انٹرویو: خواتین حقوق کے بغیر افغان جمہوریت نامکمل رہے گی، خاتون سیاستدان فوزیہ کوفی

بیگم فوزیہ کوفی نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم میں ایک خاتون رکن کے طور امید رکھتی ہوں کہ افغانستان میں خواتین حقوق کی بات صرف خواتین نہ کریں، خواتین حقوق جمہوریت اور اظہار آزادی سے جڑے ہیں۔

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

کابل: افغانستان کی بزرگ خاتون سیاستدان فوزیہ کوفی کا کہنا ہے کہ خواتین حقوق کے بغیر افغانستان میں جمہوریت مکمل نہیں ہو سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دبئی سے عربی میں نشریات پیش کرنے والے پین عرب العربیہ نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ یہ انٹرویو انھوں نے گزشتہ مہینے خود پر ناکام قاتلانہ حملے سے کچھ دیر پہلے دیا تھا۔

فوزیہ کوفی افغانستان میں خواتین حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں میں نمایاں نام ہے اور طالبان سے مذاکرات کرنے والی افغان ٹیم کا حصہ ہیں۔ کابل میں 15 اگست کو نامعلوم بندوق برداروں کے حملے میں انہیں معمولی زخم آئے۔ حملے سے قبل فوزیہ کوفی نے العربیہ کی سینئر اینکر پرس ميسون نويهض کو تفصلی انٹرویو دیا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بیگم فوزیہ کوفی نے کہا کہ ’’معاہدے کے کسی بھی مرحلے پر خواتین ایشو کو شامل کیا جانا ضروری ہے، کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق اظہار آزادی، سیاسی جلسے جلوس اور سیاسی شراکت ایسے معاملات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر آپ اس عمل میں خواتین حقوق فراموش کر دیتے ہیں تو یہ نامکمل جمہوریت کی مثال ہو گی۔ اس کا نتیجہ ہماری آزادی اور اقدار کی تاراجی کی صورت میں نکلے گا۔‘‘

بیگم کوفی پر حملے کو افغان حکام نے قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا، تاہم طالبان کے ترجمان نے اس میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کیا تھا۔ فوزیہ کوفی افغان حکومت کی اس ٹیم کی رکن ہیں جسے طالبان سے مذاکرات کے بعد ایک ایسا معاہدہ کرنے کا اختیار سونپا گیا ہے جس کی روشنی میں اٹھارہ برسوں سے جنگ کی آگ میں جلنے والے ملک میں طویل المیعاد جنگ بندی معاہدہ تشکیل پائے گا۔ افغان حکومت کی نمائندگی کرنے والی ٹیم میں فوزیہ سمیت پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔

بیگم فوزیہ کوفی نے کہا کہ ’’مذاکراتی ٹیم میں ایک خاتون رکن کے طور امید رکھتی ہوں کہ افغانستان میں خواتین حقوق کی بات صرف خواتین نہ کریں۔ خواتین حقوق جمہوریت اور اظہار آزادی سے جڑے ہیں۔ نیز ان کا براہ راست تعلق افغانستان کے مستقبل سے بھی ہے۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کے معاملات، خواتین تک محدود نہیں۔ یہ تمام اقدار سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

(بشکریہ العربیہ اردو)

next