انٹرویو: بھبھوا کے ایک کالج میں تنہا تدریسی و غیر تدریسی ذمہ داری نبھا رہے ڈاکٹر اشہد کریم الفت
ڈاکٹر اشہد کریم کی تقرری ’سردار ولبھ بھائی پٹیل کالج‘ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر 25 جنوری 2020 کو ہوئی۔ تب سے وہ پوری تندہی کے ساتھ اردو طلبا و طالبات میں زبان و ادب کی شمع روشن کر رہے ہیں۔

اشہد کریم الفت اردو شعر و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید اشہد کریم ہے اور 23 اکتوبر 1970 کو بہار کے احمد پور واقع رفیع گنج میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر اشہد کریم کے والد کا نام سید امجد کریم اور والدہ کا نام شہناز خاتون ہے۔ انھیں بچپن سے ہی اردو کے تئیں دلچسپی رہی، جس کا ثبوت ان کی شائع کردہ کتابیں ہیں۔ اب تک ان کے 3 شعری مجموعے ’خاموشی لب کھول رہی ہے‘ (2010)، ’ہوا تیز ہے‘ (2016) اور ’پانی کے چراغ‘ (2025‘ منظر عام پر آ چکے ہیں۔ غیر شعری تصانیف میں ’جدید غزل: ایک تجزیاتی مطالعہ‘ (بہار و جھارکھنڈ کے حوالے سے) 2007 میں شائع ہوا، جبکہ ’اردو مثنویوں کا مکالماتی نظام (تحقیق) 2011 میں اور ’تنقید کی لکیر پر فکشن کی عبارت‘ (تنقید و تحقیق) 2017 میں منظر عام پر آیا۔

سردار ولبھ بھائی پٹیل کالج کی جانب سے منعقد ایک تقریب میں مہمانان کے ساتھ ڈاکٹر اشہد کریم (بائیں سے دوسرے)
ڈاکٹر اشہد کریم کو اردو ادب سے تو محبت ہے ہی، کرکٹ اور فٹبال سے بھی انھیں بے حد لگاؤ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی کاوشیں اسپورٹس کے لیے کم اور اردو ادب کے لیے زیادہ دیکھنے کو ملی ہیں۔ اردو کی خدمت کے نتیجے میں ہی انھیں ’خاموشی لب کھول رہی ہے‘ شعری مجموعہ کے لیے ’بہار اردو اکیڈمی‘ کی طرف سے اور ’ہوا تیز ہے‘ شعری مجموعہ کے لیے ’اتر پردیش اردو اکیڈمی‘ کی طرف سے اعزاز بخشا گیا۔ عوامی سطح پر بھی انھیں کئی ایوارڈس ملے ہیں، بالخصوص فیض آباد میں عارضی ملازمت کے وقت کئی تقاریب میں اعزاز سے نوازا گیا۔ نثری کاوشوں کے لیے بھی انھیں ’علامہ اقبال فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے ’علامہ اقبال ایوارڈ‘ حاصل ہوا۔ علاوہ ازیں ’نارائن داس کھتری میموریل ٹرسٹ‘ کی جانب سے ’فیض آباد کتاب میلہ 2018‘ کا یادگاری نشان بھی حاصل ہوا۔
جہاں تک ڈاکٹر اشہد کریم کے تعلیمی سفر کا سوال ہے، میٹرک کا امتحان ’کرما ہائی اسکول‘ (رفیع گنج) سے پاس کیا، اور پھر ’مرزا غالب کالج‘ (گیا) سے انٹرمیڈیٹ و گریجویشن مکمل کیا۔ پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری انھوں نے اردو زبان میں ’مگدھ یونیورسٹی‘ (بودھ گیا) سے حاصل کی، اور پھر اسی یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی سند بھی حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالہ کا عنوان ’اردو مثنویوں کا مکالماتی نظام‘ تھا، جسے پروفیسر علیم اللہ حالی کی نگرانی میں بحسن و خوبی انجام دیا گیا۔ ’سردار ولبھ بھائی پٹیل کالج‘ (بھبھوا، کیمور) میں ان کی تقرری بطور اسسٹنٹ پروفیسر 25 جنوری 2020 کو ہوئی۔ تب سے وہ پوری تندہی کے ساتھ اردو طلبا و طالبات میں زبان و ادب کی شمع روشن کر رہے ہیں۔

