کسانوں کی بات آئے تو قوم پرستی کا نعرہ لگانے لگتے ہیں مودی-شیوراج: اتل انجان

’’کسانوں کا درد ایک ہے، ان کے مسائل ایک ہیں، ان کی جدوجہد ایک جیسی ہے لیکن مودی اور ماما (شیوراج) کی حکومت نے کسانوں کو بھی ذات اور مذہب میں بانٹ دیا ہے۔‘‘

وشو دیپک

مدھیہ پردیش کے مندسور کی کسان تحریک کے دوران ہوئی فائرنگ کی پہلی برسی پر ’اکھیل بھارتیہ کسان سنگھرش سمیتی‘ نے مندسور سے تقریباً 30 کلومیٹر دور چیروند-پپلیا گاؤں میں انشن کیا، جس کا مقصد کسانوں کی بدحالی کے تئیں حکومت کی توجہ دلانا اور لوگوں کو بیدار کرنا ہے۔

ایک سال قبل 2017 میں اسی گاؤں کے رہنے والے کنہیا لال پاٹیدار پولس کی گولی کا شکار ہوئے تھے۔ شہید کسان کنہیا لال پاٹیدار کی یاد میں گاؤں کے بیچ میں ایک یادگاری بنائی گئی ہے جو مظاہرے کے مقام میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جس وقت نیشنل ہیرالڈ/قومی آواز کی ٹیم نے اس گاؤں کا دورہ کیا تو ملک بھر سے آئے کسان رہنما اور سماجی کارکنان اس مقام کا محاصرہ کر کے اجتماعی طور پر انشن پر بیٹھے تھے۔

انہیں رہنماؤں میں سے ایک کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے اتل انجان تھے۔ اپنی بیباک رائے اور جارحانہ تیوروں کے لئے مشہور انجان سے جب ہم نے کسان تحریک کے تعلق سے بات چیت کی کوشش کی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ فی الحال بولنے کے بجائے لوگوں کو سننا چاہتے ہیں۔

انجان نے کہا، ’’میں خاموش ہوں کیوں کہ میں عوام کے درد کو محسوس کرنا چاہتا ہوں۔ ٹرین یا پلین کے بجائے 15 گھنٹے کا بس کاسفر کرنے کا فیصلہ میں نے اس لئے کیا تاکہ لوگوں کو سمجھ سکوں۔ سمجھ سکوں کہ اس بدلتے ہوئے دور میں وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ اور نریندر دامودر داس مودی کی حکومت کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔‘‘

آخر کار التجا کے بعد وہ بات چیت کے لئے تیار ہوئے۔ پیش ہیں گفتگو کے اہم اقتباسات:

سوال: آپ نے 15 گھنٹے بس کے سفر کے دوران لوگوں کو سنا اور سمجھا۔ آپ کے الفاظ میں کہیں تو نریندر دامودر داس مودی کی حکومت کے بارے میں اور مندسور کسان تحریک کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

جواب: لوگوں سے بات چیت کے بعد میں جن نتائج پر پہنچا ہوں وہ ہمارے ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ لب و لباب یہ ہے کہ لوگ اب کھیتی سے اکتا چکے ہیں۔ آج کی تاریخ میں کھیتی وہی کر رہے ہیں جن کے پاس کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔ ایک طرح سے یہ مجبوری کا پیشہ بن چکا ہے۔ اور یہ صورت حال ایک سال یا دوسال میں پیدا نہیں ہوئی ہے۔ ہر حکومت نے کھیتی کو نظر انداز کیا ہے، اس کے ساتھ تفریق کی ہے، کسانوں کو حاشیہ پر رکھا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے۔

کسانوں کے ساتھ تفریق تو ہر جگہ ہوئی لیکن اتنا سخت احتجاج مدھیہ پردیش کے مندسور میں ہی کیوں ہوا؟

