انٹرویو

کیا ہوا مایاوتی کا آئین حفاظت کا وعدہ: بھوپیش بگھیل

مایاوتی اور اجیت جوگی کے اتحاد کو کانگریس کے لئے جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے لیکن چھتیس گڑھ کانگریس کے صدر بھوپیش بگھیل کا کہنا ہے کہ اس سے قومی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بھوپیش بگھیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے اتحاد کو بچانے کی پوری کوشش کی۔

وشو دیپک

نوے سیٹوں والی چھتیس گڑھ اسمبلی کے لئے بی ایس پی سپریمو مایاوتی کا اجیت جوگی کے ساتھ سمجھوتہ عظیم اتحاد کی یکجہتی کے لئے ایک جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ چھتیس گڑھ میں بی ایس پی کے علیحدہ ہونے سے کانگریس کو قومی سطح پر نقصان ہوگا۔ ایسا کچھ پنجاب اسمبلی انتخابات میں بھی سوچا جا رہا تھا کہ عام آدمی پارٹی کی وجہ سے بی جے پی اور شرومنی اکالی دل کو فائدہ ہوگا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ ریاستی کانگریس اس پورے معاملہ کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہی ہے اور اس کو امید ہے کہ اس کا قومی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بات چیت کی شروعات سے لے کر اس کے ٹوٹنے تک ہر موقع پر شامل رہے چھتیس گڑھ کانگریس کے صدر بھوپیش سنگھ سے وشودیپک نے بات کی۔ پیش ہیں گفتگو کے اہم اقتباسات۔

کیا وجہ ہے کہ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے انتخابات سے عین قبل اجیت جوگی کی پارٹی ’جنتا کانگریس چھتیس گڑھ ‘ سے سمجھوتہ کر لیا؟ یہ سب کب شروع ہوا اور کیسے ممکن ہوا؟

بات تھوڑی پرانی ہے۔ بی ایس پی کے ریاستی صدر او پی واجپئی میرے پاس عظیم اتحاد کی تجویز اس وقت لے کر آئے تھےجب بی جے پی طرح طرح سے دلتوں کا استحصال کر رہی تھی اور دلتوں پر جگہ جگہ حملے ہو رہے ۔ اس طرح کی باتیں بھی ہو رہی تھیں کہ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ آئین کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پس منظر میں واجئپی مجھ سے ملے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان سب پارٹیوں کو ، جو ہندوستان کے آئین پر بھروسہ کرتی ہیں اور آئین کے تخلیق کار بابا صاحب امبیڈکر کو مانتی ہیں ان کو متحد ہو کر چناؤ لڑنا چاہئے تاکہ بی جے پی کو ہرایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے لوگ بابا صاحب کو نہیں مانتے اور آئین کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس لئے ان کے خلاف ایک مضبوط محاذ کھڑا کرنا ضروری ہے۔

اس کے جواب میں میں نے کہا کہ آپ کی بات بالکل صحیح ہے اور ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں ۔ آئیے، ہم سب مل کر لڑیں گے۔ حالانکہ اسی وقت میرے دل میں خدشہ پیدا ہوا کہ مایاوتی جی نے آج تک جو بھی قدم اٹھایا ہے اس سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوا ہے۔ اس پر او پی واجپئی نے کہا کہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ معاملہ امبیڈکر کا اور آئین کی حفاظت کا ہے۔ بی ایس پی اپنی پوری قوت کے ساتھ کانگریس کے ساتھ مل کر بی جے پی کو ہرانے کے لئے کام کرے گی۔

پھر کیا ہوا، بات چیت آگے بڑھی یا رک گئی؟

ہماری بات چیت چلتی رہی۔ کئی مراحل میں بات چیت ہوئی اور حال تک مذاکرات جاری رہے۔ بی ایس پی کے چھتیس گڑھ کے انچارج ایم ایل بھارتی سے بھی ہماری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا کہ آپ دونون صوبائی سربراہان یعنی کہ کانگریس کی جانب سے میں اور بی ایس پی کی جانب سے واجپئی کو مل کر سیٹوں کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ بھارتی جی سے ہماری بات چیت اس نقطہ پر ختم ہوئی کہ ہم حتمی فیصلہ کے لئے دو روز بعد پھر سے میٹنگ ہوگی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ سیٹوں پر آخری سمجھوتہ سے قبل ہی بات چیت کا سلسلہ کیوں ٹوٹ گیا۔ کیا آپ نےبات چیت بحال کرنے کی کوشش کی تھی؟

