مودی حکومت امتحان میں فیل : یشونت سنہا

بی جے پی کو ہرانے کے لئے سبھی پارٹیوں کو متحد ہونا پڑے گا، تبھی بی جے پی کو ہرایا جا سکتا ہے۔

وشو دیپک

ملک کے موجودہ حالات اور مودی حکومت کے چار سال پورے ہونے پر بی جے پی کے سابق رکن اور سابق وزیر یشونت سنہا نے ’قومی آواز‘ کے وشو دیپک سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ حکومت کو پاس ہونے والے نمبر نہیں دیئے جا سکتے۔ پیش ہیں اس گفتگو کے اقتباسات...

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ مودی بطور وزیر اعظم تباہ کن ثابت ہوں گے جبکہ ان کے برعکس نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائڈو نے کہا ہے کہ مودی اس ملک کے لئے خدا کی جانب سے تحفہ ہیں۔ ان متضاد خیالات کے بیچ مودی حکومت نے اپنے چار سال مکمل کر لئے ہیں آپ کا مودی حکومت کے ان چار سالوں کے بارے میں کیا تجزیہ ہے؟

اگر آپ مودی حکومت کے چار سال کی حصولیابیوں اور ناکامیوں پر غور کریں تو ملی جلی تصویر سامنے آئے گی اور بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ناکامیوں نے محدود کامیابی کو دبا دیا ہے۔ میں مودی حکومت کی جس مثبت تصویر کا ذکر کر رہا ہوں، اس کے تعلق سے یہی کہوں گا کہ چار سال میں ایک مستحکم حکومت ضرور دی ہے۔ اس حکومت کو مضبوط حکومت کہا جاتا ہے جس کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ لیکن یہ الگ سوال ہے کہ اس استحکام کو ملک اور اس کے عوام کی بہتری کے لئے استعمال کیا گیا یا نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ انہیں کوئی اچھے حالات نہیں ملے تھے اس سے قبل متعدد ایسے مسائل تھے جو انہیں یو پی اے حکومت سے وراثت میں ملے تھے۔ سب کو یہ امید تھی کہ وہ فوری طور پر ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدام اٹھائیں گے۔ بینکوں کا جو این پی اے (نان پرفارمنگ ایسیٹ) تھا وہ ایسا مدا تھا جس میں حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

اس کے بعد گزشتہ چار سالوں میں اس حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کو خطرہ لاحق ہے۔ جمہوریت کے تمام اداروں ، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، میڈیا، سیبی، آئی آر ڈی اے کے کام کاج سے بہت حد تک سمجھوتہ کیا گیا ہے۔یہ ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں اس طرح پوری نہیں کر رہے ہیں جیسے ان سے کرنے کی امید تھی۔ اس کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ لوک سبھا میں اعتماد کے ووٹ کی تحریک پر بحث ہی نہیں ہو پائی۔ جمہوریت میں اس سے بڑا سانحہ اور کیا ہوگا۔ اس لئے میں تو اس کو ناکامی ہی مانوں گا۔ دوسری اہم چیز یہ ہے کہ حکومت مستقل عوم کو گمراہ کر رہی ہے۔ عوام حکومت سے امید کرتی ہے کہ وہ اس کو سچ بتائے گی۔ اب بد قسمتی سے ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں حکومت کی ساکھ پر سنجیدہ سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ حکومت اعداد و شمار کو مینوفیکچر کر رہی ہے جیسے ترقی کی شرح، بے روزگاری کی شرح ایسی مثالیں ہیں جہاں اعداد و شمار کو حکومت کی مرضی کے حساب سے توڑ مروڑ کے تیار کیا جا رہا ہے۔

اگر حکومت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو پَاس ہونے والے نمبربھی ان کو نہیں دوں گا۔ خارجہ پالیسی کو لے لیجئے۔ مودی جی جتنے سربراہوں سے گلے ملے ہیں اور گلے ملنے کے ان واقعات سے ان کو مقبولیت بھی ملی ہے لیکن اس کے با وجود خارجہ پالیسی میں ان کو پاس ہونے والے نمبر نہیں دوں گا۔

سماجی تناؤ۔۔سماج میں تقسیم کا رجحان دراصل بہت خطرناک رجحان ہے اور جو مدے نہیں ہیں ان کو مدا بنایا جا رہا ہے۔ یہ جمہوریت کے لئے ایک الگ مسئلہ ہے۔ اس لئے سماج میں مایوسی اور جھنجلاہٹ کا احساس ہے۔

