انٹرویو... موہن بھاگوت اور میں ملک میں امن و امان برقرار رکھنا چاہتے ہیں: مولانا ارشد مدنی

بابری مسجد پر فیصلہ آنے کے بعد اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر قابو پائے۔ شر پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کا کام ہے اور اسے اپنا فرض نبھانا چاہیے

تصویر قومی آواز/ وپین
تصویر قومی آواز/ وپین
user

تنویر احمد

بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد ہی آنے والا ہے، آپ اس کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟

ہر انصاف پسند یہ چاہتا ہے کہ ثبوت، شواہد اور قانون کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ ہو نہ کہ عقیدے کی بنیاد پر، جیسا کہ سپریم کورٹ خود کہہ چکا ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی یہ ظاہر کر دیا ہے کہ یہ مقدمہ صرف اور صرف حق ملکیت کا ہے، اس لیے ہم پرامید ہیں کہ راجیو دھون کے ذریعہ پیش کردہ ثبوت اور دلائل بابری مسجد مقدمہ کے لیے بہت اہم ثابت ہوں گے۔ ہمارا یہ سوچنا پوری طرح حقائق و شواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنایا گیا۔ تقریباً 400 سال سے وہاں بابری مسجد تھی اور مسجد وقف علی اللہ ہوتی ہے۔ واقف کو بھی وقف کے بعد یہ اختیار نہیں رہ جاتا کہ وہ مسجد کی زمین واپس لے۔ حتیٰ کہ وقف بورڈ کا صدر یا چیئرمین صرف اس کا منتظم اور نگراں ہوتا ہے، مالک نہیں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ بابری مسجد پر فیصلہ آنے سے قبل ملک کی فضا پرامن رکھنے کے لیے آپ اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت مشترکہ پریس کانفرنس کریں؟

ملک میں فرقہ وارانہ خیر سگالی قائم رکھنے کے مقصد سے میری بات چیت ہمیشہ موہن بھاگوت سے ہوتی رہتی ہے اور آج (6 نومبر) بھی ملاقات ہونے والی ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے بارے میں ابھی تک کوئی بات تو نہیں ہوئی ہے لیکن ان سے بات چیت کے بعد ہی کچھ فیصلہ لیا جائے گا کہ ہم دونوں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ ویسے موہن بھاگوت نے بھی یہ اپیل کی ہے کہ بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سبھی قبول کریں اور فضا کو زہر آلود کرنے سے بچیں۔ میں اور موہن بھاگوت ملک میں امن و امان برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے لگاتار عوام سے اس کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔ میں سبھی مسلم و ہندو تنظیموں سے ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ وہ خیر سگالی کو فروغ دیں اور ہندو-مسلم یکجہتی کا نمونہ پیش کریں۔ ملک کے مرد و خواتین، جوان و بوڑھے سبھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کریں۔

عدالت عظمیٰ نے اگر فیصلہ بابری مسجد کے حق میں سنایا اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے شر پسند عناصر فساد پر آمادہ ہو گئے، تو اس کے لیے آپ نے پہلے سے کوئی منصوبہ تیار کیا ہے؟

ہماری پوری کوشش ہے کہ امن و امان کا ماحول برقرار رہے اور یہ کوشش کئی مسلم تنظیموں کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس جیسی ہندو تنظیم بھی کر رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ سرزد ہوتا ہے تو مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کنٹرول کرے۔ شر پسندوں پر قابو کرنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کا کام ہے اور اسے اپنا فرض نبھانا چاہیے۔ تنظیمی سطح پر ہم نے فی الحال بابری مسجد پر فیصلہ کے بعد پیدا ہونے والے صورت حال کے تعلق سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ میری سبھی سے گزارش ہے کہ وہ صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑیں اور کسی بھی افواہ کو پھیلانے سے بچیں۔ ساتھ ہی ہندو اور مسلم طبقہ دونوں سے یہ بھی اپیل ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں قطعی نہ لیں کیوں کہ اس سے نقصان اکثریتی طبقہ کو بھی ہوگا اور اقلیتی طبقہ کو بھی۔

ملک میں امن برقرار رکھنے کے لیے جس طرح آپ موہن بھاگوت سے لگاتار بات چیت کر رہے ہیں، کیا آپ کی سیاسی پارٹیوں یا اس کے لیڈران سے بھی کوئی میٹنگ ہوئی ہے؟

میں کوئی سیاسی آدمی نہیں ہوں اس لیے میری کسی سیاسی لیڈر سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اسی مہینے اپنے 100 سال مکمل کرنے والی ہے اور ہمیشہ سے ہماری کوشش ملک میں امن و آشتی کا ماحول بنانے کی رہی ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی ہم مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی بھی لڑتے رہے ہیں اور ہندو-مسلم اتحاد کے لیے اقدام بھی کرتے رہے ہیں۔ اس وقت بھی ہماری کوشش مذہبی و سماجی تنظیموں سے مل کر ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ہے، سیاسی پارٹیوں سے ہم اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کر رہے۔

Published: 6 Nov 2019, 7:11 PM
next