مدھیہ پردیش کی بات کریں تو اس کی اہم وجہ کھیتی کا بارش پر منحصر ہونا ہے۔ مطلب اگر بارش ہو گئی تو کھیتی ہوگی اور نہیں ہوئی تو نہیں ہوگی۔ یہاں 15 سال سے صرف ماما-بھانجے کا کھیل چل ہرا ہے۔ شیوراج سنگھ کی حکومت نے کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مالوا علاقہ کے کسان نسبتاً اچھی حالت میں ہیں اور اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہیں۔ تیسرا یہ کہ شیوراج سنگھ کی حکومت نے اقتدار کے دم پر تحریک کو دبانے کی کوشش کی۔ جہاں جتنی دبانے کی کوشش ہوتی ہے وہاں اتنی ہی مزحمت ہوتی ہے۔

مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی شیوراج حکومت دونوں کا دعوی ہے کہ کسانوں کی بہبود کے لئے بہت کام کیا ہے۔

مودی اور ماما (شیوراج) کی حکومت نے سماج کو مذہب کے نام پر بانٹنے کے علاوہ اور کچھ کام نہیں کیا ہے۔ پورے ہندوستان کے کسانوں کا درد ایک ہے، ان کے مسائل ایک ہیں، ان کی جدوجہد ایک جیسی ہے لیکن بی جے پی حکومت نے کسانوں کو بھی ذات اور مذہب میں بانٹ دیا ہے۔

چناؤ کے وقت تو بی جے پی اس کام میں اور بھی شدت سے جٹ جاتی ہے۔ مالوا کے اس پورے علاقہ میں خوب مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ بڑے بڑے باباؤں کے پروچن ہوتے ہیں۔ صرف ہندو باباؤں ہی نہیں مولاناؤں کے اجتماع بھی ہوتے ہیں۔ ذات کی بات کریں تو کبھی پٹیل کے نام پر کھیل ہوتا ہے تو کبھی مہارانا پرتاپ کے نام پر کھیل کھیلا جاتا ہے۔

کیا مندسور کسان تحریک کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا؟

ایسا نہیں ہے۔ ہم لوگوں کی طرف سے کوشش رہی ہے کہ سامراجیزم میں ڈوبے سماج میں بیداری آئے۔ گزشتہ سال 6 جون کو شیوراج حکومت نے اپنے حقوق کے لئے احتجاج کر رہے کسانوں پر جو فائرنگ کی اس سے پورے ملک میں مزحمت کی ایک لہر پیدا ہوئی اور کسانوں کے مسائل کے تئیں ملک بھر میں بیداری آئی۔

لوگ جگہ جگہ مظاہرے کر رہے ہیں۔ پنجاب سے لے کر آندھرا پردیش تک کے کسانوں نے یکم تا 10 جون احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ تلنگانہ کے کریم نگر ضلع سے تین کسان یہاں مندسور کے انشن میں شامل ہونے کے لئے آئے۔ یہ بیداری نہیں تو اور کیا ہے! بس ہمارے وسائل ذرا محدود ہیں۔

آپ لوگوں کو سماجی سطح پر متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے مندسور میں ایک ایسی بڑی کسان ریلی سے خطاب کیاجس کی شکل سیاسی تھی۔

مندسور فائرنگ کی پہلی برسی پر راہل گاندھی یہاں میٹنگ کے لئے آئے۔ لیکن کسی بورڈ، پوسٹر یا بینر پر ان کسانوں کی تصاویر نظر نہیں آئیں جو فائرنگ میں ہلاک ہوئے تھے۔ ہر جگہ کانگریس کے مقامی رہنماوؤں کی بڑی بڑی تصاویر نظر آتی ہیں جو راہل گاندھی کا استقبال کر رہے ہیں، یہ تکلیف دہ بات ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کانگریس نے 2014 اور اس کے بعد ہوئی ہاروں سے سبق نہیں لیا۔ اس طرح کا رویہ سیاست میں نہیں چلتا۔

