بابری مسجد کی شہادت کے لئے پرسنل لاء بورڈ ذمہ دار:عارف محمد خان

سوشل میڈیا

بابری مسجد کی شہادت کو 25 سال گزر گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے ویسے بھی اس معاملہ میں کوئی پیش رفت تو نہیں ہوئی، آج بھی معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔

ایودھیا معاملہ پر سیاست جاری ہے، آج بھی لوگ متنازعہ بیانات دینے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ جس وقت بابری مسجد شہید ہوئی تھی اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت کے ساتھ ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں تھیں اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی خاصی نمائندگی بھی تھی لیکن آج مرکز میں بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ این ڈی اے کی حکومت کی قیادت کر رہی ہے اور ملک کی زیادہ تر ریاستوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے ، پارلیمنٹ میں کانگریس اور مسلمان دونوں ہی کی نمائندگی بہت کم ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور ملک کے معروف دانشور عارف محمد خان نے ان سب حالات کو بہت قریب سے دیکھا ہےبلکہ کچھ معاملے جن کی وجہ سے بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ کو فروغ ملا اس کے اہم کردار رہےہیں ۔ ’قومی آواز آن لائن ایڈیشن‘ کے مدیر سید خرم رضا نے بابری مسجد کی شہادت کا ملک اور مسلمانوں پر کیا اثر پڑا اس پر ان سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس گفتگو کے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

بابری مسجد کی شہادت کو آج پورے 25 سال ہو چکے ہیں اوراس مسئلہ میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔ ان25 سالوں کو ملک اور مسلمانوں کے لئے آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

دیکھئے، میں یہ مانتا ہوں کہ قیادت کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ جس شخص پر آپ اپنے اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اس میں یہ بصیرت ہونی چاہئے کہ وہ یہ دیکھ سکے کہ آج جو ہم کر رہے ہیں اس کے آنے والے دنوں میں کیا اثرات ہوں گے۔ بابری مسجد اپنے آپ میں کوئی مسئلہ نہیں،بابری مسجد کا سیدھا تعلق شاہ بانو کیس سے ہے۔ 15جنوری 1986کو سری فورٹ میں مومن کانفرنس کے اجلاس میں اس وقت کے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ 5فروری سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن بل لایا جائے گا اور اس سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر موثر کر دیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ جو نفرت بھری اور پرتشدد تحریک چلائی گئی اس کے بارے میں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ ملک کا ماحول خراب کیا، نفرت کا بازار گرم کیا اور یہ سب مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مولانا علی میاں ندوی کی قیادت میں کیا۔ اس میں راجیو جی مجبور ہوئے ، چاہے پرسنل لاء بورڈ سے یا دوسرے کانگریسی رہنماؤں کے دباؤ میں۔ میں جہاں تک جانتا ہوں راجیو جی یہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جس میں نرسمہا راؤ شامل تھے انہوں نے راجیو جی کو مشورہ دیا۔ نرسمہا راؤ نے خود مجھ سے کہا کہ ہم مسلمانوں کے سوشل ریفارمر نہیں ہیں اگر وہ گڈھے میں پڑے رہنا چاہتے ہیں تو ہم سے اس کا کوئی مطلب نہیں ہے، اب یہ لوگ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو کرنے دو ،تمہیں کیا اعتراض ہے۔ جب انہوں نے مجھ سے میرا موقف بدلنے کے لئے اسرار کیا تو جواب میں میں نے کہا کہ میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ کل تک میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے حق میں بول رہا تھا اور اب میں اس فیصلے کے خلاف بولوں۔

