انٹرویو: ’کسی کے پاس اسمارٹ فون ہی نہیں ہو تو وہ جدید ٹیکنالوجی سے کس طرح آشنا ہوگا؟‘
’مہارانی جانکی کنور کالج‘ سے منسلک ڈاکٹر سمیع حسن نہ صرف شعبۂ اردو کے طلبا میں اردو کی شمع روشن کر رہے ہیں، بلکہ انھیں جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر سمیع حسن کی پیدائش 3 نومبر 1967 کو بہار کے گوپال گنج واقع بگہاں میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد سلیم اور والدہ کا نام حسینہ بیگم ہے، جنھوں نے بہتر پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی عصری تعلیم کا بھی خاص خیال رکھا۔ ڈاکٹر سمیع نے میٹرک کا امتحان گوپال گنج کے ہی ’مولانا مظہر الحق اردو ہائی اسکول‘ سے پاس کیا اور پھر انٹرمیڈیٹ بھی گوپال گنج واقع ’اردو کالج‘ سے ہی مکمل کیا۔ بعد ازاں بی اے کی سند ’گوپال گنج کالج‘ سے اور ایم اے کی سند ’بہار یونیورسٹی، مظفر پور‘ سے حاصل کی۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری انھیں ’جے پور یونیورسٹی، چھپرہ‘ سے تفویض ہوئی۔
کتابوں کے مطالعہ کا شوق رکھنے والے ڈاکٹر سمیع حسن کے لیے 14 اکتوبر 2024 ایک بڑی خوشخبری لے کر آیا جب ان کی تقرری ’مہارانی جانکی کنور کالج‘ کے شعبۂ اردو میں بطور استاذ ہوئی۔ اس سے قبل وہ مختلف تعلیمی اداروں میں کئی سالوں تک تدریسی ذمہ داری نبھاتے رہے، لیکن مہارانی جانکی کنور کالج میں تقرری ان کی زندگی کا ایک نیا باب ہے۔ اب وہ نہ صرف شعبۂ اردو کے طلبا میں اردو کی شمع روشن کر رہے ہیں، بلکہ انھیں جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں۔
’مہارانی جانکی کالج‘ اور اس کے شعبۂ اردو کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالیں۔
’مہارانی جانکی کنور کالج‘ (ایم جے کے کالج) کا قیام 1955 میں ہوا، لیکن اُس وقت ’بتیا یونیورسٹی‘ نام رکھا گیا تھا۔ بعد میں اس تعلیمی ادارہ کا نام ’بتیا راج‘ کی مہارانی جانکی کنور کے نام پر کر دیا گیا۔ آج یہ کالج مظفرپور واقع ’بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی‘ سے منسلک ہے۔ مغربی چمپارن کے بتیا میں موجود یہ تعلیمی ادارہ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ ایم جے کے کالج کا شمار نہ صرف شمالی بہار کے قدیم کالجز میں ہوتا ہے، بلکہ وسیع احاطہ رکھنے والے اس تعلیمی ادارہ کی عمارت کچھ اس انداز میں بنائی گئی ہے جس سے معیاری درس و تدریس کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ یہاں بڑے اور ہوادار کلاس روم ہیں، ایک بڑی لائبریری ہے جس میں نئی و پرانی کتابوں اور رسالوں کا بڑا ذخیرہ ہے، اور ایک سمینار ہال بھی ہے جہاں اکثر تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے۔ کالج میں کھیل کا میدان اور ورکشاپ بھی موجود ہے جو طلبا و طالبات کی بہتر نشو و نما کے لیے بہت اہم ہے۔
ایم جے کے کالج میں دیگر شعبوں کی طرح اردو کا بھی ایک الگ شعبہ ہے، اور مجموعی طور پر یہاں تقریباً 50 اساتذہ ہیں۔ اردو شعبہ میں فی الوقت 2 اساتذہ ہیں، جن میں ایک خاکسار (ڈاکٹر سمیع حسن) ہے اور دوسرے شفیع احمد صاحب ہیں۔ ماضی میں اس کالج کے شعبۂ اردو سے پروفیسر شبیر حسن، پروفیسر راحت حسین، پروفیسر امتیاز احمد، ڈاکٹر شمس الحق جیسی شخصیات منسلک رہی ہیں۔ اس کالج کو ’این اے اے سی‘ سے ’گریڈ بی‘ کا درجہ حاصل ہے۔

ہندوستان کے کئی کالجز اور یونیورسٹیز میں طلبا کی حاضری سے متعلق شعبۂ اردو کی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ آپ کے کالج میں دیگر شعبوں کے مقابلے شعبۂ اردو کی صورت حال کیا ہے؟
