انٹرویو: ملک کے اصل مسائل سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لئے گاندھی جی کی تضحیک کی جا رہی ہے، تشار گاندھی

صحافی محی الدین التمش کی گاندھی جی کے پڑپوتے، مہا تما گاندھی فاؤنڈیشن کے منیجنگ ٹرسٹی اور مصنف تشار گاندھی سے خصوصی گفتگو

تشار گاندھی / تصویر محی الدین التمش
تشار گاندھی / تصویر محی الدین التمش
user

محی الدین التمش

بابائے قوم مہاتما گاندھی کے خلاف دھرم سنسد میں توہین آمیز تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ فرقہ پرستوں کی جانب سے عظیم مجاہدِ آزادی گاندھی جی کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔ اس عمل سے ایک عام ہندوستانی دلبرداشتہ ہوتا ہے، لیکن حکومت ایسے افراد کے خلاف سخت قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ آج 30 جنوری کو مہاتما گاندھی کے 77 ویں یوم شہادت کے موقع پر انہیں ملک کے مختلف حصوں میں یاد کیا جا رہا ہے اور پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس مناسبت سے صحافی محی الدین التمش نے گاندھی جی کے پڑپوتے، مہاتما گاندھی فاؤنڈیشن کے منیجنگ ٹرسٹی اور مصنف تشار گاندھی سے خصوصی گفتگو کی۔

بابائے قوم مہاتما گاندھی کی شخصیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

تشار گاندھی: مہاتما گاندھی کے خلاف توہین آمیز تبصرے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن آج کل اس قسم کے تبصرے زیادہ ہی ہو رہے ہیں۔ گاندھی جی کے قتل کے بعد ہی سے ان کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ جس طاقت نے ان کا قتل کروایا تھا وہی طاقت گاندھی جی کی تضحیک کے پس پشت بھی کارفرما ہے۔ یہ ایک دو لوگوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص ذہنیت اس کے پیچھے ہے۔ کالی چرن اور ترون مراری جیسے لوگ جنہوں نے گاندھی جی کی شان میں گستاخانہ کلمات ادا کئے ہیں وہ تو محض الہ کار ہیں۔ اصل طاقت تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے گاندھی جی کا قتل کروایا تھا۔

گاندھی جی کی تضحیک اور ان کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے سے کس کو فائدہ ہوگا؟

تشار گاندھی: دیش میں ایک مخصوص طاقت ہے۔ جسے زعفرانی طاقت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جس کی آنکھ میں باپو گاندھی ہمیشہ سے کھٹکتے رہے ہیں، زندہ تھے تب بھی اور قتل کیے جانے کے بعد بھی۔ باپو کی توہین کرنا ان کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنا ان طاقتوں کی بقاء کے لئے ضروری ہے۔ باپو کے جو وچار ہیں، یہی اصل میں سیکولر ہندوستان کے تصور کو مکمل کرتے ہیں۔ ملک میں باپو کے تصورات ہی آئیڈیا آف انڈیا کی تکمیل کرتے ہیں۔ لیکن زعفرانی طاقتیں آئیڈیا آف انڈیا کے خلاف ہیں وہ اسے قبول نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ باپو کی تضحیک کے ذریعے باپو کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے بلکہ آئیڈیا آف انڈیا کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسی قسم کی طاقتیں سیکولر ہندوستان اور باپو کے نظریات کے خلاف ہیں، یہی لوگ باپو کو بدنام کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی منشاء رکھتے ہیں۔


کیا باپو کی تضحیک کے ذریعے مسلمانوں کو بھی خوف زدہ کرنے کی کوشیش ہو رہی ہیں؟

تشار گاندھی: باپو کی شان میں تضحیک کرنا یہ جاہل لوگوں کا کام نہیں ہے بلکہ یہ کام خاص لوگوں کو سونپا گیا ہے۔ ان لوگوں کا مقصد سیکولرازم کو نقصان پہچانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو خوف و دھشت میں مبتلا کرنا بھی ہے۔ گاندھی جی کے نام کو بدنام کرکے مسلمانوں کو خوف میں مبتلا کیا جا رہا ہے ایک تیر سے کئی نشانے لگائے جا رہے ہیں۔ کیونکہ جب سیکولر ہندوستان کی تصویر مسخ کرنے کی کوشیش کی جائیں گی تو اقلیتیں اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور ضرور کریں گی۔

