کوئی ہیش ٹیگ ہمارا گھر ٹوٹنے سے نہیں بچا سکتا تھا: آفرین فاطمہ
آفرین فاطمہ نے گھر کی توڑ پھوڑ، خاندان پر ریاستی کارروائی اور ’بلڈوزر جسٹس‘ کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے یہ عمل سزا کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور عدالتوں میں انصاف تاخیر کا شکار ہے

الٰہ آباد میں فساد بھڑکنے کے بعد اتر پردیش حکومت کا غصہ آفرین فاطمہ کے خاندان پر ٹوٹ پڑا۔ ان کے والد کو فساد کا ماسٹر مائنڈ قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی والدہ اور بہن کو حراست میں لے لیا گیا اور اسی کے ساتھ حکومت نے اپنے مانوس اندازِ کار، یعنی ’بلڈوزر جسٹس‘ کے تحت جون 2022 میں آفرین کا گھر بھی منہدم کر دیا۔ ایک کے بعد ایک آنے والی ان مصیبتوں نے آفرین کے اندر ایسا حوصلہ پیدا کیا کہ وہ اپنی ہی طرح کے متاثرین کے درد کو قلم بند کرنے نکل پڑیں۔ اب تک وہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور دہلی میں حکومتوں کے ذریعے گرائے گئے گھروں کی تفصیلات جمع کر چکی ہیں، اس میں انہیں گھروں کو سزا کے طور پر گرانے کے عمل سے لے کر عدالتوں میں کسی نہ کسی بہانے سے مقدمات کو طویل کرنے تک، ایک خطرناک پیٹرن صاف نظر آیا۔ اس پورے عمل کے دوران اپنے جذباتی حالات سے لے کر ایسی کارروائیوں کے پس پردہ ذہنیت تک، آفرین فاطمہ نے بیتوا شرما سے تفصیلی گفتگو کی۔ یہ اسی گفتگو کے مرتب شدہ اقتباسات ہیں۔
سوال: آپ نے اپنا گھر ٹوٹتے دیکھا، پھر ایسے ہی واقعات کو دستاویزی شکل دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟
جواب: مسلمانوں پر بہت کچھ لکھا جاتا ہے، مگر مسلمانوں کو خود اپنے بارے میں لکھنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ ناانصافی اور تشدد کے بالکل قریب رہ کر جو حقیقت دکھائی دیتی ہے، وہ محفوظ فاصلے سے نظر نہیں آتی۔ میں نے کئی صحافیوں اور محققین سے بات کی، ایک ہی کہانی بار بار سنائی، مگر جب رپورٹ شائع ہوتی تو محسوس ہوتا کہ کچھ نہ کچھ چھوٹ گیا ہے۔ وہ بات سامنے نہیں آتی تھی جو میں کہنا چاہتی تھی۔ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتی تھی کہ حکومت اصل میں کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں پوری طرح کامیاب ہو سکی یا نہیں، مگر میں نے کوشش ضرور کی۔
کیا آپ اس صدمے سے نکل پائی ہیں؟
مجھے نہیں لگتا کہ کوئی انسان اس طرح کے صدمے سے مکمل طور پر نکل پاتا ہے۔ زندگی آگے بڑھتی ہے، وقت گزرتا ہے اور یادیں دھندلی ضرور ہوتی ہیں، مگر جب ان کے بارے میں سوچیں تو سب کچھ ایک دم تازہ ہو جاتا ہے۔ کبھی لگتا ہے یہ بہت پرانی بات ہے، اور کبھی محسوس ہوتا ہے جیسے کل ہی ہوا ہو۔ جب میں اپنی بہنوں سے بات کرتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ ہمارا بچپن کا گھر اب وجود ہی نہیں رکھتا۔
کیا اب اس تجربے سے نمٹنا کچھ آسان ہو گیا ہے؟
گھر ٹوٹنے کے دو ماہ بعد میں وہاں گئی۔ جب بھی میں اس گھر میں گزری زندگی کو یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں تو ہر چیز اندھیرے میں ڈوبی نظر آتی ہے۔ کوئی خوشگوار یاد بھی ہو، جیسے میرا اپنے بھائی کے بیٹے کو گود میں لینا، تو اس کے ساتھ بھی ملبہ جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ میں اپنی یادوں سے اس ملبے کو ہٹا نہیں پاتی۔ اب میں اپنے گھر کو بغیر ملبے کے یاد ہی نہیں کر سکتی، اور یہی بات مجھے سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔
اسی دوران آپ کے والد گرفتار ہوئے، والدہ اور بہن کو حراست میں لیا گیا، اس سب نے صدمہ اور بڑھا دیا ہوگا؟
حقیقت میں اس کا اثر الٹا ہوا۔ ابو کی گرفتاری، 24 گھنٹے تک یہ نہ جان پانا کہ امی اور بہن کہاں ہیں، پھر تقریباً دو دن تک ان کی غیر قانونی حراست—ان سب نے ہمیں اتنا الجھا دیا کہ ہمیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا کہ ہمارا گھر بھی توڑ دیا گیا ہے۔ جب ابو رہا ہوئے، تب ہمیں احساس ہوا کہ ہم اپنا گھر بھی کھو چکے ہیں۔ جیل میں قید کے دوران ہی میرے والد اور بہن کا انتقال ہو گیا۔ یہ ناانصافی پر ناانصافی تھی۔