آپ کے مطابق کانگریس کو کیا کرنا چاہئے؟

آج کے دور میں کانگریس کو یہ بات بخوبی سمجھ لینی چاہئے کہ وہ تنہا طور پر نہ تو حکمرانی کر سکتی ہے اور نہ ہی ملک کے مسائل سے لڑ سکتی ہے۔ اگر اسے بی جے پی کو شکست دینی ہے تو علاقائی چھوٹی جماعتون کے ساتھ بہتر تال میل قائم کرنا ہوگا۔

ایسی قوتیں جو آئین کو تبدیل کرنے کی فراق میں ، جمہوریت کا قتل کرنا چاہتی ہیں اور سماج میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنا چاہتی ہیں ان کے خلاف یکساں نظریہ والی جماعتوں کو ایک ساتھ آنا ہوگا اور یہ کام کانگریس ہی کر سکتی ہے۔ اس کے لئے کانگریس کو تھوڑا جھکنا بھی پڑے تو جھک جانا چاہئے۔

اگر کانگریس کو جھکنا چاہئے تو کیا چھوٹی جماعتوں کا یہ فرض نہیں کہ بی جے پی کو ہرانے کے لئے کانگریس کی حمایت کریں؟

سوال حمایت کا نہیں ہے۔ اگر تمام سیاسی پارٹیاں بغیر کسی پروگرام کے جمع ہو رہی ہیں تو پھر اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ بنگلورو میں تمام حزب اختلاف کے رہنما اکٹھا ہوئے لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اتحاد کی بنیاد کیا ہے، میرے خیال میں یہ کسی کو صحیح طور پر پتہ نہیں ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس دس دن تک وزارتوں کے قلمدانوں کے لئے لڑتی رہیں۔ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطہ اس سوال کا جواب کانگریس کو دینا ہوگا۔

کیرالہ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں جہاں آپ کی پارٹی کا اثر ہے۔ کیا آپ کی پارٹی کانگریس کی حمایت کرے گی؟

میری پارٹی کا موقف صاف ہے۔ ہم نے ڈھائی سال قبل ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ تمام سیکولرقوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہئے۔ سی پی ایم اور سی پی آئی ایم ایل سب کا یہی موقف ہے۔ اب کانگریس کو طے کرنا ہے کہ اس کا ایجنڈا کیا رہے اور وہ سب کو ایک ساتھ لے کر کس طرح چل سکتی ہے۔ کانگریس کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ نہرو کی پالیسیوں پر چلے گی یا پھر لیبرلائیزیشن کی راہ اختیار کرے گی۔

حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی لگاتار ہارہوئی ہے۔ سیاسی طور پر اس کے کیا معنی ہیں؟

سال 2014 سے اب تک 23 لوک سبھا سیٹوں کے لئے انتخابات ہوئے ہیں جن میں سے بی جے پی محض 4 سیٹوں پر جیت پائی ہے۔ اسی طرح اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی کی لگاتار ہار ہوئی ہے۔ یہ ہار اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کے عوام نریندر دامودر داس مودی کے طریقہ کار، ان کی حکومت عملی اور ان کی سیاست سے خوش نہیں ہیں۔ چاہے دو کروڑ کی نوکری کا وعدہ ہو یا پھر کالے دھن کا مدا ہو، مودی حکومت نے صرف اپنے وعدوں سے ملک کے عوام کو ٹھگا ہے۔ مہنگائی پر لگام لگانے سے لے کر جموں و کشمیر میں دہشت گردی روکنے تک ہر محاذ پر مودی حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ لیکن اگر آپ اِن سے پوچھئے کہ چار سال میں کسانوں کے لئے کیا کام کیا ہے تو یہ لوگ قوم پرستی کا نعرہ لگانے لگتے ہیں۔ اِن کی قوم پرستی صرف اور صرف کسانوں کو بیوقوف بنانے کے لئے ہے۔

Published: 10 Jun 2018, 4:21 AM