سال2014 کے انتخابات کا سب سے بڑا مدا بدعنوانی تھا اور وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نے بدعنوانی ختم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے نعرہ دیا تھا’’نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا‘‘ لیکن حالیہ ایک تحقیق سے پتہ لگا ہے کہ ملک کے 75 فیصد عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے دور میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔

میں نے یہ رپورٹ نہیں دیکھی لیکن یہ سہرا تو اس حکومت کے سر جاتا ہے کہ کچھ چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے کسی رکن کے خلاف کوئی الزام نہیں لگےلیکن ان کا سامنے نہ آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ اس کے بہت امکانات ہیں کہ ابھی وہ معاملے سامنے نہیں آئے ہوں اور بعد میں وہ سامنے آئیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ چار سالوں میں مودی حکومت مہنگائی قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔تیل کی بڑھی قیمتوں نے تو عوام کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ عام آدمی رو رہا ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے بس اتنا ضرور ہے کہ کچھ وزراء قیمتیں کم کرنے کی یقین دہانی ضرور دلاتے رہتے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ حکومت عام آدمی کے تئیں بے حس ہے؟

پٹرول کی بڑھی قیمتوں کے مدے کو کون اٹھائے گا۔ ظاہر ہے حزب اختلاف ہی اٹھائے گی حکومت تو نہیں ۔ اس لئے پورے ملک میں حزب اختلاف کو سڑکوں پر اتر جانا چاہئے لیکن وہ صرف پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ کوئی سڑکوں پر نہیں اتر رہا۔ کسی نے کرناٹک کے گورنر کے فیصلہ کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ میں اکیلا شخص تھا جو دھرنے پر بیٹھا۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بدقسمتی سے حزب اختلاف بھی اپنا کام نہیں کر رہا۔ وہ نہ تو پارلیمنٹ کے اندر اورنہ اس کے باہر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ عالمی منڈی میں کچے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے اس حکومت کو زبر دست فائدہ ہوا اور اس کی وجہ سے قومی خزانہ بڑھ کر دو گنا ہو گیا ۔ یعنی یہ1.3لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر2.7 لاکھ روپے ہو گیا۔ یہ پیسہ کہاں گیا اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اب جب عالمی منڈی میں کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہےتو اس کا سارا بوجھ عوام کے اوپر ڈالا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے فارمولا تھا کہ یہ تین حصوں میں تقسیم ہو تا تھا۔ کچھ بوجھ حکومت برداشت کرے گی، کچھ تیل کمپنیاں اور کچھ صارف۔ اور جب میں حکومت میں تھا اس میں ریاستی حکومت بھی شامل تھیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اب صارف پر سار ا بوجھ ڈالا جا رہا ہے ، عوام میں شدید غصہ کی یہی وجہ ہے۔

مودی نے وعدہ کیا تھا کہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور پیداوار کی کم سے کم قیمت کو بڑھا یا جائے گا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کسان صحیح قیمتوں کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ کیا مودی حکومت نے چار سالوں میں کسانوں کی پریشانی کم کرنے کے لئے کچھ کیا۔ آپ کسانوں میں کام کر رہے ہیں کیا اس تحریک سے سال 2019کی سیاسی شکل بدلنے میں کامیابی ملے گی ؟

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ سیاسی شکل اختیار کرے گا یا نہیں، لیکن حقیقت یہ کہ کسانوں کو زبردست مسائل درپیش ہیں۔ میں نے کئی احتجاج اور مظاہروں میں حصہ لیا۔ کسانوں کی 110 تنظیمیں ایک ساتھ آئی ہیں اور انہوں نے یکم جون سے 10 جون تک گاؤں بند کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روز کی بنیاد پر گاؤں سے جو سبزی، پھل، دودھ آتا ہے وہ نہیں آئے گا اور گاؤں والے بھی اپنی ضرورت کی اشیا خریدنے کے لئے شہر نہیں جائیں گے۔ کسانوں کی بے چینی ملک کا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔اتر پردیش میں دس گیارہ ہزار کروڑ روپے کا گنا پڑا ہوا ہے۔

سوال: جو غیر کانگریسی علاقائی پارٹیوں کا بی جے پی مخالف اتحاد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے کیا بی جے پی کو اگلے عام انتخابات میں ہرایا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں میرا ذہن بالکل صاف ہے کہ بی جے پی کو ہرانے کے لئے سب کو متحد ہونا پڑے گا۔ اس میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی ایک کو چھوڑدیں یا یہ کہیں کہ یہ میرا فارمولا ہے۔ اس میں سب کو ایک ہو کر بی جے پی کے خلاف لڑنا ہوگا تبھی بی جے پی کو ہرایا جا سکتا ہے۔