کنہیا کمار کا انٹرویو: ’رام کے نام پر ناتھو رام کی سیاست، لوگ خوب سمجھنے لگے ہیں‘

دہلی پولس کی طرف سے دائر چارج شیٹ پر کنہیا کمار نے کہا کہ چناؤ آنے والا ہے اور حکومت جانے والی ہے، لہذا حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے نیشنل اور انٹی نیشنل کی بحث شروع کرائی جا رہی ہے۔

کنہیا کمار کی فائل تصویر
کنہیا کمار کی فائل تصویر
user

وشو دیپک

دہلی پولس کی طرف سے دائر چارج شیٹ پر کنہیا کمار نے کہا کہ چناؤ آنے والا ہے اور حکومت جانے والی ہے۔ گزشٹہ ساڑھے چار سال کے دوران مودی حکومت نے فرضی معاملے ہی اٹھائے ہیں تاکہ حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ اب تین سال بعد ایک مرتبہ پھر نیشنل اور انٹی نیشنل کا ایشو لے کر آ گئے ہیں۔

جے این یو (جواہر لال نہرو یونیورسٹی) کے احاطہ میں نعرے بازی کے معاملہ میں دہلی پولس نے پیر کے روز دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں 1200 صفحات پر مشتمل فرد جرم عائد کی ہے، جس میں جے این یو طلبا یونین کے سابق صدر کنہیا کمار، عمر خالد، انیربان بھٹاچاریہ، عاقب حسین، مجیب حسین، منیب حسین، عمر گل، رائے رسول، بشیر بٹ سمیت 10 افراد کو ملزمین بنایا گیا ہے۔ دہلی پولس کی جانب سے دائر کی گئی فرد جرم پر سماعت 19 جنوری تک کے لئے مؤخر ہو گئی ہے۔ اس معاملہ پر قومی آواز/نیشنل ہیرالڈ کے نمائندہ وشودیپک نے کنہیا کمار سے خصوصی گفتگو کی۔

جب آپ کو غدار ملک کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد ہونے کی خبر ملی تو آپ کا اولین رد عمل کیا تھا؟

پیر کے روز (14 جنوری) کو جب یہ خبر آئی تو میں لوگوں کے درمیان تھا۔ لوگوں نے کہا کہ بالکل نہیں گھبرانا، ’دہی چوڑا‘ کھانا ہے اور چوری کر رہے چوکیدار کو گدی سے ہٹانا ہے۔ اصل میں اس بات کی خبر ان کو بھی ہے۔ میں ایک بہت اہم بات آپ کو بتا رہا ہوں۔ حال یہ ہو گیا ہے کہ چوک، چوراہوں، گلی، محلوں، بس اور ٹرینوں میں آر ایس ایس-بی جے پی کے کارکنان منہ نہیں کھول پا رہے ہیں۔ مودی حکومت کی ناکامیوں نے انہیں گونگا بنا دیا تھا، تو چارج شیٹ فائل کرنے کے بہانے انہوں نے اپنے کارکنان کو بولنے کے لئے ایک ایشو تھما دیا ہے۔ اب یہ اپنے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ دیکھو، چارج شیٹ فائل ہو گئی ہے۔ اب اس کا ڈنکا پیٹو، جبکہ سچائی تو یہ ہے کہ چارج شیٹ فائل کرنے کا دباؤ ہم نے بنایا۔ میں بھی کہہ رہا ہوں کہ سماعت تیز رفتار سے ہونی چاہیے۔ اتنے خود اعتماد سے میں اس لئے بول رہا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیں دبا نہیں سکتے، ہرا نہیں سکتے۔

خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ چارج شیٹ بے حد سطحی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔ جیسے کہ آپ جے این یو طلبا یونین کے صدر تھے، اس ناطہ جے این یو کے احاطہ میں طلبا جو بھی کرتے ہیں، اس کی ذمہ داری آپ کی بھی تو بنتی ہے!