پرسنل لاء بورڈ نے تو حد کر دی تھی اس نے جو ایفیڈیوٹ عدالت میں پیش کیا تھا اس میں اعتراف کیا تھا کہ قران کی آیت تو ہے لیکن اس آیت کے مخاطب جو ہیں وہ متقی ہیں عام لوگ نہیں ہیں۔ کتنا بڑا مزاق تھا۔ پرسنل لاء بورڈ نے جو ملک میں نفرت کا ماحول بنایا تھا ، اس کو قابو میں کرنے کے لئے کسی نے مشورہ دے دیا کہ بابری مسجد کے تالے کھول دو۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ سرمائی اجلاس 5فروری کو شروع ہونا تھا اور تالا 1فروری کو کھلوا دیا تاکہ جب سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر مؤثر کرنے کے لئے بل آئے، تو اس سے پہلے ایک فرقہ کے جذبات کو تالا کھلوا کر پہلے ہی قابو میں کر لیا جائے تاکہ مخالفت کی شدت میں کمی آ جائے۔

اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنا اخبار ’قومی آواز‘ اٹھائیے 3 یا 4 فروری کو مولانا علی میاں کا بیان شائع ہوا ہے جس میں مولانا کہتے ہیں ’’بابری مسجد کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے اور بھی کئی مساجد پر غیروں کا قبضہ ہے‘‘۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم کس کا ماتم کر رہے ہیں۔ میں یہ مانتا ہو ں کہ بابری مسجد کی انہدامی کارروائی کے لئے پرسنل لاء بورڈ ذمہ دار ہے کیونکہ اس پورے معاملے میں انہوں حکومت کے ساتھ ڈیل کی تھی۔

میرا پہلا سوال وہی ہے کہ آپ ان 25 سالوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟

میں کیسے دیکھتا ہوں۔ 1986 میں اپنے استعفے کے بعد میں نے متعدد مرتبہ یہ کہا کہ خدا کرے میرے سارے خدشات اور اندیشے غلط ثابت ہوں۔میرا یہ ماننا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایسا کام کر دیا ہے جس سے ملک میں ہندو۔مسلم خلیج میں مزید اضافہ ہوگا۔ سیاسی نظریہ سے دیکھئے 1980 میں 54مسلمان جیت کر پارلیمنٹ میں آئے 1984 میں 52 جیت کر آئے اور یہ کہاں سے جیت کر آ رہے تھے۔ میں اپنی مثال دیتا ہوں میں کانپور شہر سے جیتا ،جہاں مسلمانوں کی کل آبادی 12 فیصد تھی اور قریبی مخالف امیدوار بھی مسلم تھا اور یہاں کسی ہندو امیدوار کی ضمانت نہیں بچی، تو ہندو ہی تو ووٹ دے رہے تھے۔مجھے چھوڑئیے ایوب خان کو دیکھئے جو راجستھان کے اس انتخابی حلقہ سے جیت کر آئے ،جہاں پر کل مسلم ووٹر محض 2 فیصد تھے۔ پرسنل لا ء بات کرتا ہے ملی تشخص کا یعنی ہم الگ ہیں لیکن جب میں ووٹ مانگنے جاتا ہوں تو کہتا ہوں کہ ہم اور تم الگ نہیں ہیں۔ تمہارا میرا عبادت کا طریقہ الگ ہو سکتا ہے لیکن تم کسان ہو میں بھی کسان ہوں، تم طالب علم ہو میں بھی طالب علم ہوں، تم وکیل ہو میں بھی وکیل ہو۔ میں اس سے کہتا ہوں ہماری تمہاری شناخت ایک ہے ہم ہندوستانی ہیں۔ آپ نے جب الگ کی بات کی تو اگلے الیکشن میں آپ 23 یا 27 پر آ گئے، ہو گئے الگ۔

25 سال گزر چکے ہیں، سیاسی ماحول بدل چکا ہے، کانگریس اب حاشیہ پر آ چکی ہے۔

کانگریس کی یہ پوزیشن کب سے ہوئی، شاہ بانو کے بعد کانگریس پارلیمنٹ میں کبھی 200 سے زیادہ سیٹیں حاصل نہیں کر سکی اور اتر پردیش میں کبھی 100سیٹیں حاصل نہیں کر پائی۔