ایک کتاب کا اجراء کرتے ہوئے ڈاکٹر اشہد کریم (بائیں) اور دیگر معزز شخصیات
’سردار ولبھ بھائی پٹیل کالج‘ کی مختصر تاریخ بتائیں۔ کیا ماضی میں اس کالج سے کوئی بڑی شخصیت منسلک رہی ہے؟
’سردار ولبھ بھائی پٹیل کالج‘ بھبھوا کا ایک مشہور تعلیمی ادارہ ہے، جس کی بنیاد 1957 میں پڑی۔ مشہور تعلیمی رہنما، ہندوستانی دستور ساز مجلس کے رکن بابو گپت ناتھ سنگھ کے ذریعہ اس ادارے کا نام ہندوستان کی تاریخ ساز شخصیت مرد آہن سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نام پر رکھا گیا۔ ابتدائی دور میں کچھ عرصہ کے لیے یہ کالج ’بہار یونیورسٹی‘ (مظفر پور) کا حصہ رہا، لیکن یکم اپریل 1975 کو مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا، اور پھر 1992ء میں جب ویر کنور سنگھ یونیورسٹی (آرہ) کی بنیاد پڑی، تو اس یونیورسٹی کا حصہ بن گیا۔
اس کالج میں تعلیم کا شاندار ماحول ہے۔ صاف ستھرا کیمپس، ہرے بھرے مناظر اور فضا پُرسکون ہے۔ آرٹس، سوشل سائنس اور سائنس کے گریجویٹ اور کچھ پوسٹ گریجویٹ کورسز کےعلاوہ بی سی اے، بایوٹیک کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں اگنو اور نالندہ اوپن یونیورسٹی کے کئی اہم کورسز بھی چل رہے ہیں۔
اس کالج کے ’شعبۂ اردو‘ کا ماضی کیسا رہا ہے اور موجودہ صورت حال کیا ہے؟
سردار ولبھ بھائی پٹیل کالج میں شعبۂ اردو 1957 عیسوی میں کالج کے آغاز کے ساتھ ہی قائم ہوا۔ یہاں شعبہ اردو کے اغاز کا مقصد تہذیب و ثقافت اور ادبی وراثت میں اردو زبان کا فروغ تھا۔ اس شعبہ نے زبان، شاعری اور تاریخ کے بارے میں پُرجوش طلبا کو مسلسل اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور لسانی فضیلت کے مرکز کے طور پر ترقی کے منازل بھی طے کرتا رہا ہے۔ پہلی بار جناب امان اللہ دھاگی نے شعبہ اردو کے صدر کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کے بعد جناب محمد الیاس خان، جناب فصیح الزماں، ڈاکٹر محمد شمیم احمد، ڈاکٹر محمد ایس ایس شہاب الدین نے صدر شعبۂ اردو کی ذمہ داری سنبھالی۔ فی الوقت خاکسار یہ ذمہ داری نبھا رہا ہے اور طلبا میں اُردو زبان کے تئیں محبت پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
شعبۂ اردو میں وقتاً فوقتاً اساتذہ کی کمی کے سبب مسائل پیدا ہوئے، پھر بھی ڈاکٹر محمد شمیم احمد نے عرصہ دراز تک شعبہ کی آبیاری کی۔ بعد میں انھیں ویر کنور سنگھ یونیورسٹی کے پی جی ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داریوں کے سبب یہاں سے جانا پڑا۔ ڈاکٹر فصیح الزماں کی کارکردگی بھی حوصلہ بخش رہی، جو مگدھ یونیورسٹی سے صدر شعبہء اردو اور ڈین آف فیکلٹی کے عہدے پر فائز ہو کر سبکدوش ہوئے۔ 2013 کے بعد تقریباً 7 سال کے خلاء کو میری تقرری نے پُر کیا۔ میں نے اس شعبہ کے ساتھ درپیش چیلنجز کو قبول کیا اور تب سے شعبہ کو فعال اور اردو کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں رہا ہوں۔ 2020 میں حالات اس لیے بھی دگرگوں تھے کیونکہ کورونا نے قہر برپا کر رکھا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری مسلسل محنت شاقہ نے رنگ لایا اور حالات دھیرے دھیرے بہتر ہوتے چلے گئے۔ اُردو سے تو میں محبت کرتا ہی تھا، بھبھوا شہر اور ’سردار ولبھ بھائی پٹیل کالج‘ سے بھی میری انسیت بڑھی۔ طلباء کو تعلیم کی طرف راغب کیا، بالخصوص اردو ادب کے تئیں ان میں دلچسپی پیدا کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اردو کے طلبا و طالبات کی حاضری آج اطمینان بخش ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ میری رہنمائی میں اردو کے کچھ طلبا برسر روزگار بھی ہوئے ہیں۔