کئی بار میں اور میری چھوٹی بہن خود کو ابو کی جگہ رکھ کر سوچتے تھے کہ ہمارا درد ان کے یا امی کے درد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ امی دو سال تک ابو سے الگ رہیں۔ میں نے خود کو گھر کے غم میں ڈوبنے نہیں دیا، کیونکہ اس وقت ہم اس سے کہیں بڑی تکلیف سے گزر رہے تھے۔
اب آپ عوامی سطح پر کم بولتی ہیں، کیا آپ کے ایکٹوازم کا طریقہ بدل گیا ہے؟
ہاں، اب میرا طریقہ زیادہ خاموش اور کم نمایاں ہے۔ اگر کوئی احتجاج میں بلاتا ہے تو جاتی ہوں، مگر گھر ٹوٹنے کے بعد میں نے سوشل میڈیا سے فاصلہ بنا لیا۔ مجھے لگا کہ ٹوئٹ یا پوسٹ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کوئی ہیش ٹیگ میرے گھر کو ٹوٹنے سے نہیں بچا سکتا۔ میں نے لکھنا چھوڑ دیا، تحقیقی مقالے لکھے، زیادہ پڑھائی کی اور اپنی توانائی تحقیق میں لگائی۔ اس کے ساتھ ابو کے مقدمات بھی تھے، یا تو ہم وکیل کے ساتھ ہوتے تھے یا الٰہ آباد سے دیوریا آ جا رہے ہوتے تھے۔
ہائی کورٹ میں آپ کی عرضی میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
ہم نے جولائی 2022 میں عرضی دائر کی۔ شروع میں ہر دو ہفتے تاریخ ملتی تھی، مگر سماعت نہیں ہو پاتی تھی۔ ہم نے بتایا کہ معاملہ فوری نوعیت کا ہے، ہم صرف تین عورتیں ہیں۔ مگر شاید جج نے اسے اس لیے فوری نہیں سمجھا کہ گھر پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا۔ کبھی جج دوپہر کے بعد واپس نہیں آئے، کبھی تعطیلات، کبھی بنچ کی تبدیلی، کبھی سرکاری وکیل کی مہلت—یوں مہینوں کیس فہرست میں ہی نہیں آیا۔
آپ کی عرضی میں کیا مانگ رکھی گئی ہے؟
ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ ہمارا گھر غیر قانونی طور پر گرایا گیا، ہمیں معاوضہ دیا جائے اور ذمہ دار افسران کو سزا دی جائے۔ جب تک معاوضہ نہیں ملتا، ہمیں عارضی رہائش فراہم کی جائے۔
آپ نے دوسرے گھروں کی توڑ پھوڑ کو دستاویزی شکل دینا کیسے شروع کیا؟
ابتدا میں میرا ارادہ پورے ملک کا ڈیٹا جمع کرنے کا تھا، مگر زبان کی رکاوٹیں سامنے آئیں۔ میں نے ہریانہ، دہلی، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش پر توجہ دی۔ 2019 سے 2024 تک کے مقدمات، قانونی دستاویزات، انسانی حقوق کی رپورٹیں، شہری منصوبہ بندی کے قوانین اور عدالتی فیصلوں کا مطالعہ کیا۔
ان معاملات میں سب سے چونکا دینے والی بات کیا رہی؟
یہ سب ایک ہی طریقۂ کار پر مبنی ہیں۔ کانپور اور سہارنپور کے متاثرین سے بات کر کے لگا کہ جو ہمارے ساتھ ہوا، وہی وہاں بھی ہوا۔ یہ حیران کن ہے کہ یہ مماثلت لوگوں کو نظر نہیں آتی۔ مقصد سادہ ہے: سزا دینا، وہ بھی غیر قانونی طریقے سے۔ کسی کا مجرم ہونا الگ بات ہے، مگر اس سے قانون کے تحت سلوک کا حق ختم نہیں ہوتا۔
حکومتوں کا تو کہنا ہے کہ وہ غیر قانون تعمیرات کو گرا رہی ہیں؟
ہم نے صرف انہی معاملات پر توجہ دی جو غیر قانونی تھے۔ ہو سکتا ہہے کہ گھر غیرقانونی ہو یا مقبوضہ زمین پر بنا ہو لیکن کا ترقیاتی اتھارٹی نے درست طریقہ کار پر عمل کیا؟ ایک شخص کے طور میں کچھ غیر قانونی کام کر سکتی ہوں لیکن کا کوئی اتھارٹی یا افسر کوئی غیر قانونی کام نہیں کر سکتا؟ سبھی معاملوں میں ضوابط پر عمل نہیں کیا گیا، یا تو نوٹس دیا ہی نہیں گیا یا دیا بھی گیا تو کارروائی سے محض 30 منٹ قبل۔ ایک اور بات مشترک تھی کہ کارروائی کسی خاص شخص اور اس کے خاندان کو سزا دینے کے لیے کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے باوجود یہ سب کیوں جاری ہے؟
سپریم کورٹ نے رہنما اصول تو دیے ہیں، مگر ان پر عمل کرانے کا کوئی نظام نہیں۔ توڑ پھوڑ کے پیچھے ایک سیاسی پیغام ہوتا ہے—کسی کو سزا دینا، اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنا۔ جب تک عدالتیں اس نظریے اور شناختی بنیاد پر دی جانے والی سزا کو صاف لفظوں میں چیلنج نہیں کریں گی، یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔
(بیتوا شرما، آرٹیکل 14 ڈاٹ کام کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