ایم جے کے کالج کے شعبۂ اردو میں ہر سال 100 سے زائد داخلے ہوتے ہیں، لیکن ان کی حاضری یقیناً فکر انگیز ہے۔ اکثر کلاسز میں 35 سے 40 فیصد طلبا و طالبات کی حاضری ہی اطمینان بخش دیکھنے کو ملتی ہے۔ ویسے یہ صرف شعبۂ اردو کا ہی معاملہ نہیں ہے، بلکہ دیگر شعبوں کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ ہم اساتذہ کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ طلبا کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں کلاسز کرنے کی ترغیب دیں، اور اس کے لیے کلاس روم کا ماحول خوشگوار و دلچسپ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا سماجی سطح پر اردو کے موجودہ حالات سے آپ مطمئن ہیں؟ شعبۂ اردو کے طلبا و طالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ اردو کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟
آج سماجی سطح پر اردو کی حالت کو قدرے بہتر کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اردو پڑھنے والوں کی تعداد گزشتہ کچھ سالوں سے بڑھتی ہوئی دیکھنے کو ملی ہے۔ بہار سرکار بھی اردو اساتذہ، اردو ترجمہ نگار، کلرک وغیرہ کی بحالی کر رہی ہے، جس سے نوجوان طبقہ اردو کی طرف متوجہ ہوا ہے۔ اگر اسی طرح اردو کو معاش سے جوڑ کر رکھا گیا تو یقیناً اردو کا مستقبل آنے والے دنوں میں درخشاں نظر آ رہا ہے۔ کلاسز میں طلبا و طالبات بھی گزشتہ کچھ سالوں سے اردو کی تعلیم سنجیدگی کے ساتھ حاصل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
موجودہ دور ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) والا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اردو داں طبقہ اس معاملہ میں ابھی بہت پیچھے ہے؟
نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ آج کل اردو کے طلبا و طالبات بھی نئی ٹیکنالوجی سے آشنا ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ طلبا اس میں کم دلچسپی لیتے ہیں اور کچھ زیادہ، لیکن یہ تو سبھی شعبوں کے طلبا کے ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ موجودہ دور میں اردو کے طلبا آن لائن کلاسز، یوٹیوب لیکچرز، آن لائن اسٹڈی میٹریل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرنا خوب جانتے ہیں۔ میں بھی اپنے شاگردوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ریسرچ پروجیکٹ لکھوانے کے علاوہ موبائل میں اردو ٹائپ کرنے کا ہنر بھی سکھاتا ہوں۔ یہ ضرور ہے کہ معاشی طور پر کمزور بچوں کے پاس اسمارٹ فون موجود نہیں ہوتا، جس سے انھیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی کے پاس اسمارٹ فون ہی نہیں ہوگا تو وہ جدید ٹیکنالوجی سے آشنائی کس طرح حاصل کر سکتا ہے؟
موجودہ وقت میں اردو کے اہم مسائل کیا ہیں، اور آپ کے خیال میں ان مسائل کو دور کرنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟
بہار کی سطح پر دیکھیں تو اردو کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ زبان ذریعۂ معاش سے جڑا ہوا نظر نہیں آتا تھا، لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ بہار سرکار نے اردو داں طبقہ کے لیے ملازمت کے کئی راستے ہموار کیے ہیں، جس سے لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی بھی بڑی تعداد اردو سے جڑتی دیکھی جا رہی ہے۔ والدین بھی اب اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دلانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
اردو کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ضرور ہے کہ لکھنے میں اس کا استعمال بہت کم ہوتا ہے۔ اردو کے اساتذہ اور طلبا اکثر موبائل میں کچھ لکھتے ہیں تو انگریزی رسم الخط کا استعمال کرتے ہیں۔ اس حالت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم کسی اردو داں شخص کو میسج بھیج رہے ہیں، تو اردو رسم الخط میں ہی بھیجیں۔ اس طرح بول چال کی زبان کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کی زبان بھی اگر ہم اردو بنا لیں، خصوصاً اردو رسم الخط کا استعمال کرنے لگیں تو اردو زبان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس زبان میں جو شیرینی ہے، یقیناً وہ اپنا جادو چلائے گی، بشرطیکہ ہم اس کے استعمال میں جھجک محسوس نہ کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
