انٹرویو: سرجیکل یا ایئر اسٹرائیک نہیں، عوام کا حقیقی مسئلہ روزی روٹی... سچن پائلٹ

’’وہ دن گئے جب مودی جی اپنے جھوٹے وعدوں سے لوگوں کو بیوقوف بنا لیتے تھے۔ عوام کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور پلوامہ یا اس کے بعد ہوئی ایئر اسٹرائیک کے بعد بھی لوگ اسے بھلا نہیں سکتے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پرکاش بھنڈاری

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی جموں و کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کا سبب رہا ہے۔ دونوں ممالک تین مرتبہ ایک دوسرے سے جنگ کر چکے ہیں۔ یہ انتخابی سال ہے اور جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملوں اور فضائیہ کی ایئر اسٹرائیک کو بی جے پی بھنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن بی جے پی شاید یہ بھول گئی ہے کہ 1999 میں کارگل جنگ کے بعد واجپئی حکومت کو اقتدار سے باہر ہونا پڑا تھا۔ اسی پس منظر میں ’قومی آواز‘ نے راجستھان کانگریس کے صدر اور ریاست کے نائب صدر سچن پائلٹ سے گفتگو کی، پیش ہیں اہم اقتباسات:

سوال: پلوامہ حملہ کے بعد ملک نے زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور مکمل حزب اختلاف نے اس حملہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو حمایت دینے کا اعلان کیا۔ آپ کو لگتا ہے کہ یہ یکجہتی طویل مدت تک قائم رہے گی!

سچن پائلٹ: صرف حزب اختلاف ہی نہیں، پورا ملک حکومت کے ساتھ تھا۔ ہمارے جمہوری ملک ہندوستان میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب حزب اختلاف نے یکجہتی کی مثالیں قائم کی ہیں۔ ہندوستان اس کے لوگوں، اس کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کی سالمیت کے لئے جانا جاتا ہے۔ جب جب ضرورت پڑی ہے، ہم سب نے بغیر اس بات کے پروا کیے کہ مرکز میں کون سی پارٹی اقتدار میں ہے، حکومت کا ساتھ دیا ہے۔

سوال: بی جے پی اب پلوامہ حملہ، اس کے بعد ہوئی ایئر اسٹرائیک اور ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی کو انتخابی ایشو بنا رہی ہے!

سچن پائلٹ: پلوامہ حملہ میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کی شہادت پر ملک بھر میں ماتم تھا۔ ایک سیاسی جماعت ہونے کے ناطے کانگریس نے بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستان پر حملہ کر ہماری افواج، بالخصوص فضائیہ نے بہادری کی مثال قائم کی ہے، لیکن اس سب کا سیاسی استعمال کرنے سے بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔ سیاسی جملہ بازی سے ملک کے لوگ اب گمراہ نہیں ہوتے۔

سوال: لیکن اب جبکہ لوک سبھا انتخابات میں محض کچھ ہفتے ہی باقی ہیں، بی جے پی تو اس کا استعمال کرے گی اور اس سے اسے فائدہ ہو سکتا ہے...

سچن پائلٹ: ملک کے باشندگان یہ جانتے ہیں کہ اصل ہیرو کون ہے۔ نریندر مودی نے جو وعدے کیے تھے اور جو ایشوز اٹھائے تھے انہیں لوگ بھولے نہیں ہیں۔ وہ دن گئے جب وہ جھوٹے وعدوں اور لفاظی سے لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے تھے۔ آج بھی لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ ہی سب سے اہم ہے۔ پلوامہ اور اس کے بعد ہوئی ایئر اسٹرائیک کے بعد بھی لوگ اسے بھلا نہیں سکتے۔

لوگوں کو سمجھ ہے کہ پاکستان جنگ نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کے تلخ نتائج اسے معلوم ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے گھر واپسی اور موب لنچنگ جیسے واقعات عام ہو چکے ہیں۔ آج کے دور میں لوگ روزگار، مضبوط معیشت، سماجی سیکورٹی اور کسانوں کے مفاد جیسے وعدوں کو بھول نہیں سکتے۔ انہیں ایشوز پر گلی محلوں میں بحث ہو رہی ہے۔

