بھوک سے اموات کی وجہ حکومتیں اور بے حس سماج: ہرش مندر

سماجی کارکن ہرش مندر کا کہنا ہے کہ غریبوں کو جتنی سبسیڈی حکومت دیتی ہے اس کا تین گنا متوسط طبقہ کو ملتا ہے اور کارپوریٹ کو کئی ہزار گنا ملتا ہے، پھر بھی غریبوں کی سبسیڈی کم کرنے کی بات ہوتی ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

بھاشا سنگھ

’کھانے کا حق‘ قانون بننے کے عمل میں پیش پیش رہے سماجی کارکن ہرش مندر کا ماننا ہے کہ دہلی میں بھوک سے ہوئی 3 بچیوں کی موت جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ حالانکہ اس واقعہ سے انھیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ ہرش مندر مانتے ہیں کہ سماج کے طور پر ہم غریبوں کے تئیں پوری طرح بے حس ہو گئے ہیں۔ اس واقعہ پر ’قومی آواز‘ کے لیے بھاشا سنگھ نے ہرش مندر سے بات کی۔ پیش ہیں اس کے اہم اقتباسات...

دہلی میں تین بچیوں کی بھوک سے موت کے واقعہ نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ سوال ہے کہ ملک کی راجدھانی میں بھی کوئی کیوں انھیں بچانے نہیں آیا؟

بہت سے لوگوں کو حیرانی ہوئی کہ دہلی میں ایسا کیوں ہوا، لیکن مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ میں 15 سال سے بے گھر لوگوں کے درمیان کام کرتا آ رہا ہوں اور جس طرح کی بدحالی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اس پر غور کریں تو پائیں گے کہ غریبی ہمارے گھروں کے باہر، سڑکوں پر ہے، لیکن ہم اسے دیکھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک بے حس سماج بنایا ہے۔ راجدھانی میں پیسے والوں کی کمی نہیں اور ترقی بھی خوب ہے لیکن ان کے بیچ غریبی بھی خوب ہے، لیکن اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس کی بڑی وجہ آپ کیا مانتے ہیں؟

بے حس سماج اور بے حس حکومت اس کی بڑی وجہ ہے۔ اگرواقعتاً وجہ تلاش کریں تو 10 ایسے ہندوستانی ہیں جو مہاجر مزدور ہیں یعنی یہ مزدوری کے مقصد سے کہیں نہ کہیں لگاتار ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ گاؤں سے پوری طرح کٹتے نہیں کیونکہ ان کی آمد و رفت بنی رہتی ہے۔ ایسے مزدوروں کے تعلق سے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انھیں بسانا اور سہولت دینا کسی کے ایجنڈے میں نہیں ہوتا۔ یہ لوگ (سرکولر مائیگرینٹ) ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے اور رہتے ہیں۔ کام کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ہمارے قانونی نظام میں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔

ہم نے فوڈ سیکورٹی قانون بنایا، اس کے تحت 5 کلو اناج فی کس ملنا چاہیے۔ اب اس فیملی میں تین بیٹیاں تھیں تو 25 کلو اناج ملنا چاہیے تھا۔ راشن کارڈ یہاں کا نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ لوگ جہاں  کے ہوں گے وہاں ان لوگوں کا راشن کارڈ بنا ہوگا۔ اب سوال اٹھتا ہے پورٹیبلٹی کا، حقوق کو اپنے ساتھ لے جانے کا۔ آپ جہاں جائیں وہاں کسی بھی ریاست سے بنا راشن کارڈ دکھائیں اور اناج پائیں۔ ہجرت کرنے والے مزدوروں کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔ بچے جہاں بھی ہیں وہیں کے آنگن باڑی میں جائیں، خواتین کو ماں بننے سے متعلق سہولیات ملیں وغیرہ۔

لیکن ایسا ہے نہیں۔ اگرہم اتنے بڑے ملک میں اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکالتے ہیں تو یہ بہت شرمناک ہے۔ یہان اکاؤنٹنگ کا مسئلہ ہے، ریاست کہے گی کہ انھیں ان کی ریاست میں درج بی پی ایل کارڈ ہولڈروں کے حساب سے اناج ملتا ہے، وہ دوسری ریاستوں کے لوگوں کو اناج نہیں دے سکتے۔ میری سمجھ سے شہریوں کو بھوکے مارنے، ان کے حقوق سے محروم کرنے کی جگہ حقوق کی منتقلی کرنے کی سہولت ہونی چاہیے۔

غریبوں کی سماجی سیکورٹی لگاتار کم ہوتی جا رہی ہے، کیوں؟

اس فیملی کی بھی پریشانی یہی ہے۔ بچوں کی ماں ذہنی طور پر معذور ہے، والد کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ہے، لیکن یہ پتہ ہے کہ وہ رکشہ چلاتا ہے اور نشہ بھی کرتا ہے۔ دراصل سماج اور حکومت کا ایک نظام ہونا چاہیے جو انھیں سماجی سیکورٹی مہیا کرے، دیکھ بھال کرے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان بچوں اور ماں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے نہ ہی سماج تیار ہے اور نہ ہی حکومت۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ کسی بھی ترقی پذیر، حساس سماج میں حکومتیں اس کی ذمہ داری لیتی ہیں۔ یہاں ماں کا ذہنی طور پر کمزور ہونا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کہیں کسی کو انسانی قدروں سے سروکار نہیں ہے۔ ایسا نہیں کہ دنیا میں ایسے ممالک نہیں ہیں جو ایسے قدم نہیں اٹھاتے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو یہ تمام سیکورٹی اور حقوق مہیا کرائے۔