ایک تقریب میں شمع روشن کرتے ہوئے ڈاکٹر اشہد کریم (بائیں) اور دیگر معززین
آپ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر ہیں اور اس شعبہ کے تنہا استاد ہیں۔ یعنی تدریسی و غیر تدریسی سبھی ذمہ داریاں تنہا انجام دینی پڑتی ہوں گی۔ یہ آپ کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے؟
جہاں تک تدریسی ذمہ داری کا سوال ہے، اس کا ذکر میں نے پہلے ہی کر دیا۔ حالانکہ کچھ باتیں غور طلب ضرور ہیں۔ ظاہر ہے تنہا کسی شعبہ کو چلانا بے شمار دشواریوں سے بھرا کام ہے۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ میں نے تدریسی خدمات اور صدر شعبۂ اردو کے علاوہ بھی کئی فرائض انجام دیے۔ مثلاً اسپورٹس کی ذمہ داریاں بھی میں نے کالج اور یونیورسٹی سطح پر انجام دیں، جو ایک نہایت الگ تجربہ رہا۔ میں ویر کنور سنگھ یونیورسٹی کی کرٹ ٹیم کا منیجر رہا، سلیکشن کمیٹی میں رہا اور کالج کے کھیل کی تمام ذمہ داریاں بھی 2 سال تک نبھائیں۔ پھر اردو کی تدریسی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے اس سلسلے کو منقطع کرنا پڑا۔
میری ہمیشہ کوشش رہی کہ نصابی تعلیم کے علاوہ بھی بچوں میں ادبی ذوق پیدا کیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ضلعی سطح کے مسابقوں میں طلباء نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کالج میگزین میں پہلے اردو کے طلباء کی شرکت نہیں ہوتی تھی، میں نے اسے لازمی کیا اور بچوں سے اچھے مضامین لکھوائے۔ طلبا میں شاعری کے تئیں بھی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عروض جیسے پھیکے مضمون کو بھی اب کچھ بچے دلچسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ریسرچ اسکالرز بھی میری نگرانی میں اپنے تحقیقی مراحل بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ جہاں تک مشکلوں کی بات ہے تو بقول غالب:
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں
سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ کام کرنا چاہتے ہیں تو آسانی پیدا کر ہی لیں گے، ورنہ شکایتیں کرتے کرتے وقت گزارنا کوئی مشکل نہیں۔ میں تو یہاں اردو زبان میں پوسٹ گریجویٹ کے لیے بھی کمر بستہ ہوں اور پرنسپل صاحب سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اس کالج میں پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ وہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور بھی کر رہے ہیں۔
بہار میں اُردو زبان کے تحفظ کے لیے کئی تحریکیں چل رہی ہیں۔ اُردو کی اس زبوں حالی کا ذمہ دار آپ کسے مانتے ہیں؟
بہار میں اردو زبان کی یوں تو کئی تحریکیں چل رہی ہیں، لیکن میرے خیال سے ان میں بہت کم ایسی تحریکیں ہیں جو عملی طور پر کوشاں ہیں اور ان کی محنت میں خلوص شامل ہے۔ ایک ایسی ہی تحریک کے نمائندہ کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ بھبھوا میں اردو بیداری کے تعلق سے ایک پروگرام تھا اور ایک نمائشی کردار کے حضرت پٹنہ سے اسے لیڈ کر رہے تھے۔ مجھے اس کی کوئی خبر نہیں تھی۔ سہسرام کے کسی کالج کے پالیٹکل سائنس کے ایک پروفیسر بھی ان کے ساتھ تھے، جن سے اتفاقاً میری بھی شناسائی تھی۔ ان کا فون آیا کہ– میں بھبھوا کے ایک پروگرام میں شامل ہوں، آپ سے ملاقات کا متمنی ہوں۔ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ پروگرام اردو بیداری کے تعلق سے ہے۔ مجھے بھی اس پروگرام میں کچھ بولنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے جب پروگرام سے بے خبری کا اظہار کیا تو ان صاحب کو بڑا ناگوار محسوس ہوا۔ ایسا نہیں کہ سبھی ایسے ہیں۔ جو لوگ زمینی سطح پر اردو کے لیے کام کر رہے ہیں، بے شک وہی اردو کے سچے خادم ہیں۔ زبان اپنے چاہنے والوں سے زندہ رہتی ہے۔ اردو کے تعلق سے جن کی جو ذمہ داریاں بنتی ہیں، اگر وہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کر رہے ہیں تو وہی اردو کے سچے سپاہی اور اچھے خادم ہیں۔
جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

ایک ادبی تقریب میں ڈاکٹر اشہد کریم الفت (دائیں) و دیگر ادبی شخصیات کی شرکت
آپ کی ’اردو ادب‘ پر گہری نظر ہے۔ کیا افسانوی و شعری ادب کے موجودہ منظرنامے سے آپ مطمئن ہیں؟
موجودہ اردو ادب بے حد فعال ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے تسلیم کریں۔ موجودہ عہد کسی کی تخلیقی قوت کو تسلیم کرنے میں بے حد کنجوسی والا اور منافقانہ رویہ رکھتا ہے۔ آج ہم جدید تخلیقی بصیرتوں سے دور ہیں، نئے اذہان کو پڑھنا نہیں چاہتے، اور یہ خوش آیند بات نہیں ہے۔ میر و غالب کی شخصیت اور شاعری عظیم تر ہے، لیکن غزل نے اکیسویں صدی میں قدم رکھ دیا ہے تو اکیسویں صدی کی شاعری بھی پڑھنی ہوگی۔ موجودہ دور کی شاعری، تنقید، فکشن، مضامین سب کچھ از سر نو مطالعہ چاہتی ہے۔ نئی تحریروں کو پڑھے بغیر کچھ حضرات اپنی انا کے زعم میں ٹاٹ باہر کر دینا چاہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں جدید تخلیقی قوت سے پوری طرح مطمئن ہوں۔ یہی مستقبل کے آفتاب و ماہتاب اور روشن ستارے ہیں۔
