اِنٹرویو... مودی جی کے پاس غیر سیاسی انٹرویو کے لیے وقت ہے لیکن پریس کانفرنس کے لیے نہیں: ارملا ماتونڈکر

ممبئی شمال سے لوک سبھا امیدوار ارملا ماتونڈکر نے کانگریس میں شامل ہوتے وقت کہا تھا کہ وہ کانگریس کی سیکولر، لبرل نظریہ میں یقین رکھتی ہیں اور اسی یقین کی بنیاد پر وہ لوگوں سے ووٹ بھی مانگ رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشو دیپک

ممبئی شمال لوک سبھا حلقہ اپنے اراکین پارلیمنٹ کو بدلنے کے لیے مشہور ہے۔ اتر پردیش کے گورنر رام نائک نے 1999 میں یہاں سے فتح حاصل کی تھی۔ اس کے بعد 2004 کے انتخاب میں کانگریس کے ٹکٹ پر اداکار گووندا، رام نائک کو شکست دے کر پارلیمنٹ پہنچے۔ 2009 کے انتخاب میں پھر سے کانگریس کے سنجے نروپم جیتے تو 2014 میں مودی لہر پر سوار بی جے پی نے پھر سے اس سیٹ پر قبضہ کر لیا۔ دیکھنا ہوگا کہ 2019 کے انتخاب میں بی جے پی اس سیٹ پر اپنا قبضہ برقرار رکھ پاتی ہے یا ایک بار پھر رکن پارلیمنٹ کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ کانگریس نے اس بار اداکار ارملا ماتونڈکر کو اس سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ ’قومی آواز‘ کے وشودیپک نے ان سے خصوصی گفتگو کی۔ پیش ہیں اس کے اہم اقتباسات...

آپ کے مخالفین کہتے ہیں کہ آپ کو سیاست کا تجربہ صفر ہے، پھر بھی انتخاب لڑ رہی ہیں۔ آپ کا کیا کہنا ہے؟

مجھے یہی کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ہمارے انتخابی حلقہ، ممبئی شمال میں کچھ کام نہیں ہوا ہے۔ جو لوگ سیاست کے زیرو ایکسپیرینس یعنی صفر تجربہ کی بنیاد پر مجھے خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں ان کے کام کا حساب دینا چاہیے۔

یہ افسوسناک ہے کہ لوگوں نے بی جے پی کو جس طرح کی اکثریت دی تھی، اس کے بعد بھی لوگوں تک بنیادی سہولیات نہیں پہنچی ہیں جب کہ پانچ سال گزر گئے۔ میں بھی اس پہیلی کو سمجھنا چاہتی ہوں کہ آخر یہ ہوا کیسے؟ بی جے پی کے جو محترم رکن پارلیمنٹ ہیں وہ خود کو گارڈن کنگ کہتے ہیں۔ اگر لوگ انھیں گارڈن کنگ کی جگہ پر ایکشن کنگ کے نام سے جانتے تو شاید عوام کے لیے بہتر ہوتا۔

اس علاقے میں پانی کا سنگین مسئلہ ہے۔ صاف صفائی، رہائش اور بنیادی ڈھانچوں کا بڑا مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان پانچ سالوں میں ان مسائل کو دور کیوں نہیں کیا گیا؟ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے، ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے، بی ایم سی میں بی جے پی ہے، پھر بھی اگر کام نہیں ہو رہا ہے تو اس کے لیے ذمہ دار کون ہے؟ جو لوگ خود کو سیاست کا ماہر سمجھتے ہیں اگر وہ اپنی فتح کو لے کر اتنے ہی پراعتماد ہیں تو پھر ریاست کے وزیر اعلیٰ فڑنویس کے ساتھ ساتھ پانچ کابینہ وزراء نے یہاں ڈیرا کیوں ڈالا ہوا ہے؟

الیکشن میں آپ کے حریف گوپال شیٹی مودی جی کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟

اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے علاقے میں کچھ بھی کام نہیں کیا ہے۔ اگر انھوں نے کچھ کام کیا ہوتا تو وہ اپنے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگتے۔

گزشتہ دنوں آپ کے جلسہ عام میں مودی-مودی کے نعرے لگے۔ اس کے بعد آپ نے رپورٹ درج کرائی اور سیکورٹی کا مطالبہ کیا۔ کون لوگ تھے وہ؟ کیا آپ کو اس کے بعد سیکورٹی ملی؟