دراصل، اس حکومت کا طریقہ کار آپ سمجھتے ہی نہیں، ان کو تو حکومت چلانا تک نہیں آتی۔ ایسا دعوی کرنا ہی ان کی ناتجربہ کاری کی مثال ہے۔ جے این یو کوئی دیہات میں واقع یونیورسٹی نہیں ہے۔ یہ ملک کی راجدھانی دہلی میں موجود ہے۔ تمام طرح کی ایجنسیوں کی نگاہ اس یونیورسٹی پر رہتی ہے۔ اس کے علاوہ دہلی پولس 24 گھنٹے پہرہ دیتی ہے۔ اگر جے این یو طلبا یونین کا صدر ہونے کے ناطے جے این یو میں ہونے والے ہر واقعہ کے بارے میں مجھے معلوم ہونا چاہیے تو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ جے این یو میں کیا ہو رہا ہے۔

اچھا کیا، آپ نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی یاد دلائی۔ فروری 2016 میں جب واقعہ پیش آیا تھا اور پھر کئی دنوں تک مظاہرے ہوئے تھے، جس کا ذمہ دار انہوں نے پاکستانی دہشت گرد حافظ سعید کو قرار دیا تھا۔

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے دعوے کا کیا ہوا؟ اس وقت وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ جے این یو میں پاکستان کے حامی دہشت گرد رہتے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا، اس معلومات کا؟ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آیا دہلی پولس کی طرف سے دائر کی گئی چارج شیٹ میں کیا حافظ سعید کا نام ہے یا نہیں؟ کس بنیاد پر ملک کے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا بیان آیا تھا؟ اصل میں، یہ فیک نیوز، فیک پی ایم اور پھینکو پارٹی کا دور ہے۔

آپ کی والدہ کو جب فرد جرم دائر ہونے کی خبر ملی تو ان کا رد عمل کیا تھا؟

اب وہ سمجھنے لگی ہیں کہ یہ سیاسی سازش ہے۔ سن سن کر وہ مچیور ہو چکی ہیں۔ جب میں جیل میں تھا تو ضرور میری ماں پریشان تھیں لیکن اب تو میں ان کے ساتھ رہتا ہوں۔ انہوں نے خود ہی کہا ہے کہ اچھا ہوا فرد جرم داخل ہوگئی۔ عدالت میں سب حقیقت منظر عام پر آجائے گی کہ کون حب الوطن ہے اور کون غدار وطن۔

آپ نے کہا کہ دہلی پولس کا یہ قدم سیاست پر مبنی ہے۔ اس سے مودی حکومت کو کیا سیاسی فائدہ حاصل ہوگا؟

دیکھئے، دہلی پولس کی طرف سے عائد چارج شیٹ پر کنہیا کمار نے کہا کہ چناؤ آنے والا ہے اور حکومت جانے والی ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران مودی حکومت نے فرضی معاملے ہی اٹھائے ہیں تاکہ حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ اب تین سال بعد ایک مرتبہ پھر نیشنل اور انٹی نیشنل کا ایشو لے کر آ گئے ہیں۔

ظاہر ہے، حکومت بار بار اپنا موقف تبدیل کر رہی ہے کیونکہ وہ ڈری ہوئی ہے۔ حکومت کو بھی کہیں نہ کہیں یہ اندازہ ہے کہ عوام ان کا ساتھ چھوڑ چکی ہے۔ عوام کا جو غصہ ہے، دباؤ ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو بھی اپنے اپنے مفاد چھوڑ کر ایک ساتھ آنا پڑ رہا ہے۔ لگ رہا ہے کہ ہندی بیلٹ میں بی جے پی کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جنوب میں پہلے ہی ان کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے۔ تو اس مایوسی میں حکومت تمام ہتھکنڈے اپنا رہی ہے کہ کس طرح سے اپوزیشن پارٹیوں کو بدنام کیا جائے۔

اس طرح سے یہ لوگ دو ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایک تو جو ان کے خلاف آئیں ان کو بدنام کرنا اور دوسرا جو ان کی حمایت میں آئیں، ان کو کچھ بولنے کے لئے جھنجھنا پکڑا دینا۔ کل میں بی جے پی کے ترجمان کو سن رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ چارج شیٹ ایک بہانا ہے، 2019 نشانہ ہے۔ جیسے ہی چارج شیٹ فائل ہوئی، ایسے ہنگامہ کرنے لگے جیسے فیصلہ آ گیا ہو۔ کنہیا کمار کے نام پر، جے این یو کے نام کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں کانگریس کے صدر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں پر بھی حملہ بولا جا رہا ہے۔ اس سیاسی سازش کا انکشاف ان کے ہی کارناموں کی وجہ سے ہو رہی ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ غداری جیسے اہم قانون کا مودی حکومت نے مذاق بنا دیا ہے؟

آپ دیکھیے، چاہے وہ شہریت بل کا معاملہ ہو، چاہے ریزرویشن کا معاملہ ہو یا پھر پاٹیدار تحریک کا معاملہ ہو۔ جس نے بھی مخالفت کی اس پر مودی حکومت نے غداری کا چارج لگا دیا۔ پاٹیدار تحریک کے رہنما ہاردک پٹیل پر بھی غداری کا چارج لگایا گیا۔ شہریت بل کی مخالفت میں بولنے والے آسام کے سماجی کارکنان اکھل گوگوئی کے خلاف بھی اسی قانون کا استعمال کیا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس قانون کا مذاق بنا دیا گیا ہے۔