گاندھی کی تضیحک کے معاملے میں سیکولر جماعتیں خاموش کیوں رہتی ہیں؟

تشار گاندھی: ملک میں صحیح معنی میں سیکولر جماعت کوئی نہیں ہیں۔ سب اپنے اپنے مفاد کی حد تک سیکولر ہیں۔ کانگریس کی کمزوری نے اس طرح کے حالات پیدا کئے ہیں۔ کانگریس جب سے اپنے مقاصد سے ہٹی ہے وہ زوال کا شکار ہوگئی ہے۔ کانگریس کے لیڈران مودی کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں لیکن زمین پر اترکر مودی کے خلاف لڑائی نہیں لڑی جا رہی ہے۔ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتیں جو خود کو سیکولر کہتی ہیں ان کو زمین پر اتر کر سیکولرازم کی بقاء کے لئے جنگ لڑنا چاہئے۔


کیا آپ کو لگتا ہے کہ گاندھی جی کی تضحیک ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے؟

تشار گاندھی: باپو نے اپنی زندگی جی لی اور ملک کے لئے سپنے بھی دیکھ لئے۔ اب ہمارے سامنے بڑے مسائل ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے گاندھی کو گالیاں دینا نہایت ہی آسان کام ہے، تاکہ ملک کے عوام کا دھیان اصل مسائل کی طرف سے ہٹایا جائے۔ گاندھی جی کو بدنام کرکے اور ان کے خلاف تضحیک آمیز بیان بازی کے ذریعے ملک کا دھیان اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشیش کی جا رہی ہے۔ جبکہ آج ہمیں کئی مسائل درپیش ہیں۔ بے روزگاری، غربت، معاشی مسائل، فرقہ پرستی  اور نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہے۔ انجینئرنگ کے طالب علم بلی بائی ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کی بولیاں لگا رہے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ نئی نسل ذہنی سطح پر کہاں کھڑی ہے اور کیا ہمارے بچوں کی پرورش صحیح نہج پر ہو رہی ہے یا نہیں، یہ سوالات ہمارے اور ہمارے مستقبل کے لئے کافی اہم ہیں۔ 

گاندھی تو مرگئے ہیں ان کو دوبارہ مارنے کا کیا مطلب ہے۔ لاش کو گالی دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن گاندھی جی کو گالی دے کر اور انہیں ذلیل کرنے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ملک کے اصل مسائل حل کئے جائیں۔ گاندھی جی کو برابھلا کہہ کر اصل مسائل سے چشم پوشی خطرناک امر ہے جس کا خمیازہ ہمیں مستقبل میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

گاندھی ہمارے راشٹریہ پیتا ہیں ان کے خلاف ہونے والی بیان بازی پر قدعن لگانے کے لئے حکومت کتنی سنجیدہ ہے؟

تشار گاندھی: جو افراد گاندھی کے وچار اور ان کی شخصیت کو مجروح کر رہے ہیں وہی حاکمین مرکز میں برسرِ اقتدار ہیں۔ گاندھی جی کے خلاف ہونے والے بیان پر وزیراعظم نریندر مودی لوک سبھا میں کہے دیں گے کہ انہیں بہت دکھ ہوا۔ لیکن اسی ایوان میں بیٹھے ہوئے بی جے پی کے دو اراکین پارلیمان جو گاندھی جی کو برابھلا کہنے میں ذرا بھی آر محسوس نہیں کرتے اور گوڈسے کی تعریف کرتے رہتے ہیں ان کے متعلق مودی خاموش رہیں یہ عمل کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ اصل میں جو لوگ مرکزی حکومت میں ہیں انہیں لوگوں کی آئیڈیالوجی نے باپو کا قتل کروایا تھا اور یہی لوگ باپو کے خلاف ہیں۔ ہمیں ان سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ لوگ باپو پر تہمت لگانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