یقینی طور پر یہ بی جے پی کے ذریعہ بھیجے گئے لوگ تھے۔ میرا تعلق فلم انڈسٹری سے ہے، میں نے ہمیشہ لوگوں کے بیچ میں ہی کام کیا ہے۔ کئی سالوں تک میں اسٹار رہی ہوں۔ اس لیے میں بھیڑ کی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ ایک ساتھ، ایک ہی طرح کے لوگوں کا اکٹھا ہو کر اس طرح ایک ہی نعرہ لگانے کا کیا مطلب ہے؟ مطلب ہے کہ ان لوگوں کو یہاں پر ایک منصوبہ کے تحت اکٹھا کیا گیا تھا۔ ورنہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔

بے روزگاری 45 سال کا ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ مہنگائی دن رات بڑھ رہی ہے۔ معیشت منہدم ہو چکی ہے۔ کسانوں کی خودکشی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایسے میں اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ اصل ایشو سے لوگوں کا دھیان بانٹنے کے لیے بی جے پی اس طرح کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہی ہے۔ جہاں تک سیکورٹی کی بات ہے، تو میرے ذریعہ شکایت درج کرانے کے بعد مہاراشٹر حکومت نے مجھے سیکورٹی دی ہے۔ اس کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

کچھ لوگ ایسا مانتے ہیں کہ مودی حکومت کے پانچ سالوں کے دوران موب مینٹلٹی (بھیڑ کے تشدد کی ذہنیت) بڑھی ہے، خاص طور سے اقلیتی طبقہ اور دلتوں کے تئیں جنوب پنتھی تنظیم کافی جارحانہ طریقے سے پیش آئے ہیں۔ آپ کا کیا کہنا ہے؟

مجھے یہی کہنا ہے کہ ہمارے ملک کا جو جمہوری تانا بانا ہے اسے بنا کر رکھنا ہے۔ ہماری جو سبھی مذہب کے تئیں عزت والی سوچ ہے، وہ خطرے میں آ گئی ہے۔ خطرہ الگ الگ جگہوں پر الگ طریقے سے نظر آ رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات کے ویڈیو بنائے جاتے ہیں اور پھر بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے لوگ اسے سوشل میڈیا پر، فیس بک اور ٹوئٹر پر وائرل کرتے ہیں۔ اس طرح سے یہ لوگ سماج میں نفرت اور زہر آلود ماحول تیار کر رہے ہیں جو کہ کسی بھی سماج کے لیے بہت مضر ہے۔ جس سماج میں اس طرح کا ماحول رہے گا وہ ترقی کی جانب کیسے آگے بڑھے گا؟ یہ ہمارے سماج اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی لیے میں کہتی ہوں کہ یہ انتخاب بہت اہم ہے کیونکہ اس انتخاب میں ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہندوستان کو جمہوری ہی بنے رہنا ہے۔ ہمیں اس جمہوریت کو بچانا ہے۔

اگر آپ الیکشن جیت جاتی ہیں تو وہ کون سے کام ہیں جن کو پہلے پورا کریں گی؟

کام تو بہت سے کرنے ہیں لیکن میں زیادہ توجہ بنیادی ایشوز پر دوں گی۔ جیسے کہ پانی، بنیادی ڈھانچوں اور صاف صفائی وغیرہ۔ رہائش کا مسئلہ بھی بہت بڑا ہے اور اس پر بھی میں کام کروں گی۔ لیکن اس مسئلے کا حل بعد میں تلاش کیا جائے گا۔

وزیر اعظم مودی اور اکشے کمار کے غیر سیاسی انٹرویو ان دنوں موضوعِ بحث ہے۔ آپ اس پر کچھ کہنا چاہیں گی؟

اکشے کمار کے انٹرویو کے بارے میں کیا کہوں! مجھے خوشی ہے کہ ملک کا الیکشن کئی جگہوں پر ہو چکا ہے اور کئی جگہوں پر ہونے والا ہے لیکن اس سب کے درمیان ہمارے معزز وزیر اعظم کے پاس اکشے کمار کے ساتھ غیر سیاسی انٹرویو کے لیے وقت ہے لیکن پریس کانفرنس کے لیے نہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پی ایم مودی کو ایک بھی پریس کانفرنس کرنے کا وقت نہیں ملا۔ جمہوریت کے چار اہم ستون میں سے ایک میڈیا بھی ہے، لیکن مودی جی نے اس سے بات کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اس کی جگہ پر وہ اکشے کمار کے ساتھ غیر سیاسی انٹرویو کر رہے ہیں۔

Published: 27 Apr 2019, 11:10 AM