آپ جے این یو کو لے کر ہونے والی حب الوطنی اور غداری کی بحث اور واقعہ دونوں کے مرکز میں تھے، آپ اس پر کیا کہیں گے؟ حکومت اس کے تئیں کتنی سنجیدہ ہے؟

میرا صاف ماننا ہے کہ یہ حکومت اپنے آپ کو قوم پرست تو کہتی ہے لیکن ملک کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر حکومت غداری کے واقعہ کو کے کر سنجیدہ ہوتی تو چارج شیٹ 3 سال بعد نہیں پہلے ہی دائر ہو چکی ہوتی، مقدمہ چل چکا ہوتا۔ یہاں تک کہ اس معاملہ میں اگر کوئی مجرم قرار دیا جاتا تو اسے سزا بھی مل چکی ہوتی۔

یہ حکومت اس معاملہ میں قطعی سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان لوگوں نے پوری سازش خود تیار کی ہے۔ سازش کے تحت ایک مربہ پھر قوم پرستی اور غداری کی بحث اس لئے اٹھانا چاہتے ہیں کیوںکہ ان کے پاس اب بولنے کے لئے کچھ رہ ہی نہیں گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ملک کے خلاف نعرے بازی ایک سنگین معاملہ ہے۔ غداروں کے خلاف اب تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ میں اب بھی کہہ رہا ہوں کہ اسپیڈ سے ٹرائل چلایا جائے، پولس ثبوت اکٹھا کر کے جلد عدالت میں رکھے، سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

ہم اس چھوٹے معاملہ سے متاثر ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس معاملہ کو کس طرح پیدا کیا گیا تھا۔ ہمیں معلوم ہے کہ واقعہ فروری کا ہے لیکن کیسے آر ایس ایس کے ترجمان پانچ جانیہ اور آرگانائیزر میں جے این یو پر اسٹوری شائع ہو گئی، جس کا عنوان تھا ’جے این یو دراڑ کا گڑھ‘۔ یعنی آر ایس ایس کے ترجمان میں اسٹوری پہلے شائع ہوتی ہے اور اینٹی نیشنل نعرے بازی بعد میں ہوتی ہے۔ جب معاملہ عدالت میں جائے گا تو ان کا پردہ فاش ہو جائے گا۔

آپ طویل مدت سے عوام کے بیچ رہ کر کام کر رہے ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ مسئلہ چناؤ کے دوران اپنا اثر دکھائے گا؟

دیکھئے، کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی۔ یہ تمام پرانے مسائل کو اٹھا کر فائدہ اٹھا چکے ہیں چاہے رام مندر کا مسئلہ ہو یا پھر کوئی اور معاملہ۔ مسجد اس لئے نہیں گرائی گئی تھی کہ انہیں مندر بنانا تھا بلکہ مسجد اس لئے گرائی گئی کیونکہ حکومت سازی کرنی تھی۔ رام کے نام پر ناتھو رام کی سیاست لوگ سمجھنے لگے ہیں۔

کافی دنوں سے آر ایس ایس سیاسی بحث کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے تک یہ پردے کے پیچھے سے کام کرتی تھی لیکن کسی سیاسی بحث کا حصہ نہیں تھی لیکن اب اس کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ گاندھی کے قتل میں آر ایس ایس کا ہاتھ تھا، اس بارے میں لوگ بات کرنے لگے ہیں۔ ناتھورام گوڈسے، ساورکر جیسے لوگوں پر اب بحث ہونے لگی ہے۔ تحریک آزادی میں ان کا کوئی تعاون نہیں تھا، اس پر بات ہونے لگی ہے۔ کس طرح آر ایس ایس نے ترنگے کی مخالفت کی، کس طرح آئین کی مخالفت کی، یہ باتیں اب لوگ جاننے لگے ہیں۔

یہ جو چاہے کرلیں۔ جو ہمارے واجب سوال ہیں جیسے کہ 15 لاکھ کا کیا ہوا، کالا دھن کہاں گیا، روز گار کہاں ہے، موب لنچنگ کیوں ہو رہی ہے، اس ملک میں سماجی کارکنان کو کیوں مارا جا رہا ہے؟ ہم یہ سب پوچھنا بند نہیں کریں گے۔