حکومت کا کیا کردار دیکھتے ہیں؟

یہ صرف موجودہ حکومت کی ہی ذمہ داری نہیں ہے، پہلے کی حکومتوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ کھانے کا حق کے تحت 80 کروڑ لوگوں کے کھانے کا انتظام ہوا ہے۔ لیکن ابھی بھی جو گاندھی جی کا جو آخری عوام ہے، وہ اس سیکورٹی اور حقوق کے دائرے میں نہیں آیا ہے۔ کئی حکومتوں نے ان لوگوں کو کھانا پہنچانے کا کام کیا ہے، اس میں تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا نے ’اماں کینٹین‘ شروع کی تھی جس میں پانچ روپے میں اچھا اور غذائیت سے بھرپور کھانا ملتا ہے۔ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ اکیلا بچہ 5 روپے لے کر کھانا کھانے آتا تھا۔ اس طرح کے انتظام حکومتوں کو کرنے چاہئیں۔

بھوک سے موت کی بات قبول کرنے پر اتنا ہنگامہ کیوں مچتا ہے؟

بھوک سے موت کے معاملے میں غلط سوچ اور سمجھ ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بھوک سے موت ہونے کا مطلب ہے کہ پیٹ میں ایک دانہ اناج کا نہ ہونا۔ اس لیے اس سے بچنے کے لیے موت کے بعد انتظامیہ گھر میں اناج کی دستیابی ظاہر کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ میں تقریباً 12-10 سال سپریم کورٹ کی طرف سے کھانے کا حق معاملے میں فوڈ کمشنر تھا اور میں نے ملک بھر میں دیکھا ہے کہ جیسے ہی بھوک سے موت ہوتی ہے تو حکومتیں بتانے لگتی ہیں کہ مہلوک کے پیٹ میں اناج تھا، گھر میں راشن تھا۔ یہ بھوک کی غلط سمجھ ہے۔

زندہ رہنے کے لیے جتنی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جتنا کھانا ضروری ہے وہ طویل مدت تک نہ ملنے کی وجہ سے بھوک سے موت ہوتی ہے۔ اس لیے ہمارا کہنا ہے کہ ایسی اموات میں پوسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سےفیملی کی پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں تو دو دو بار پوسٹ مارٹم کیا گیا کیونکہ حکومت انھیں بھوک سے ہوئی موت نہیں ماننا چاہتی۔ لیکن ان تینوں بچیوں کی حالت یہ ہے کہ دو بار پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد بھی وہ ایک دانہ اناج کا نہیں ڈھونڈ پائے اورتھوڑی سی بھی چکنائی نہیں ملی۔ یعنی انھیں واقعی میں کچھ نہیں ملا تھا۔

پاس پڑوس کا کوئی شخص بچوں کو بچانے نہیں آیا، اس پر کیا کہیں گے؟

کسی کو کوئی پروا نہیں۔ حکومت اور سماج دونوں کی بے حسی ہے۔ دہلی میں جو بھی حکومتیں آئیں سب یہ کہتی ہیں کہ پانچ سال دہلی میں رہائش کا کاغذ ہوگا تبھی منصوبوں کا فائدہ ملے گا۔ یہ شرائط غریبوں کو توڑ دیتا ہے۔ آج غریب ہونا سب سے بڑا جرم ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کی حالت خراب ہورہی ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟

گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہم بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ ہم سال 2000 میں 85ویں مقام پر تھے اور آج 100ویں مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ ہماری حالت بقیہ ممالک کے مقابلے میں لگاتار خراب ہوتی جا رہی ہے۔ وہیں ایز آف بزنس میں ہندوستان ایک دورینک کم ہوا تو وزیر اعظم سے لے کر تمام وزراء فکر مند ہو گئے، میٹنگیں شروع ہو گئیں۔ لیکن گلوبل ہنگر انڈیکس میں بدتر ہوتے حالات سے کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہندوستان سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت ہے پھر بھی ہم بھوکے ملک کی شکل میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہندوستان کا ہر تیسرا بچہ عدم غذائیت کا شکار ہے۔ یہی نہیں دنیا کا ہر تیسرا عدم غذائیت کا شکار بچہ ہندوستان سے ہے۔ یہ ہے ہماری ترقی۔

غریبوں کی سبسیڈی کم کرنے پر ہی سارا سیاسی زور ہے...

آپ نے بالکل درست فرمایا۔ یہ سب سے بڑی ناانصافی ہے۔ غریبوں کو جتنی سبسیڈی دیتے ہیں اس کا تین گنا متوسط طبقہ کو ملتا ہے اور کارپوریٹ کو تو کئی ہزار گنا ملتا ہے۔ بھوک سے لڑنے، غریبوں کو حقوق دینے کا سیاسی عزم بالکل بھی نہیں ہے اور نہ ہی سماج اس کے لیے تیار ہے۔