سوال: تو آپ کی نظر میں اس لوک سبھا انتخابات میں سب سے بڑا ایشو کیا ہوگا؟

سچن پائلٹ: 2019 کا چناؤ کھیتوں، گلیوں اور محلوں میں ہوگا۔ جنہوں نے 5 سال تک جھوٹے وعدوں پر حکمرانی کی، ان سے سوال پوچھے جائیں گے۔ وعدے پورے نہ کرنے کی وجہ پوچھی جائے گی، لوگ سرجیکل اسٹرائیک پر بات نہیں کریں گے۔ لوگ اب بی جے پی کو جذبات سے کھیلنے نہیں دیں گے۔

سوال: لیکن مودی جی کے پاس تو ہر بات کا جواب ہوتا ہے۔ وہ کسان قرض معافی کی بات کریں گے، غریبوں کے لئے 10 فیصد ریزرویشن کی بات کریں گے، آیوشمان بھارت کی بات کریں گے!

سچن پائلٹ: پھسلانے والے منصوبوں کے جھانسے میں آنے کے دن اب لد چکے ہیں۔ لوگ نوکریوں، نوٹ بندی، کالے دھن، تیل کے داموں اور سرحد اور کشمیر سے وابستہ سوالات پوچھیں گے اس بار!

سوال: لیکن بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک تو عین موقع پر ہوئی ہے...

سچن پائلٹ: ہاں ٹھیک ہے، لیکن متوسط طبقہ کی رائے ہی اہم ہوتی ہے۔ متوسط طبقہ بڑے شہروں میں بھی ہے، گاؤں میں بھی۔ اس مرتبہ متوسط طبقہ ہی سب سے زیادہ ناراض ہے کیوں کہ اسی طبقہ نے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔ لیکن اب اس طبقہ کو احساس ہو چکا ہے کہ تمام وعدے کھوکھلے تھے۔

نہ تو میک ان انڈیا ہوا، نہ کالا دھن واپس آیا، نہ تیل کے دام کم ہوئے اور نہ روزگار کے مواقع فراہم ہوئے۔ مودی کا دوبارہ پی ایم بننے کا خواب اس مرتبہ چکناچور ہونے جا رہا ہے۔

سوال: کانگریس حکمرانی والی راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی نئی حکومتیں کیسا کام کر رہی ہیں؟

سچن پائلٹ: گزشتہ سال دسمبر میں ان ریاستوں کے انتخابات میں تشہیر کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، تینوں ریاستوں نے یہ وعدہ پورا کر دیا ہے۔ ہم نے بے روزگاروں کو بھتہ دینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ سماجی سیکورٹی کے نئی منصوبے لاگو کیے جا رہے ہیں۔ جنرل کیٹیگری کے غریبوں کو 10 فیصد ریزرویشن کا اصول بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔

راجستھان میں 2014 کے عام انتخابات میں کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا، اب کانگریس یہاں اقتدار میں ہے۔ تو 2014 کی ہار کا انتقام کس طرح لیا جائے گا!

راجستھان میں چارج سنبھالنے کے بعد سے ہی اشوک گہلوت حکومت ایکشن میں ہے۔ اب تک ہم نے 17 لاکھ کسانوں کا قرض معاف کیا ہے۔ ہم ایسے سماجی بہبود کے منصوبے دوبارہ شروع کرنے جا رہے ہیں جو گزشتہ کانگریس حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے، لیکن وسندھرا حکومت نے انہیں بند کر دیا تھا۔

ان سب کا لوگ خیر مقدم کر رہے ہیں، ہمارے کام کاج کے طریقہ میں غرور نہیں ہوتا۔ یہ کام کرنے والی حکومت ہے، ایسے میں یقینی طور پر مینڈیٹ ہمارے حق میں ہوگا۔