بھارتی جی سے ملاقات کے تین چار روز کے بعد جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو معلوم چلا کہ بی ایس پی کے سابق رکن اسمبلی کامدان جولے نے بھارتی پر کچھ الزامات عائد کر دئے ہیں۔ یہ خبر اخباروں کے صفحہ اول پر شائع ہوئی تھی۔ اس وقت بی ایس پی اندرونی تنازعات سے دو چار تھی۔ بی ایس پی کے رہنماؤں نے مجھ سے کہا کہ ذرا بی ایس پی کے اندر کی کھینچ تان کچھ کم ہو جائے، یہ طوفان تھم جائے پھر ہم مل بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ اب اچانک معلوم چلا کہ مایاوتی نے اجیت جوگی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتحاد کا اعلان بھی لکھنؤ سے کیا گیا ہے۔

اس پورے تناظر میں سابق کانگریس رہنما اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ اجیت جوگی کے کردار کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

اجیت جوگی تو کانگریس میں رہتے ہوئے بھی بی جے پی کے لئے کام کرتے تھے۔ ان کے دور میں ہی کانگریس کو چھتیس گڑھ میں نقصان پہنچا۔ حالانکہ وہ واپس آنے کے لئے بھی ہاتھ پیر مار رہے تھے لیکن یہ ممکن نہیں ہو پایا۔ بی جے پی در اصل اجیت جوگی کو کانگریس میں بھیج کر ان کا استعمال کرنا چاہتی تھی ۔ یہ بی جے پی کا آزمایا ہوا نسخہ تھا لیکن اسے کامیابی نہیں مل سکی۔ اب مایاوتی اور اجیت جوگی کے اتحاد سے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والی دونوں جماعتیں ایک ساتھ آ گئی ہیں۔

بی ایس پی کتنی سیٹیں چاہ رہی تھی اور کانگریس کتنی سیٹیں دینے پر راضی تھی؟

بی ایس پی پہلے 20 سیٹوں کا مطالبہ کر رہی تھی پھر 12 سے 13 سیٹوں پر آ گئی۔ میں نے کہا کہ عملی بات کیجئے۔ گزشتہ انتخابات میں آپ (بی ایس پی) کا ایک رکن اسمبلی کامیاب رہا اور دو سیٹوں پر آپ دوسرے مقام پر رہے۔ مجموعی طور پر آپ کی ووٹ شراکت تقریباً 4 فیصد ہے، آپ کچھ اور سیٹیں لے لیجئے ۔ اس طرح ہم 5 سے 7 سیٹیں دینے پر راضی تھے لیکن انہوں نے کہا کہ کچھ سیٹیں اور بڑھائیں۔ ہم اس پر بھی غور خوض کر رہے تھے لیکن بی ایس پی کچھ ایسی سیٹوں کا مطالبہ کر رہی تھی جہاں ان کا ایک سے دو فیصد ووٹ شیئر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ اس سیٹوں پر اگر آپ لڑے تو ہار جائیں گے اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ ان کو سمجھ نہیں آیا اور بات چیت کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ رکاوٹ تو پہلے بھی آئی تھی اور اسے دور کر لیا جاتا تھا لیکن اس بار اچانک پتہ چلا کی مایاوتی نے اجیت جوگی سے ہاتھ ملا لیا ہے۔

کیا اس سے حزب اختلاف کی یکجہتی کو قومی سطح پر نقصان ہوگا؟

میرا خیال ہےکہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ یہ ایک صوبہ سے وابستہ معاملہ ہے۔ اسمبلی انتخابات پر اس کا اثر ضرور پڑے گا لیکن قومی سطح کی اپوزیشن یکجہتی کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ویسے بھی عام انتخابات میں ابھی وقت ہے اور اس کے حوالہ سے ابھی سے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہے۔

آنے والے اسمبلی انتخابات میں آپ کے ایشوز کیا ہوں گے؟

کسانوں کی بدحالی ایک مسئلہ ہے۔ نوجوان اور ان کی بے روز گاری بڑا مسئلہ ہے ۔ رمن سنگھ کی حکومت کی بد عنوانی بھی عوام کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ آدیواسیوں کی ہجرت کے مدے کو بھی ہماری پارٹی اپنی تشہیر میں جگہ دے گی۔ جب یو پی اے کی حکومت برسر اقتدار تھی اس وقت ہم نے حقوق جنگلات قانون (فاریسٹ رائٹ ایکٹ) کے تحت آدیواسیوں کو زمین کا حق دیا تھا۔ رمن سنگھ حکومت نے اس کو نہ صرف کو نافذ نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس آدیواسیوں سے ان کی زمینیں چھین لیں۔ ہماری حکومت میں اس قانون کو نافذ کیا جائے گا۔ ہم بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والے مایاوتی اور اجیت جوگی کے اتحاد کا چناؤ کے دوران پردہ فاش کریں گے۔

Published: 22 Sep 2018, 9:53 AM