر سے آدھار کی لازمیت ہٹائی لیکن اسے آئینی قرار دیا، کیوں؟

یہی بات ہم بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آدھار ایک چیز کے لیے غلط ہے تو باقی کے لیے کیوں نہیں ہے۔ عدالت نے آدھار سے متعلق ایک جگہ کہا کہ یہ غلط ہے، ڈاٹا زیادہ دن تک نہیں رکھ سکتے، لیکن دوسری جگہ اس کے استعمال پر مہر لگا دی گئی۔ اکثریت کا فیصلہ ہو یا اقلیت کا، دونوں نے ایک بات کا اعتراف کیا ہے کہ آدھار پوری طرح سے درست نہیں ہے اور اس کا بے لگام استعمال بیجا ہے۔ پرائیویٹ کمپنیاں جو آدھار ڈاٹا پر نگاہ گڑائے بیٹھی تھیں، اسے روکا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم تمام کمپنیوں کے پاس جائیں اور یہ کہیں کہ ہمارا آدھار ڈاٹا ڈیلیٹ کریں۔ یا اس کے بارے میں قانون بنے گا... اس تعلق سے اب بھی کشمکش کی حالت ہے۔

اقلیتی فیصلہ کی بہت بات ہو رہی ہے، کیوں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جسٹس چندرچوڑ نے تمام دلائل اور فکروں کو سمیٹا ہے۔ قانون اور حقوق سب کے لیے یکساں ہیں اور غریبوں کی پرائیویسی سے بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، یہ بات بنیادی طور پر قائم کی ہے۔ یہ فیصلہ اہم ہے اور مستقبل میں کئی راستے کھولے گا۔

Published: 27 Sep 2018, 3:35 PM