اب آپ کیسے دیکھتے ہیں کیا اس مسئلے کا کوئی حل ہے؟

کیا حل ہو سکتا ہے، مورتیاں 1947 سے رکھی ہوئی تھیں، صرف ایک علامتی تالا تھا یہ بتانے کے لئے کہ معاملہ متنازعہ ہے، اس تالے کو ہٹا دیا گیا 1986 میں۔ جب سے مورتیاں رکھی گئی تھیں تب سے اکھنڈ پاتھ چل رہا ہے۔ پنڈت نہرو کے خط کے جواب میں گووند ولبھ پنت نے لکھا تھا کہ کوئی صورت نہیں کہ مورتیاں ہٹائی جاسکیں۔

آپ نے تمام حالات کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اب آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیا 2019 کے عام انتخابات میں یہ مدا رہے گا؟

جس دن مسجد کے ڈھانچے کو گرایا گیااس کے دو دن بعد تک بی جے پی کے کسی رہنما نے کوئی بیان نہیں دیا تھا اور ان میں زبردست ندامت تھی۔اڈوانی جی بھی نہیں بول رہے تھے۔پارلیمنٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ دن میری زندگی کا سیاح ترین دن تھا۔ اس پر پارلیمنٹ میں میں نے کہا تھا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں لیکن قائد کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ اس کی اتنی بصیرت ہونی چاہئے کہ اس کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ اس کے عمل سے کیا نقصان ہونے والا ہے۔ آپ کی کمی یہ نہیں ہے کہ آپ نے تڑوا دیا کیونکہ میں اس بات پر یقین کرتا ہوں کہ آپ اس میں شریک نہیں تھے ،لیکن آپ اس لئے ذمہ دار ہیں کیونکہ جس دن آپ نے یاترا نکالی اس دن آپ نے اس کی بنیاد ڈالی۔ میں نے ان کو مثال دی کہ دس سال تک جناح نے کہا کہ ہندو اور مسلمان ساتھ نہیں رہ سکتے اور پاکستان کی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہا کہ اب پاکستان میں نہ کوئی ہندو ہوگا نہ کوئی مسلمان ہوگا۔میں نے کہا کہ دس سال تک نفرت کی گھٹی پلانے کے بعد آپ یہ کہیں کہ اب نفرتیں ختم ہو گئیں تو کیا آپ کے کہنے سےختم ہو جائیں گی۔ یہ تو خیریت ہو گئی کہ جناح ایک سال میں میں ہی انتقال فرما گئے اگر ان کا انتقال نہ ہوتاتو یہ پاکستانی انہیں مار ڈالتے کیونکہ جس نفرت پر انہوں نے پالا تھا وہ یہ قبول ہی نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمان اور ہندو برابر کے شہری ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے میں یہ بتا رہا ہوں کہ بی جے پی کا کوئی رہنمانہیں بول رہا تھا لیکن دو دن بعد جیسے ہی نرسمہا راؤ نے اپنے قوم سے خطاب میں یہ کہا کہ اس انہدامی کارروائی کا جواب مسجد کو دوبارہ وہیں بناکر دیا جائے گا ۔ اس بیان کے اگلے دن پورا ماحول بدل گیا۔ شرمندگی اور ندامت سے وہ باہر آ گئے۔

آج ملک کی قیادت جن ہاتھوں میں ہے وہ بہت جارحانہ ذہنیت رکھتی ہے اس صورتحال میں آپ کیا دیکھتے ہیں؟

میں آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں رکھتا کہ آج کی بی جے پی قیادت بہت جارحانہ قیادت ہے میں یہ مانتا ہوں کے یہ حکومت حد پار نہیں کرے گی ، اگر معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو سپریم کورٹ کا احترام کیا جائے گا۔ باہر کے لوگ پہلے بھی بیانات دیتے رہے ہیں اب بھی دے رہے ہیں ۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت نہیں جا سکتی ، کانگریس آج تک شاہ بانو معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جانے کے درد سے باہر نہیں آئی ہے۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیکمشوروں سے بھی نوازیں۔

سب سے زیادہ مقبول